لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)جدید ٹیکنالوجی کے معروف ماہر ایلون مسک کا کہنا ہے کہ بڑھاپا کوئی ایسا قدرتی معمہ نہیں جو ہمیشہ انسان کی سمجھ سے باہر رہے، بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل سائنس مستقبل میں تلاش کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق وہ وقت دور نہیں جب انسان بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے، روکنے یا حتیٰ کہ کسی حد تک واپس موڑنے کے قابل ہو جائے گا۔
ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ عمر بڑھنے کا عمل کسی پراسرار قوت کا نتیجہ نہیں۔ ان کے بقول جیسے ہی سائنس دان بڑھاپے کی بنیادی وجہ تک پہنچ جائیں گے، یہ عمل توقع سے کہیں زیادہ سادہ اور قابلِ فہم دکھائی دے گا۔
ایلون مسک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جسم ایک منظم نظام کے تحت عمر رسیدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا، ’’میں نے کبھی کسی انسان کو ایک بازو سے بوڑھا اور دوسرے سے جوان نہیں دیکھا۔‘‘ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جسم کے اندر کہیں ایک ایسی اندرونی گھڑی موجود ہے جو کھربوں خلیوں کو بیک وقت بڑھاپے کا اشارہ دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس دن سائنس دان اس اندرونی نظام کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے، اسی دن بڑھاپے کے مسئلے کا حل بھی سامنے آ سکتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے، اصل چیلنج صرف بنیادی وجہ تک رسائی ہے۔
ایلون مسک اس سے قبل ’ڈیجیٹل لافانیّت‘ کا تصور بھی پیش کر چکے ہیں، جس کے تحت انسان اپنی یادیں، تجربات اور زندگی کی کہانیاں کمپیوٹر میں محفوظ کر سکے گا، تاکہ جسمانی زندگی کے اختتام کے بعد بھی انسان کی سوچ اور داستان کسی نہ کسی صورت زندہ رہے۔ مسک کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ معلومات خلا میں بھی منتقل کی جا سکتی ہیں۔
تاہم ایلون مسک نے طویل عمر کے ممکنہ نقصانات کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق اگر انسان غیر معمولی حد تک طویل عرصہ زندہ رہنے لگے تو معاشرے جمود کا شکار ہو سکتے ہیں، نئے خیالات کو آگے آنے میں رکاوٹ پیش آ سکتی ہے اور طاقت و اختیار چند ہاتھوں تک محدود ہو جانے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ کسی حد تک موت کا وجود بھی فطری توازن کے لیے ضروری ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا رفتہ رفتہ بے جان اور ساکت ہو سکتی ہے۔
اگرچہ اس نشست میں بڑھاپے کے حل سے متعلق کوئی واضح منصوبہ یا وقت کی حد بیان نہیں کی گئی، تاہم ایلون مسک کے خیالات نے ایک بار پھر انسان، سائنس اور زندگی کے مستقبل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک کا یہ مؤقف کہ بڑھاپا کوئی ناقابلِ فہم قدرتی راز نہیں بلکہ ایک حل طلب سائنسی مسئلہ ہے، جدید دنیا کی اُس سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جو ہر حد کو چیلنج کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ خیال بظاہر انقلابی محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا انسان واقعی زندگی کے ہر مرحلے پر مکمل اختیار حاصل کرنا چاہتا ہے، یا کچھ حدود کا برقرار رہنا بھی ضروری ہے؟
سائنس کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو عمل کبھی فطری اور ناگزیر سمجھا جاتا تھا، آج وہ قابلِ علاج بن چکا ہے۔ امراض، اوسط عمر میں اضافہ اور انسانی جسم کے رازوں کی دریافت اس سفر کی مثالیں ہیں۔ ایسے میں بڑھاپے کو ایک قابلِ حل مسئلہ قرار دینا غیر منطقی نہیں، بلکہ سائنسی پیش رفت کا فطری تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم یہاں سوال یہ نہیں کہ سائنس بڑھاپے کو سمجھ سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس سمجھ کے بعد انسان اس طاقت کو کیسے استعمال کرے گا۔
ایلون مسک کی جانب سے انسانی جسم میں ایک ’’اندرونی گھڑی‘‘ کا تصور نہایت اہم ہے۔ اگر واقعی کوئی ایسا حیاتیاتی نظام موجود ہے جو کھربوں خلیوں کو ایک ساتھ عمر رسیدہ ہونے کا پیغام دیتا ہے تو اس کی شناخت طب اور جینیات میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی اخلاقی، معاشرتی اور معاشی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کیا یہ ٹیکنالوجی سب کے لیے دستیاب ہوگی یا صرف چند طاقتور طبقات تک محدود رہے گی؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں مسک خود خبردار کرتے نظر آتے ہیں۔ غیر معمولی طویل عمر اگر ایک طبقے تک محدود ہو جائے تو معاشرے میں عدم توازن مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ طاقت، دولت اور فیصلے چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں گے، جبکہ نئی نسل کے خیالات اور قیادت کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تبدیلی کا عمل سست پڑ جائے تو معاشرے جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔
’ڈیجیٹل لافانیّت‘ کا تصور بھی اسی بحث کو ایک نئی سمت دیتا ہے۔ یادوں اور تجربات کو محفوظ کرنا بظاہر علم کے تسلسل کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر کیا انسانی شعور محض ڈیٹا میں سمٹ سکتا ہے؟ یہ سوال فلسفہ، نفسیات اور مذہب تینوں میدانوں میں ایک گہری بحث کو جنم دیتا ہے۔ انسان کی شناخت صرف یادوں کا مجموعہ ہے یا اس سے کہیں بڑھ کر بھی کچھ ہے؟
مسک کا یہ کہنا کہ ’’کسی حد تک موت کا ہونا فائدہ مند ہے‘‘ دراصل ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ اعتراف ہے۔ فطرت کا توازن صرف زندگی سے نہیں بلکہ اختتام سے بھی قائم رہتا ہے۔ نسلوں کی تبدیلی ہی نئے خیالات، نئی اقدار اور نئی سمتوں کو جنم دیتی ہے۔ اگر یہ عمل رک جائے تو ترقی بھی سست پڑ سکتی ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ بڑھاپے کو سمجھنا اور اس کے اثرات کو کم کرنا ایک مثبت سائنسی ہدف ہو سکتا ہے، مگر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا خواب انسان کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں سائنس اور اخلاقیات کا تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنا طویل جی سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس اضافی زندگی کے ساتھ کیا کرے گا۔





















