پنجابی فلم انڈسٹری کی صفِ اول کی اداکارہ سونم باجوہ نے پہلی بار اس وجہ پر تفصیل سے بات کی ہے جس کے باعث وہ بالی ووڈ میں قدم رکھنے کے باوجود کئی بڑی فلمی آفرز سے محروم رہیں۔ ان کے انکشاف نے شوبز انڈسٹری میں فنکاروں کو درپیش سماجی دباؤ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سونم باجوہ نے انکشاف کیا کہ انہیں بالی ووڈ کی متعدد فلموں کی پیشکش ہوئی، تاہم انہوں نے صرف اس وجہ سے یہ آفرز مسترد کر دیں کیونکہ ان فلموں میں بوسے اور قریبی مناظر شامل تھے۔
سونم کے مطابق اس وقت ان کے ذہن میں سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ پنجاب کے ناظرین اور خاص طور پر ان کا خاندان ایسے مناظر کو کس نظر سے دیکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں خاندان اکٹھے فلمیں دیکھتے ہیں، اس لیے وہ کسی بھی متنازع سین کا حصہ بننے سے گھبرا رہی تھیں۔
اداکارہ نے اعتراف کیا کہ اسی خوف اور تذبذب کے باعث انہوں نے بغیر زیادہ غور و فکر کے کچھ بڑے مواقع گنوا دیے، جن کا احساس انہیں وقت گزرنے کے ساتھ شدت سے ہوا۔
سونم باجوہ نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے بعد میں اس معاملے پر اپنے والدین سے بات کی تو ان کا ردعمل ان کی توقع کے بالکل برعکس تھا۔
اداکارہ کے مطابق ان کے والدین نے انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ اگر کسی فلم کا تقاضہ ہو تو ایسے مناظر فلمانے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ اداکاری کا حصہ ہوتا ہے۔
سونم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاش وہ یہ بات پہلے ہی گھر والوں سے کر لیتیں تو شاید ان کے کیریئر کے کئی اہم مواقع ضائع نہ ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات فنکار خود ہی اپنے ذہن میں خوف پیدا کر لیتے ہیں جو آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
واضح رہے کہ سونم باجوہ آج بھی پنجابی سینما کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور ان کی فلمیں باکس آفس پر کامیاب سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرین کی رائے
شوبز تجزیہ کاروں کے مطابق برصغیر میں فنکاروں کو سماجی اور خاندانی دباؤ کے باعث کئی بار اپنے کیریئر کے اہم فیصلوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اداکاری اور ذاتی اقدار کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم واضح مکالمہ اور خاندانی اعتماد اس مسئلے کا مؤثر حل ہو سکتا ہے۔
سونم باجوہ کا انکشاف صرف ایک اداکارہ کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ یہ پورے خطے کی شوبز انڈسٹری کا المیہ ہے، جہاں فنکار اکثر سماجی ردعمل کے خوف سے بڑے مواقع کھو بیٹھتے ہیں۔
یہ اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی رکاوٹ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خوف ہوتا ہے۔ اگر فنکار اور خاندان کے درمیان اعتماد اور مکالمہ مضبوط ہو تو کئی صلاحیتیں عالمی سطح پر خود کو منوا سکتی ہیں۔
سونم کا یہ بیان نوجوان فنکاروں کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ فیصلے کرنے سے پہلے حقائق پر بات کرنا اور خودساختہ خوف سے نکلنا ضروری ہے۔





















