کراچی : (خصوصی رپورٹ – غلام مرتضیٰ) کراچی میں یخ بستہ سرد ہواؤں نے موسم یکسر تبدیل کر دیا ہے جس کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شدید سرد لہر کے دوران ذرا سی غفلت بچوں، بزرگوں اور دل کے مریضوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
بچوں کو موٹر سائیکل کی ٹنکی پر بٹھانا خطرناک عمل
پاکستان لیڈی ہیلتھ ایسوسی ایشن سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی نے موجودہ موسم پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرد ہواؤں کے باعث خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں کو غیر معمولی خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے والدین کو سختی سے ہدایت کی کہ بچوں کو موٹر سائیکل کی ٹنکی پر ہرگز نہ بٹھایا جائے۔
ان کے مطابق صبح اور شام کے اوقات میں براہِ راست سرد ہوائیں بچوں کے سینے، ناک، کان اور چہرے پر اثر انداز ہوتی ہیں جو نزلہ، زکام، بخار اور نمونیا جیسے امراض کا سبب بن سکتی ہیں۔
نوزائیدہ بچوں اور ماؤں کے لیے خصوصی ہدایات
پروفیسر وسیم جمالوی نے کہا کہ گھروں میں موجود نوزائیدہ بچوں کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھا جائے۔ انہوں نے بریسٹ فیڈ کرانے والی ماؤں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ ٹھنڈے یا نارمل پانی سے پرہیز کریں اور نیم گرم پانی کا استعمال اپنائیں تاکہ بچے کو سردی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ معمولی لاپرواہی نوزائیدہ بچوں میں فوری طور پر نزلہ، بخار اور سانس کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
بزرگ اور کمزور افراد گھروں تک محدود رہیں
ماہرِ اطفال پروفیسر خالد شفیع نے کہا کہ بچوں اور ضعیف العمر افراد کو اس شدید سرد موسم میں گھروں تک محدود رکھا جائے۔ انہوں نے والدین کو ہدایت کی کہ بچوں کو رات کے وقت تقریبات میں لے جانے سے گریز کریں کیونکہ رات کے اوقات میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بچوں کو نیم گرم پانی پلانے اور گھروں میں ہی رکھنے پر زور دیا۔
نمونیا کے کیسز میں اضافہ، احتیاط ناگزیر
طبی ماہرین کے مطابق سرد موسم میں لاپرواہی کے باعث بچوں میں نمونیا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے ماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ گرم مشروبات، گھر میں تیار کی جانے والی یخنی اور سوپ کا استعمال بڑھائیں اور کھٹی اشیا سے پرہیز کریں۔
دل کے مریضوں کے لیے سرد موسم خطرناک
امراضِ قلب کے ماہر ڈاکٹر حمید اللہ ملک نے بتایا کہ سرد موسم میں جسم میں خون کی روانی سست ہو جاتی ہے جس سے دل کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے دل کے مریضوں کو ہدایت کی کہ سینہ سرد ہواؤں سے محفوظ رکھیں اور نیم گرم پانی کا باقاعدہ استعمال کریں۔
ان کے مطابق بائی پاس کروانے والے مریضوں کو اس موسم میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے اور گھر کے اندر ہلکی واک جاری رکھنی چاہیے۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کا متفقہ کہنا ہے کہ شدید سرد لہر کے دوران بچوں کو غیر محفوظ طریقے سے موٹر سائیکل پر بٹھانا، بغیر سر ڈھانپے اسکول بھیجنا اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال سنگین بیماریوں کو دعوت دے سکتا ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نہ صرف بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جان کا تحفظ بھی ممکن ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں روزمرہ زندگی کی مصروفیات کے باعث والدین اکثر سہولت کو ترجیح دیتے ہیں اور بچوں کو موٹر سائیکل کی ٹنکی پر بٹھا کر اسکول یا دیگر مقامات پر لے جاتے ہیں۔ مگر موجودہ شدید سرد لہر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ معمولی سہولت بڑی طبی ایمرجنسی میں بدل سکتی ہے۔
طبی ماہرین کی وارننگ محض مشورہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگر والدین نے اب بھی لاپرواہی برتی تو آئندہ دنوں میں اسپتالوں میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ سرد موسم وقتی ہے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں۔





















