مہاراشٹرا میں چارٹرڈ طیارہ حادثہ، نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد ہلاک

میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں

نئی دہلی/پونے:بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں ایک چارٹرڈ طیارہ کریش لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ ضلع پونے کے علاقے بارہ متی میں پیش آیا، جہاں طیارہ لینڈنگ کے دوران کنٹرول کھو بیٹھا اور حادثے کا شکار ہو گیا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طیارے میں مہاراشٹرا کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے علاوہ ان کے دو ساتھی اور عملے کے دو ارکان موجود تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کے وقت طیارے میں سوار کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچ سکا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا اور طیارے کے کریش ہونے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کریش لینڈنگ تکنیکی خرابی کے باعث ہوئی یا کسی اور وجہ سے یہ المناک حادثہ پیش آیا۔

ماہرین کی رائے

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق کریش لینڈنگ کے دوران پیش آنے والے حادثات عموماً تکنیکی خرابی، انسانی غلطی یا موسم کی خرابی کے باعث ہوتے ہیں، تاہم حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چارٹرڈ طیارے اکثر محدود رن ویز یا چھوٹے ایئر اسٹرپس پر لینڈ کرتے ہیں، جہاں معمولی غلطی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

فضائی تحفظ کے ماہرین کے مطابق حادثے میں کسی بھی مسافر کا زندہ نہ بچنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طیارہ زمین سے ٹکرانے کے بعد شدید نقصان کا شکار ہوا ہوگا۔ ماہرین نے زور دیا کہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے بلیک باکس، فلائٹ ڈیٹا اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی ریکارڈنگ کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حادثات ایوی ایشن سیفٹی پروٹوکولز پر نظرثانی کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں، خاص طور پر وی آئی پی پروازوں کے لیے حفاظتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

مہاراشٹرا میں پیش آنے والا یہ فضائی حادثہ نہ صرف ایک المناک انسانی سانحہ ہے بلکہ بھارتی ایوی ایشن نظام کے لیے بھی ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ نائب وزیراعلیٰ جیسے اہم سیاسی عہدے پر فائز شخصیت کی ہلاکت اس واقعے کو معمول کے حادثے سے کہیں زیادہ حساس بنا دیتی ہے۔

یہ حادثہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ وی آئی پی پروازوں کے لیے حفاظتی انتظامات کس حد تک مؤثر ہیں۔ اگرچہ ابتدائی طور پر وجوہات سامنے نہیں آ سکیں، مگر بھارت میں ماضی کے فضائی حادثات یہ بتاتے ہیں کہ تکنیکی معائنہ، پائلٹ ٹریننگ اور لینڈنگ انفراسٹرکچر پر کسی بھی قسم کی کوتاہی بھاری قیمت وصول کر سکتی ہے۔

سیاسی طور پر بھی یہ واقعہ مہاراشٹرا کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، کیونکہ اجیت پوار ایک اہم اور بااثر سیاسی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ ان کی اچانک موت نہ صرف حکومتی ڈھانچے بلکہ عوامی اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔

اب سب کی نظریں تحقیقات پر مرکوز ہیں۔ اگر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ ہوئیں تو یہ حادثہ محض ایک خبر بن کر رہ جائے گا، جبکہ اصل مقصد مستقبل میں ایسے سانحات کو روکنا ہونا چاہیے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ فضائی تحفظ میں معمولی غفلت بھی ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین