سونے کی قیمت میں ایک دن میں 21 ہزار روپے کا تاریخی اضافہ، نئے ریکارڈ قائم

پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر

عالمی اور مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں نے نئی تاریخی بلندیوں کو چھو لیا ہے، جہاں ایک ہی دن میں سونے کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں یکدم 211 ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد سونا 5 ہزار 293 ڈالر فی اونس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اس بڑے اضافے کے اثرات مقامی سطح پر بھی فوری طور پر سامنے آئے۔ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 21 ہزار 100 روپے کے نمایاں اضافے سے 5 لاکھ 51 ہزار 662 روپے کی نئی ریکارڈ سطح پر جا پہنچی۔

اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 18 ہزار 090 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 4 لاکھ 72 ہزار 961 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ فی تولہ چاندی کی قیمت 271 روپے بڑھ کر 11 ہزار 911 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی، جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 232 روپے اضافے کے بعد 10 ہزار 211 روپے کی سطح پر آ گئی۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے سرمایہ کاروں اور خریداروں کو حیران کر دیا ہے، جبکہ سونے اور چاندی کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے

معاشی اور کموڈیٹی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں حالیہ غیر معمولی اضافہ عالمی مالیاتی بے یقینی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھتے رجحان کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر افراطِ زر، بڑی معیشتوں کی مانیٹری پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال اور ڈالر پر دباؤ نے سونے کو ایک بار پھر محفوظ اثاثہ بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ایک ہی دن میں 211 ڈالر کا اضافہ معمول کی بات نہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیاس آرائی اور ہیجنگ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی کشیدگی اور معاشی دباؤ برقرار رہا تو سونے کی قیمتیں مزید بلند سطحیں بھی چھو سکتی ہیں۔

مقامی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجوہات عالمی نرخوں کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں کمزوری اور درآمدی لاگت میں اضافہ بھی ہیں، جس کے باعث فی تولہ قیمت 5 لاکھ 51 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی۔

سونے کی قیمت میں اچانک اور ہوش ربا اضافہ محض ایک مالی خبر نہیں بلکہ عالمی معیشت میں بڑھتی بے چینی کا واضح اشارہ ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی دنیا میں جنگ، سیاسی کشیدگی یا مالیاتی بحران کا خدشہ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار سونے کی طرف رخ کرتے ہیں، اور موجودہ صورتحال بھی اسی رجحان کی عکاس ہے۔

پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک میں اس اضافے کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ ایک طرف سرمایہ کار اور تاجر منافع دیکھ رہے ہیں تو دوسری جانب عام شہری کے لیے زیورات کی خرید مزید مشکل ہو گئی ہے۔ شادی بیاہ اور روایتی مواقع پر سونا خریدنا اب متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سونے کی بڑھتی قیمتیں روپے کی کمزوری اور مجموعی معاشی دباؤ کو بے نقاب کرتی ہیں۔ اگر عالمی سطح پر حالات جلد معمول پر نہ آئے تو سونا نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ معاشی بے یقینی کی علامت بن کر رہ جائے گا۔ آنے والے دنوں میں حکومت اور مالیاتی اداروں کے لیے یہ ایک سنجیدہ چیلنج ہوگا کہ وہ مہنگائی اور مارکیٹ کے دباؤ کو کس حد تک قابو میں لا پاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین