اسلام آباد:پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ نوشابہ بی بی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی شادی صرف 12 سال کی عمر میں ہو گئی تھی جبکہ وہ 14 برس کی عمر میں ماں بھی بن گئیں۔ اداکارہ کے مطابق ان کے شوہر عمر میں ان سے 23 سال بڑے تھے۔
پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی معروف فنکارہ، جن کا اصل نام جہان سلطانہ ہے، ماضی کے ڈراموں میں بالخصوص پشتون کرداروں کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ نوشابہ بی بی نے طویل عرصے تک پی ٹی وی اور پشتو ریڈیو کے لیے کام کیا اور ان کی فنی وابستگی کئی دہائیوں پر محیط رہی ہے۔
سوات سے تعلق رکھنے والی اداکارہ ہمیشہ ٹی وی اسکرین پر سر ڈھانپ کر نظر آئیں، جس کے باعث ناظرین میں ان کی شائستگی، وقار اور خوش گفتاری کو خاص مقام حاصل رہا۔ خیبر پختونخوا میں ان کی فین فالوونگ آج بھی نمایاں ہے۔
حال ہی میں ایک ڈیجیٹل میڈیا چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں نوشابہ بی بی نے اپنی ذاتی زندگی کے اس پہلو پر کھل کر بات کی، جس کا ذکر وہ عموماً کم ہی کرتی رہی ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ انہیں تعلیم، ملازمت یا کیریئر کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا کیونکہ ان کی شادی 12 سال کی عمر میں کر دی گئی تھی، اور اسی کم عمری میں انہوں نے ٹیلی وژن پر کام بھی شروع کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت گڑیوں سے کھیلنے کی عمر میں تھیں کہ اچانک انہیں بتایا گیا کہ گھر میں شادی ہے۔ ان کے مطابق انہیں صرف ایک لپ اسٹک دی گئی، جو انہیں بے حد پسند تھی، اور وہ اسی خوشی میں سب کچھ بھول گئیں۔
نوشابہ بی بی نے بتایا کہ وہ سہیلیوں کے درمیان خوشی خوشی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں، کیونکہ اس عمر میں بچوں کو یہ شعور ہی نہیں ہوتا کہ شادی کیا ہوتی ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب شادی کے بعد تمام مہمان واپس چلے گئے تو انہوں نے اپنی بھابھی سے کہا کہ انہیں ان کے گھر واپس بھیج دیا جائے۔ اداکارہ کے مطابق ان کے شوہر ان کے خالہ زاد تھے اور اس شادی کے لیے ان کی خالہ نے خاص طور پر اصرار کیا تھا، جبکہ دونوں کے درمیان عمر کا فرق 23 سال تھا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ 14 سال کی عمر میں ماں بن گئیں۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد مزاجاً کافی سخت تھے، تاہم ان کے شوہر نے ان کے اداکاری کے سفر میں ہمیشہ بھرپور تعاون کیا اور انہیں کام جاری رکھنے کی اجازت دی۔
نوشابہ بی بی کے اس انٹرویو کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ مل رہی ہے، جہاں صارفین کم عمری کی شادی جیسے حساس مسئلے پر کھل کر گفتگو کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
سماجی ماہرین اور ماہرینِ نفسیات کے مطابق کم عمری کی شادی ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے، جس کے اثرات عورت کی ذہنی، جسمانی اور سماجی زندگی پر گہرے ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 12 یا 14 سال کی عمر میں بچی نہ ذہنی طور پر شادی کے لیے تیار ہوتی ہے اور نہ ہی ماں بننے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کم عمری میں شادی اور زچگی نہ صرف صحت کے سنگین مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ تعلیم، کیریئر اور خود مختاری کے مواقع بھی چھین لیتی ہے۔ نوشابہ بی بی کا بیان اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ماضی میں سماجی دباؤ اور خاندانی فیصلے بچیوں کی زندگی کا رخ ان کی مرضی کے بغیر طے کر دیتے تھے۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج قانون سازی موجود ہے، مگر دیہی اور قبائلی علاقوں میں کم عمری کی شادی کا رجحان اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا، جس کے لیے شعور اور عمل دونوں کی ضرورت ہے۔
نوشابہ بی بی کا انٹرویو محض ایک اداکارہ کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کے سماجی ڈھانچے کا ایک تلخ عکس ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کم عمری کی شادی کو روایت سمجھا جاتا تھا اور بچیوں کی رائے یا مستقبل کو ثانوی حیثیت حاصل تھی۔
دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نوشابہ بی بی نے اسی کم عمری میں نہ صرف شادی بلکہ عملی زندگی اور شوبز کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ یہ ان کی ذاتی ہمت اور حالات سے سمجھوتے کی مثال تو ہے، مگر اسے کسی صورت ایک مثالی کہانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ انٹرویو آج کے معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔ اگرچہ وقت بدل چکا ہے، مگر کم عمری کی شادی جیسے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ نوشابہ بی بی کا اعتراف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قانون کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سوال سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کتنی زندگیاں ایسی ہیں جو کبھی اپنی مرضی سے شروع ہی نہیں ہو سکیں۔ اگر آج بھی ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں بھی یہی کہانیاں دہراتی رہیں گی۔





















