لاہور:لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ، داتا دربار کے قریب کھلے سیوریج مین ہول میں ماں اور بیٹی کے گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس نے شہر بھر میں شدید تشویش اور غم و غصے کی فضا پیدا کر دی۔ واقعے سے متعلق ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کو فیک نیوز قرار دیا گیا تھا، تاہم اب پولیس نے اس سانحے کی تصدیق کر دی ہے۔
اس سے قبل پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ داتا دربار کے سامنے ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی اطلاع درست نہیں، اور ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ڈوبنے کی خبر بے بنیاد ہے۔
تاہم ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کر دی۔ ان کے مطابق حادثے میں خاتون سعدیہ کی لاش برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ اس کی معصوم بچی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ریسکیو 1122 کو واقعے کی اطلاع موصول ہوئی، تمام متعلقہ اداروں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ واقعے کی مکمل اور باریک بینی سے تحقیقات کی گئیں، جن کے بعد یہ کنفرم ہو گیا کہ خاتون کی لاش آؤٹ فال روڈ ڈسپوزل سے ملی ہے، تاہم بچی ابھی تک لاپتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پورے واقعے کی مانیٹرنگ کی گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ خاتون کے شوہر کی جانب سے بیان کردہ تمام تفصیلات درست تھیں۔ فوٹیج میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خاندان رکشے پر آیا، کہاں رکشہ پارک کیا گیا، کس راستے سے داتا دربار زیارت کے لیے گئے اور واپسی پر یہ افسوسناک حادثہ کیسے پیش آیا، تمام مراحل ریکارڈ میں موجود ہیں۔
فیصل کامران کے مطابق یہ خاندان داتا دربار پر سلام پیش کرنے کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اچانک کھلے مین ہول میں گرنے کا سانحہ پیش آیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خاتون کا شوہر کسی قسم کی حراست میں نہیں تھا بلکہ اس سے صرف واقعے سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی تھیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر تمام متعلقہ محکمے مشترکہ طور پر اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے ہائی لیول انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، جسے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نااہلی اور غفلت کے مرتکب چند افسران کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ اہلخانہ جو کارروائی چاہیں گے، اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا، اور جس فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہوئی اس کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین کی رائے
شہری منصوبہ بندی اور بلدیاتی نظام کے ماہرین کے مطابق کھلے سیوریج مین ہولز شہری علاقوں میں ایک مستقل اور سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں، مرمت کے ناقص نظام اور نگرانی کی کمی کے باعث ایسے حادثات بار بار پیش آ رہے ہیں، جن میں زیادہ تر غریب اور پیدل شہری متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سیوریج لائنز پر ڈھکنوں کی عدم موجودگی محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی غفلت کی واضح مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مانیٹرنگ، واضح ذمہ داری کا تعین اور سخت احتساب ہو تو ایسے حادثات روکے جا سکتے ہیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی واقعے کو مکمل تحقیق سے پہلے فیک قرار دینا عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے حساس معاملات میں ریاستی اداروں کو زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
داتا دربار کے قریب پیش آنے والا یہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ لاہور جیسے بڑے شہر میں شہری سہولیات کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ماں کا کھلے مین ہول میں جاں بحق ہونا اور معصوم بچی کا لاپتہ ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمارے شہر آج بھی بنیادی حفاظتی انتظامات سے محروم ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ واقعے کو ابتدا میں فیک نیوز قرار دیا گیا، جس نے متاثرہ خاندان کے دکھ میں مزید اضافہ کیا۔ بعد ازاں سیف سٹی کیمروں اور پولیس تحقیقات نے ثابت کر دیا کہ اہلخانہ کی بات درست تھی۔ یہ صورتحال سوال اٹھاتی ہے کہ زمینی حقائق جانے بغیر بیانات جاری کرنے کی روایت کب ختم ہوگی۔
یہ سانحہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سیوریج، بلدیات اور شہری انفراسٹرکچر کے ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، جبکہ قیمت عام شہری اپنی جان کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے انکوائری اور معطلیاں وقتی اقدام ہو سکتی ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا آئندہ ایسے حادثات روکنے کے لیے عملی اصلاحات کی جائیں گی یا نہیں۔
اگر اس واقعے کے بعد بھی کھلے مین ہول بند نہ ہوئے، ذمہ داروں کو سزا نہ ملی اور نظام میں بہتری نہ آئی تو یہ سانحہ بھی فائلوں میں دفن ہو جائے گا، مگر سوال زندہ رہے گا کہ اگلی باری کس کی ہوگی؟





















