برسلز/تہران:یورپی یونین نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت کرتے ہوئے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے پر فیصلہ کن مرحلہ طے ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ریاستیں اپنے ہی شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کرتی ہیں، انہیں عالمی سطح پر اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔
یورپی حکام کے مطابق آئندہ مرحلے میں یورپی یونین کے رکن ممالک قانونی اور تکنیکی تقاضے مکمل کریں گے، جس کے بعد اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ اثاثوں، مالی لین دین اور سفری سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایران نے یورپی یونین کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کی اندھی تقلید کے مترادف ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ یورپ اس فیصلے کے ذریعے ایک سنگین غلطی کا ارتکاب کر رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے کے امن و استحکام پر پڑ سکتے ہیں بلکہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایسے اقدامات کشیدگی میں اضافہ کریں گے اور سفارتی راستوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
ماہرینِ خارجہ پالیسی کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یورپی یونین کا پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ ایک غیر معمولی اور حساس قدم ہے، جو ایران اور یورپ کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف سفارتی سطح پر کشیدگی بڑھے گی بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب ایران کے دفاعی اور سیاسی نظام کا ایک اہم ستون ہے، اس لیے اس پر پابندیاں عائد کرنا محض ایک تنظیم کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایرانی ریاستی ڈھانچے کو براہِ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اثاثوں کے منجمد ہونے، مالی لین دین پر قدغن اور سفری پابندیوں سے ایران کی معیشت اور یورپ کے ساتھ تجارتی روابط متاثر ہو سکتے ہیں۔
یورپی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ انسانی حقوق اور داخلی جبر کے الزامات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتا ہے۔
یورپی یونین کا پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ محض ایک قانونی یا علامتی اقدام نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام ہے۔ یہ پیغام ایران کے لیے بھی ہے اور خطے کے دیگر کھلاڑیوں کے لیے بھی کہ یورپ اب نرم سفارت کاری سے آگے بڑھنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
ایران کا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اس فیصلے کو امریکا اور اسرائیل کی حکمتِ عملی کا تسلسل سمجھ رہا ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایسے اقدامات کے بعد ایران عموماً سخت مؤقف اختیار کرتا ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپی یونین خود اندرونی طور پر مختلف آراء رکھتی ہے، اور اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد کے دوران قانونی اور سیاسی رکاوٹیں سامنے آ سکتی ہیں۔ تاہم اگر یہ فیصلہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو ایران اور یورپ کے درمیان سفارتی راستے مزید تنگ ہو جائیں گے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدام ایران کے رویے میں تبدیلی لا سکے گا یا پھر خطہ ایک اور طویل تناؤ کے دور میں داخل ہو جائے گا۔ ماضی کے تجربات کو دیکھا جائے تو پابندیاں اکثر دباؤ تو بڑھاتی ہیں، مگر تصادم کے امکانات کو بھی جنم دیتی ہیں۔ آنے والے مہینے اس فیصلے کے حقیقی اثرات کو واضح کریں گے۔





















