نیپا وائرس انسان میں کن جانوروں اور پرندوں سے منتقل ہوتا ہے؟

بھارت میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ اس وقت کم ہے اور اس مرحلے پر کسی قسم کی سفری یا تجارتی پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں:ڈبلیو ایچ او

لاہور(خصوصی رپورٹ رمیض حسین )نیپا وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک بیماری ہے جو عام طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں، جو وائرس کو جانوروں یا انسانوں تک پہنچانے کا بنیادی ذریعہ بنتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ بھارت میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ اس وقت کم ہے اور اس مرحلے پر کسی قسم کی سفری یا تجارتی پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق بھارت میں ابھی تک وائرس کے صرف دو کیس سامنے آئے ہیں، اور ادارے کا کہنا ہے کہ ان سے مزید انفیکشن کے پھیلنے کا امکان کم ہے۔ اب تک انسان سے انسان میں وائرس کے تیز پھیلاؤ کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ بھارت ایسے وبائی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے بھارتی صحت حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ تاہم، ادارے نے یہ بھی کہا کہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کے امکانات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ وائرس بھارت اور اس کے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں چمگادڑوں کی آبادی میں پایا جاتا ہے۔

نیپا وائرس عموماً پھل کھانے والی چمگادڑوں یا بعض جانوروں جیسے سور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس بخار اور دماغی سوزش پیدا کر سکتا ہے، اور اس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ اس وقت اس بیماری کا کوئی خاص علاج موجود نہیں، اگرچہ ویکسینز پر تحقیق جاری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نیپا وائرس آسانی سے انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوتا۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ وائرس صرف طویل اور قریبی رابطے کے دوران پھیلتا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے خطرہ کم ہے۔

حال ہی میں بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں دو ہیلتھ ورکرز نیپا وائرس سے متاثر ہوئے، جو دسمبر کے آخر میں بیمار ہوئے اور اب علاج کے مراحل میں ہیں۔ بھارت میں نیپا وائرس کے چھوٹے پیمانے کے پھیلاؤ کے واقعات ماضی میں بھی دیکھے جا چکے ہیں، خاص طور پر ریاست کیرالہ میں، جہاں 2018 کے بعد سے متعدد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ نیپا وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک بیماری ہے جو عام طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں، جو وائرس کو جانوروں یا انسانوں تک پہنچانے کا بنیادی ذریعہ بنتی ہیں۔ یہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائشیا میں دریافت ہوا تھا اور تب سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی بار چھوٹے پیمانے پر پھیلاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

حال ہی میں بھارتی ریاست مغربی بنگال میں دو ہیلتھ ورکرز نیپا وائرس سے متاثر ہوئے، جو دسمبر کے آخر میں بیمار ہوئے اور اس وقت علاج کے مراحل میں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کہا ہے کہ ان کیسز سے مزید انفیکشن کے پھیلنے کا امکان کم ہے اور اب تک انسان سے انسان میں وائرس کے تیز پھیلاؤ کے شواہد نہیں ملے۔ اسی لیے عالمی ادارے کے مطابق اس وقت کسی قسم کی سفری یا تجارتی پابندی کی ضرورت نہیں ہے۔ بھارت میں وبائی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے اور WHO بھارتی صحت حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ تاہم چونکہ یہ وائرس بھارت اور بنگلہ دیش میں چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے، اس لیے مزید پھیلاؤ کے امکانات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نیپا وائرس سے متاثرہ شخص میں عموماً بخار، سردرد، عضلات میں درد، الٹی اور گلے کی تکلیف جیسی علامات سامنے آتی ہیں، اور کچھ شدید صورتوں میں دماغی سوزش، سانس کی دشواری، سیژر یا کوما بھی ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی جاتی ہے، جو اسے انتہائی سنجیدہ اور جان لیوا بناتی ہے۔ فی الحال اس کا کوئی منظور شدہ علاج یا ویکسین موجود نہیں، اور مریضوں کو صرف علامتی علاج اور طبی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نیپا وائرس انسان سے انسان میں آسانی سے منتقل نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر قریبی اور طویل رابطے کی صورت میں پھیلتا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے مجموعی خطرہ کم ہے۔ بھارت میں حالیہ کیسز کے بعد علاقے کے تقریباً 196 افراد کو ٹریس اور جانچا گیا اور سب کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، جس سے اس وائرس کے محدود پھیلاؤ کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایشیائی ممالک اور پاکستان نے تمام انٹری پوائنٹس پر سخت اسکریننگ اور نگرانی کے اقدامات نافذ کر دیے ہیں تاکہ ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

مجموعی طور پر عالمی ادارہ صحت کے مطابق نیپا وائرس ایک سنگین بیماری ہے، مگر اس وقت عالمی سطح پر خطرہ کم ہے۔ بھارت میں موجودہ کیسز محدود اور کنٹرول میں ہیں، اور احتیاطی اقدامات اور نگرانی موثر ثابت ہو رہی ہیں۔ تاہم، چونکہ یہ وائرس قدرتی طور پر چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے، لہٰذا ہوشیار رہنا اور بروقت احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے تاکہ ممکنہ انفیکشن کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین