ورلڈکپ 2026 میں شرکت پر فیصلہ پیر کو، پاکستان ٹیم کی کٹ کی تقریب موخر

واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا باقاعدہ آغاز 7 فروری سے ہو رہا ہے

لاہور:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی نئی کٹ کی رونمائی کو مؤخر کر دیا گیا ہے، جبکہ ایونٹ میں قومی ٹیم کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ پیر کو متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق آج آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے ٹاس کے بعد پاکستانی ٹیم کی کٹ کی رونمائی کا پروگرام طے تھا، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس تقریب کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ کٹ کی رونمائی مؤخر کرنے کا فیصلہ حالات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے بورڈ کا حتمی مؤقف پیر کے روز سامنے آنے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے بنگلادیش کو ورلڈکپ سے باہر کیے جانے کے فیصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت ردعمل دیا تھا اور اسے دوہرے معیار سے تعبیر کیا تھا۔

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے چند روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کی ورلڈکپ میں شرکت یا عدم شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر تک کر لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا باقاعدہ آغاز 7 فروری سے ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان ٹیم کو اپنا پہلا میچ اسی روز نیدرلینڈز کے خلاف کھیلنا ہے۔

کرکٹ ماہرین کی رائے

کرکٹ ماہرین کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ سے چند روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کا غیر یقینی صورتحال میں ہونا غیر معمولی بات ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیم کی کٹ کی رونمائی محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ یہ ورلڈکپ تیاریوں اور ذہنی یکسوئی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے بنگلادیش کو ایونٹ سے باہر کرنے کے فیصلے پر پی سی بی کا ردعمل ایک اصولی مؤقف ہو سکتا ہے، تاہم اس کے اثرات براہ راست کھلاڑیوں کی تیاری اور فوکس پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس ایونٹ کے لیے کھیل رہے ہیں اور انتظامی سطح پر کیا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔

کچھ سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے شرکت کا فیصلہ کیا تو انتظامی معاملات فوری طور پر نمٹانے ہوں گے تاکہ ٹیم ورلڈکپ سے قبل کسی دباؤ یا غیر ضروری بحث کا شکار نہ ہو۔

پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی کا ملتوی ہونا بظاہر ایک چھوٹا واقعہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک بڑے فیصلے کی علامت ہے۔ پی سی بی اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم کے سیاسی، سفارتی اور کھیل کے اثرات جڑے ہوئے ہیں۔

آئی سی سی کے فیصلے پر پی سی بی کا مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اب خاموش تماشائی بننے کے بجائے اصولی موقف اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس اصولی مؤقف کی قیمت کھلاڑیوں اور شائقین کو ادا کرنی پڑے گی؟

ورلڈکپ جیسے ایونٹ سے محض ایک ہفتہ قبل شرکت یا عدم شرکت پر غور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ محض کرکٹ تک محدود نہیں رہا۔ وزیر اعظم سے ملاقات، چیئرمین پی سی بی کے بیانات اور اب کٹ کی رونمائی کا التوا سب اس بات کا اشارہ ہیں کہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر سوچ سمجھ کر کیا جا رہا ہے۔

اگر پاکستان ورلڈکپ میں حصہ لیتا ہے تو یہ فیصلہ وقتی طور پر تناؤ کم کر دے گا، لیکن اگر کوئی بڑا قدم اٹھایا گیا تو اس کے اثرات عالمی کرکٹ سیاست میں دور رس ہو سکتے ہیں۔ پیر کا دن صرف ایک اعلان نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین