واشنگٹن:امریکا میں ماہرینِ صحت نے دو ایسے نئے وائرسز کے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے جو مستقبل میں صحتِ عامہ کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔ محققین نے اپنی تازہ رپورٹ میں ان وائرسز کو اب تک کم توجہ دیے جانے والے مگر ممکنہ طور پر خطرناک جراثیم قرار دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس تاحال ماہرین کی مکمل نگرانی سے باہر رہے ہیں، حالانکہ ان میں انسانی صحت کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
University of Florida سے وابستہ پروفیسر جان لیڈنکی کا کہنا ہے کہ دستیاب سائنسی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں وائرس انسانوں میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان وائرسز کی روک تھام یا بچاؤ کے لیے اس وقت کوئی مؤثر حکمتِ عملی یا حفاظتی اقدامات موجود نہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ان وائرسز میں انسان سے انسان میں آسانی سے منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو یہ وباؤں یا حتیٰ کہ عالمی وباؤں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی اکثریتی آبادی میں ان وائرسز کے خلاف قدرتی قوتِ مدافعت موجود نہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایسے وائرسز کی بروقت نگرانی، تحقیق اور تیاری نہایت ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ بڑے صحت بحران سے پہلے حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں
ماہرینِ صحت کی رائے
وائرولوجی اور وبائی امراض کے ماہرین کے مطابق جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے وائرسز ہمیشہ سے عالمی صحت کے لیے بڑا خطرہ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس فی الحال محدود دائرے میں ہیں، مگر ان کی مسلسل نگرانی نہایت ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اگرچہ ان وائرسز میں ابھی انسان سے انسان میں تیز رفتار منتقلی کی صلاحیت ثابت نہیں ہوئی، تاہم وائرسز کی جینیاتی تبدیلیاں کسی بھی وقت ان کی نوعیت بدل سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کووِڈ-19 کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ کسی وائرس کو نظرانداز کرنا عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے وائرسز کے لیے پیشگی ویکسین ریسرچ، ڈیٹا شیئرنگ اور عالمی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ وبا سے پہلے تیاری مکمل ہو۔
امریکا میں دو نئے وائرسز کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ وارننگ دراصل ایک یاد دہانی ہے کہ وباؤں کا دور ختم نہیں ہوا، بلکہ صرف خاموش ہوا ہے۔ انفلوئنزا ڈی اور کینائن کورونا وائرس جیسے جراثیم اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطرات اکثر وہاں موجود ہوتے ہیں جہاں توجہ کم ہوتی ہے۔
کووِڈ-19 کے بعد دنیا نے یہ سبق سیکھا ہے کہ وبا صرف ایک سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی، معاشی اور سماجی بحران بھی بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب کسی بھی نئے یا نظرانداز شدہ وائرس کو معمولی سمجھنے کے حق میں نہیں۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان وائرسز کے خلاف انسانوں میں قدرتی قوتِ مدافعت موجود نہیں، جو کسی بھی ممکنہ پھیلاؤ کو زیادہ خطرناک بنا سکتی ہے۔ اگر یہ وائرس انسان سے انسان میں آسانی سے منتقل ہونے لگے تو ردعمل کے لیے وقت بہت کم ہوگا۔
یہ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ وباؤں سے نمٹنے کا بہترین طریقہ خوف نہیں بلکہ تیاری ہے۔ بروقت تحقیق، شفاف رپورٹنگ اور عالمی تعاون ہی وہ عناصر ہیں جو مستقبل کی کسی بھی وبا کو قابو میں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا وائرس کہاں سے آئے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا اس کے لیے تیار ہے یا نہیں۔





















