لاہور کی انتظامی تشکیل نو کا فیصلہ، شہر کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی اصولی منظوری

بڑھتی آبادی اور دباؤ، لاہور کی ری اسٹرکچرنگ ناگزیر قرار

لاہور:(خصوصی رپورٹ – غلام مرتضیٰ) لاہور کو انتظامی بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے شہر کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

پنجاب حکومت کے مطابق یہ فیصلہ لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ اس اقدام کا مقصد شہری سہولیات کی فراہمی، سروس ڈلیوری اور گورننس کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ بسنت کے فوری بعد لاہور کی انتظامی ری اسٹرکچرنگ کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

فیصلے کے تحت لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کیے جانے کے بعد ہر ضلع میں الگ ڈپٹی کمشنر، پولیس انتظامیہ اور میونسپل نظام قائم ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے انتظامی سیٹ اپ سے شہری مسائل کے حل میں تیزی آئے گی اور عوامی شکایات کے ازالے کا نظام زیادہ مؤثر ہو سکے گا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ شہری سہولیات کی بہتر فراہمی کے لیے لاہور کی انتظامی حدود کو ازسرِنو متعین کیا جائے۔ ٹریفک مسائل، تجاوزات اور بلدیاتی معاملات کے مستقل حل کے لیے نئی انتظامی تقسیم کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

پنجاب حکومت کے مطابق لاہور کی آبادی حد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث ایک ہی انتظامی یونٹ کے تحت گورننس مؤثر طور پر ممکن نہیں رہی۔ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے عوامی مسائل کے فوری حل میں مدد ملے گی اور انتظامی نظام عوام کے مزید قریب آ سکے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متعلقہ محکموں کو فوری طور پر تیاری مکمل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پراسیس جلد از جلد مکمل کر کے لاہور کو انتظامی طور پر دو اضلاع میں تقسیم کیا جائے۔ بعض اہم انتظامی اقدامات کے باعث اس معاملے پر 9 فروری کو دوبارہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ لاہور کی تقسیم صوبے میں شہری گورننس اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنا عوامی سہولت اور بہتر گورننس کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو اضلاع کے قیام سے سروس ڈلیوری زیادہ تیز، مؤثر اور عوام کے قریب ہو جائے گی، جبکہ ٹریفک، تجاوزات اور بلدیاتی مسائل کا دیرپا حل انتظامی ری اسٹرکچرنگ میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کے شہریوں کو فوری ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہر فیصلہ عوام کی آسانی اور شفاف گورننس کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ لاہور کی تقسیم کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی ضرورت کے تحت کی جا رہی ہے، اور صوبے کے بڑے شہروں کے لیے جدید اور مؤثر گورننس ماڈل متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کی رائے

شہری منصوبہ بندی اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے ماہرین کے مطابق لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا فیصلہ زمینی حقائق کے عین مطابق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بڑے شہروں میں آبادی اور انتظامی بوجھ کم کرنے کے لیے ایسی تقسیم ایک آزمودہ ماڈل ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ہی ضلع میں کروڑوں آبادی کو مؤثر سروس ڈلیوری فراہم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں رہتا۔ دو اضلاع بننے سے ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور میونسپل اداروں کی ذمہ داریاں واضح ہوں گی، جس سے فیصلوں میں تاخیر کم اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی۔

شہری ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ، تجاوزات کے خاتمے اور بلدیاتی شکایات جیسے مسائل اسی وقت بہتر ہو سکتے ہیں جب انتظامی یونٹس چھوٹے اور جوابدہ ہوں۔ تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی تقسیم کے ساتھ وسائل، عملے اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم نہایت ضروری ہوگی، ورنہ یہ اصلاحات کاغذی حد تک محدود رہ سکتی ہیں۔

لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی قدم ہے، مگر اس کے اثرات شہر کی روزمرہ زندگی پر گہرے ہوں گے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ لاہور اب ایک ہی انتظامی یونٹ کے تحت قابلِ انتظام نہیں رہا۔

کئی دہائیوں سے لاہور کے شہری ٹریفک، تجاوزات، بلدیاتی بدانتظامی اور شکایات کے انبار کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک فائل کا ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک گھومنا اسی بڑے اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچے کی علامت ہے۔ دو اضلاع بننے سے فیصلہ سازی نچلی سطح پر آئے گی، جو کسی بھی بڑے شہر کے لیے بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔

تاہم اصل امتحان فیصلے کے اعلان کے بعد شروع ہوگا۔ اگر نئی انتظامی تقسیم کے ساتھ پرانے رویے، سست نظام اور اختیارات کی مرکزیت برقرار رہی تو لاہور کی تقسیم بھی ماضی کی کئی اصلاحات کی طرح ایک علامتی قدم بن کر رہ جائے گی۔

یہ بھی اہم ہے کہ اس فیصلے کو سیاسی بحث سے دور رکھا جائے۔ وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ یہ اقدام سیاسی نہیں بلکہ انتظامی ضرورت ہے، ایک مثبت پیغام ہے۔ اگر حکومت واقعی شہریوں کو فوری ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے نئی انتظامیہ کو بااختیار، جوابدہ اور شفاف بنانا ہوگا۔

لاہور کی تقسیم دراصل پنجاب کے دیگر بڑے شہروں کے لیے ایک ماڈل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو یہ پاکستان میں شہری گورننس کے نئے دور کی بنیاد بن سکتا ہے، اور اگر ناکام ہوا تو یہ بھی فائلوں میں دفن ایک اور منصوبہ بن کر رہ جائے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین