بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے وسیع سینیٹائزیشن آپریشنز، تین دن میں 177 دہشت گرد ہلاک

فورسز، انٹیلی جنس اور پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری

کوئٹہ:بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے، جن کے نتیجے میں گزشتہ تین دن کے دوران مجموعی طور پر 177 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز فتنۃ الہندوستان سے منسلک حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف مختلف علاقوں میں بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب کی گئی تعاقبی کارروائیوں کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جس کے بعد تین روزہ آپریشنز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس مشترکہ طور پر مختلف مقامات پر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران دہشت گرد نیٹ ورکس کو اضافی جانی اور تنظیمی نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے آپریشنز کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ دہشت گرد عناصر اور ان کے معاونین کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔

دفاعی و سیکیورٹی ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں تین دن کے اندر 177 دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو ٹھوس انٹیلی جنس معلومات حاصل ہیں اور آپریشنز مربوط حکمتِ عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹائزیشن آپریشنز کا مقصد صرف مسلح عناصر کا خاتمہ نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں، لاجسٹک نیٹ ورکس اور پناہ گاہوں کو بھی مکمل طور پر ختم کرنا ہوتا ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق تعاقبی کارروائیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گرد دباؤ میں آ کر فرار کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم فورسز کی مسلسل نگرانی کے باعث انہیں منظم ہونے کا موقع نہیں مل رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس کے درمیان قریبی تعاون کے بغیر اس سطح کی کارروائیاں ممکن نہیں ہوتیں۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آپریشنز کے ساتھ ساتھ سرحدی نگرانی، مقامی انٹیلی جنس اور ترقیاتی اقدامات کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔

بلوچستان میں جاری سینیٹائزیشن آپریشنز محض ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سیکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ تین دن میں 177 دہشت گردوں کی ہلاکت غیر معمولی پیش رفت ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریاست نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن مؤقف اختیار کر لیا ہے۔

اہم پہلو یہ ہے کہ کارروائیاں صرف ایک یا دو علاقوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف مقامات پر بیک وقت کی جا رہی ہیں۔ اس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت، رابطہ اور تنظیمی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ تعاقبی آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ فورسز دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ مکمل کنٹرول کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہیں۔

تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عسکری کامیابی کے بعد اصل امتحان امن کا تسلسل ہوتا ہے۔ اگر ان کارروائیوں کے بعد علاقوں کو محفوظ، نگرانی کے نظام کو مضبوط اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال نہ کیا گیا تو خلا دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ آپریشنز ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ بلوچستان میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سیکیورٹی کامیابی کو دیرپا امن، ترقی اور استحکام میں تبدیل کیا جا سکے گا یا نہیں۔ یہی آنے والے مہینوں کا سب سے بڑا امتحان ہوگا

متعلقہ خبریں

مقبول ترین