لندن:برطانیہ کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہو گئی ہے، جہاں لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی پیٹر مینڈلسن نے امریکی مالیاتی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے الزامات سامنے آنے کے بعد لیبر پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پیٹر مینڈلسن نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو مزید شرمندگی اور سیاسی نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں ایک بار پھر انہیں ایپسٹین سے منسلک کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے لیبر پارٹی کو ایک خط لکھ کر افسوس اور معذرت کا اظہار کیا۔
مینڈلسن کا کہنا ہے کہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی فائلز میں ان پر مالی لین دین سے متعلق جو الزامات لگائے گئے ہیں، وہ درست نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان الزامات کی مکمل تحقیقات کریں گے، تاہم اس عمل کے دوران وہ پارٹی پر مزید دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے، اسی لیے انہوں نے رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپنے خط میں پیٹر مینڈلسن نے لکھا کہ جب تک الزامات کی چھان بین جاری ہے، وہ لیبر پارٹی کے لیے کسی قسم کی سیاسی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی پیٹر مینڈلسن کو وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب ایپسٹین سے تعلقات سے متعلق بعض دستاویزات منظرِ عام پر آئی تھیں، جس کے بعد سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو گیا تھا۔
پیٹر مینڈلسن 1990 کی دہائی میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دورِ حکومت میں لیبر پارٹی کی انتخابی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، تاہم ان کا سیاسی کیریئر مختلف تنازعات اور الزامات کے باعث بارہا سوالات کی زد میں رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کے سابق شہزادے شہزادہ اینڈریو کو بھی ایپسٹین سے تعلقات کے معاملے پر امریکی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے گواہی دینی چاہیے، تاکہ تمام پہلوؤں پر شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
عالمی سیاسی ماہرین کی رائے
بین الاقوامی سیاست کے ماہرین کے مطابق جیفری ایپسٹین سے جڑے معاملات اب صرف امریکا تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے اثرات یورپی سیاست، بالخصوص برطانیہ کے سیاسی نظام تک پھیل چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والے ناموں نے مغربی سیاسی اشرافیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹر مینڈلسن جیسے سینئر اور بااثر سیاست دان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب محض الزامات ہی سیاسی کیریئر کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، چاہے ان پر عدالتی طور پر جرم ثابت نہ بھی ہوا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی اس وقت اقتدار میں ہے، اس لیے وہ کسی بھی ایسے تنازع سے فوری فاصلہ اختیار کرنا چاہتی ہے جو اخلاقی یا سیاسی دباؤ کا باعث بنے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کیئر اسٹارمر کی جانب سے شہزادہ اینڈریو کو امریکی کانگریس کے سامنے گواہی دینے کا مطالبہ اس بات کی علامت ہے کہ برطانوی حکومت اس معاملے میں غیر جانبداری اور شفافیت کا تاثر دینا چاہتی ہے۔
پیٹر مینڈلسن کا استعفیٰ محض ایک فرد کا سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ برطانوی سیاست میں بدلتے ہوئے معیارِ احتساب کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسا سیاست دان جو ٹونی بلیئر کے دور میں لیبر پارٹی کی انتخابی کامیابیوں کا معمار سمجھا جاتا تھا، آج صرف تعلقات اور الزامات کی بنیاد پر سیاست کے مرکزی دھارے سے باہر ہو چکا ہے۔
یہ معاملہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ایپسٹین اسکینڈل ایک وقتی خبر نہیں بلکہ ایک طویل سایہ ہے جو برسوں بعد بھی طاقتور شخصیات کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ امریکی محکمۂ انصاف کی فائلز نے ایسے نام دوبارہ زندہ کر دیے ہیں جنہیں سیاسی طور پر دفن سمجھا جا رہا تھا۔
کیئر اسٹارمر کے لیے یہ معاملہ دوہرا چیلنج ہے۔ ایک طرف انہیں اپنی پارٹی کو اخلاقی طور پر مضبوط دکھانا ہے، اور دوسری طرف پرانے اتحادیوں سے فاصلہ بھی اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ شہزادہ اینڈریو سے متعلق بیان دراصل یہ پیغام دیتا ہے کہ اب احتساب صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہے گا۔
یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ مغربی جمہوریتوں میں طاقتور حلقے اب پہلے کی طرح ناقابلِ سوال نہیں رہے۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں یا نہ ہوں، سیاسی قیمت اب بہرحال ادا کرنا پڑتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ اسکینڈل برطانیہ ہی نہیں بلکہ امریکا اور یورپ کی سیاست میں مزید ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔





















