اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیائی حالات اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وہاں بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ صوبہ ایک پیچیدہ اور وسیع خطہ ہے جسے مؤثر طور پر کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت نے اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں وہ غیر قانونی دھندے بند ہو گئے جن کے ذریعے ایران سے 40 روپے فی لیٹر تیل خرید کر 200 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، اور اس کاروبار سے یومیہ تقریباً چار ارب روپے کمائے جا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہی اقدامات کے بعد چمن بارڈر پر شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا اور بعض حلقوں کی جانب سے نام نہاد قوم پرست تحریکوں سے مذاکرات کا مطالبہ سامنے آیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ عناصر درحقیقت نہ تو سیاسی ہیں اور نہ ہی حقیقی قوم پرست، بلکہ ان کی سرگرمیوں کا مقصد اپنے کاروباری نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ افراد اسمگلنگ مافیا کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ پیدا ہو چکا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں 177 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ان کارروائیوں میں 16 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہاں سیکیورٹی فورسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں آج 15 ہزار 96 اسکول، 13 کیڈٹ کالجز اور 13 بڑے ہسپتال موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود محرومی کا تاثر جان بوجھ کر پھیلایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے، جبکہ کوئٹہ کے وسط میں ایرانی تیل کے غیر قانونی پمپ بھی پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سرداری نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسی نظام نے صوبے کے وسائل کو لوٹا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کسی بھی صوبے کے مقابلے میں زیادہ ایئرپورٹس موجود ہیں، اور جو ایئرپورٹس فعال نہیں تھے انہیں دوبارہ آپریشنل کیا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ جن دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے، ان کے نام مسنگ پرسنز کی فہرستوں میں شامل تھے، جبکہ ان میں سے کئی بیرونِ ملک موجود ہیں اور ان کے اہلِ خانہ معاوضے وصول کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں متعدد آپریشنز کیے جا چکے ہیں اور اس وقت بھی بھارتی پراکسیز صوبے میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام جہاں بھی نافذ ہوا، وہاں ترقی آئی، اور قیامِ پاکستان کے وقت کے مقابلے میں آج بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کرپشن ایک دیمک کی طرح پورے ملک کو چاٹ رہی ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل لاپتہ افراد کی تعداد سات سو سے ساڑھے سات سو کے درمیان تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کلبھوشن کہاں سے پکڑا گیا، اور یہ بھی پوچھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے پاس وہ جدید ترین اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے جو بعض اوقات سیکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کے پاس بیس ہزار ڈالر مالیت کا امریکی اسلحہ موجود ہے۔
خواجہ آصف نے جعفر ایکسپریس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہ مزدوروں کو قتل کرنا کسی بھی بیانیے میں جائز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بی ایل اے کو اسمگلروں کی حفاظت کرنے والی ایک جرائم پیشہ تنظیم قرار دیا اور واضح کیا کہ فساد میں ملوث عناصر سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، بلکہ انہیں پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر قوم کو پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست عورتوں، بچوں، عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی، اور شہدا کے معاملے پر کوئی سیاسی مفاد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔
وزیر دفاع نے ارکانِ اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حلقوں میں ہونے والی کرپشن پر نظر ڈالیں، کیونکہ اگر سیاسی قیادت سنجیدگی نہ دکھائے تو مسائل مزید بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج بی ایل اے اور اسمگلنگ مافیا کا اتحاد واضح ہو چکا ہے، اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں دہشت گردوں کا حصہ طے ہے۔
افغان جنگ کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں دوسروں کی جنگیں اپنے گلے ڈالنے کا خمیازہ آج ہمارے بچے بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کابل کا دورہ بھی کیا جہاں سرحدی علاقوں میں آبادکاری کے لیے دس ارب روپے کا مطالبہ کیا گیا، مگر مطلوبہ ضمانت نہ مل سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کسی بھی وجہ سے آئی ہو، لیکن شہدا کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔
آخر میں وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں تعینات نوجوان فوجی یا تو واپس آتے ہیں یا شہادت کا رتبہ پاتے ہیں، اور وہ ایسے قرض ادا کر رہے ہیں جو ان پر واجب نہیں تھے۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
دفاعی و سیاسی ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کے مطابق بلوچستان کے جغرافیائی حالات، طویل سرحدیں اور دشوار گزار علاقے سیکیورٹی چیلنجز کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی بات زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ محدود نفری کے ساتھ اتنے وسیع علاقے کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردوں کے پاس جدید اور مہنگا اسلحہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں منظم بیرونی معاونت حاصل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیس ہزار ڈالر مالیت کے ہتھیار عام مسلح گروہوں کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں، جو اس پورے نیٹ ورک کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں اسمگلنگ، سرداری نظام اور علیحدگی پسند بیانیے کا ملاپ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صرف سیکیورٹی آپریشنز پر توجہ دی گئی اور معاشی و انتظامی اصلاحات کو نظرانداز کیا گیا تو مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے گا۔ تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مسلح دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل پر کسی قسم کا سیاسی جواز قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
خواجہ آصف کی تقریر دراصل بلوچستان کے مسئلے کو ایک نئے زاویے سے بیان کرتی ہے، جہاں علیحدگی پسندی کا بیانیہ پیچھے اور معاشی مفادات، اسمگلنگ اور بیرونی مداخلت آگے نظر آتی ہے۔ یہ بات اب کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ بلوچستان میں جاری تشدد صرف نظریاتی نہیں بلکہ مالی اور جغرافیائی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔
دہشت گردوں کے پاس جدید امریکی اسلحہ ہونا ایک سنگین سوال ہے، جس کا جواب صرف سرحدوں کے پار نہیں بلکہ اندرونی سہولت کاری میں بھی تلاش کرنا ہوگا۔ اگر واقعی مسنگ پرسنز کی فہرستیں مالی فائدے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں تو یہ انسانی المیے کو سیاسی ہتھیار بنانے کے مترادف ہے۔
فوجی تعیناتی کا مطالبہ وقتی حل ضرور ہو سکتا ہے، مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا۔ بلوچستان میں ماضی میں بھی بڑے آپریشنز ہوئے، مگر مستقل امن اس وقت تک قائم نہیں ہوا جب تک مقامی آبادی کو انصاف، روزگار اور شفاف نظام نہ ملا۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ خواجہ آصف نے مذاکرات کا دروازہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جو ریاستی سختی کا واضح پیغام ہے۔ یہ پیغام ان عناصر کے لیے ہے جو بے گناہ شہریوں، مزدوروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ تاہم ریاست کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ عام بلوچ شہری اور دہشت گرد کے درمیان فرق واضح رہے۔
یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا ہے۔ اگر حکومت، اپوزیشن اور ادارے ایک صفحے پر آ گئے تو بلوچستان نہ صرف امن کی طرف بڑھ سکتا ہے بلکہ اس بیانیے کو بھی شکست دی جا سکتی ہے جو برسوں سے محرومی کے نام پر تشدد کو جواز فراہم کرتا رہا ہے۔





















