لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو دیے گئے 2 ارب ڈالر کے میچور ہونے والے قرض کو موجودہ 6.5 فیصد شرح سود پر ایک ماہ کے لیے توسیع دے دی ہے۔ یہ رقم پاکستان کے مجموعی 16 ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر کا حصہ ہے، جس پر پاکستان کو موجودہ شرح کے مطابق سالانہ تقریباً 13 کروڑ ڈالر سود ادا کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ یو اے ای نے قرض کی مدت میں صرف ایک ماہ کی توسیع کی ہے، اس سے قبل ایسے قرضے عموماً ایک سال کے لیے رول اوور کیے جاتے رہے ہیں۔
وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے بتایا کہ یو اے ای نے ایک، ایک ارب ڈالر کے دو قرضے ایک ماہ کے لیے بڑھائے ہیں، جن میں سے ایک قرض 16 جنوری جبکہ دوسرا 22 جنوری کو میچور ہونا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قرض کی مدت اور شرح سود سے متعلق مزید مذاکرات کے لیے عارضی طور پر ایک ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے دسمبر میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی سطح پر شرح سود میں کمی کے پیشِ نظر یو اے ای سے درخواست کی تھی کہ قرض کو دو سال کے لیے 3 فیصد شرح سود پر رول اوور کیا جائے۔
بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی صدرِ متحدہ عرب امارات سے قرض کی واپسی کی مدت میں اضافے کی درخواست کی۔
ذرائع کے مطابق زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم رکھنے کے لیے پاکستان کو امید ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ قرض کے حوالے سے بہتر شرائط پر معاہدہ طے پا جائے گا۔
قرض کی واپسی کی صورت میں پیدا ہونے والی مالی کمی کو کسی اور ذریعے سے پورا کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند دنوں میں قرض کی مدت اور اس کی میچورٹی سے متعلق صورتحال واضح ہو جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 2018 میں 2 ارب ڈالر کا قرض 3 فیصد شرح سود پر فراہم کیا تھا، جس کی بروقت واپسی نہ ہونے کے باعث یہ قرض مسلسل رول اوور ہوتا رہا۔ بعد ازاں 2023 میں یو اے ای نے مزید ایک ارب ڈالر کا قرض دیا، تاہم اس مرتبہ شرح سود بڑھا کر 6.5 فیصد کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق بیرونی شعبے کا استحکام بڑی حد تک موجودہ غیر ملکی قرضوں کے رول اوور، آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے ملنے والی نئی مالی معاونت پر منحصر ہے۔
اس حوالے سے جب اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موجودہ شرح سود پر ایک ماہ کے لیے قرض رول اوور ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت، پروگرام کی مدت ستمبر آئندہ سال تک مکمل ہونے تک، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالر بطور کیش ڈیپازٹ رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے قرض کو صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کرنا محض ایک مالی فیصلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی موجودہ معاشی پوزیشن، عالمی اعتماد اور سفارتی ترجیحات پر ایک خاموش مگر گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ ماضی میں یہی قرض ایک سال کے لیے توسیع پاتا رہا، مگر اس بار مدت کا اچانک کم ہو جانا اس امر کی علامت ہے کہ قرض دینے والے ممالک اب پاکستان کے ساتھ معاملات میں پہلے سے زیادہ احتیاط برت رہے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ 2 ارب ڈالر پاکستان کے 16 ارب ڈالر کے مجموعی زرِمبادلہ کے ذخائر کا نمایاں حصہ ہیں۔ اگر یہ رقم واپس کرنی پڑتی ہے تو اس سے نہ صرف ذخائر پر فوری دباؤ بڑھے گا بلکہ مارکیٹ میں بے یقینی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے میں قرض کی واپسی سے پیدا ہونے والا خلا کسی اور ذریعے سے پُر کرنا ناگزیر ہو جائے گا، جو پہلے سے دباؤ میں موجود معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج ہو گا۔
اس قرض کا سب سے تشویشناک پہلو اس پر ادا کیا جانے والا سالانہ سود ہے۔ دو ارب ڈالر پر 6.5 فیصد شرح کے تحت پاکستان کو ہر سال تقریباً 13 کروڑ ڈالر صرف سود کی مد میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے تو اتنی بھاری سودی ادائیگی طویل مدت میں کس حد تک قابلِ برداشت ہو سکتی ہے؟ خاص طور پر جب یہی قرض 2018 میں صرف 3 فیصد شرح سود پر لیا گیا تھا، جو بعد ازاں دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان مسلسل قرض لے کر پرانے قرض چکانے کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ قرض اصل معیشت کو سہارا دینے کے بجائے اب محض زرِمبادلہ کے ذخائر کو کاغذی طور پر سنبھالنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی شعبے کا استحکام اب براہِ راست قرضوں کے رول اوور، آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے ملنے والی نئی فنانسنگ پر منحصر ہو گیا ہے۔
اس تناظر میں آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے پروگرام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پروگرام کی مدت کے اختتام تک یو اے ای، سعودی عرب اور چین کی جانب سے اسٹیٹ بینک میں 12.5 ارب ڈالر بطور کیش ڈیپازٹ رکھنے کا وعدہ ایک وقتی سہارا ضرور ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔ اگر ان ڈیپازٹس یا قرضوں کی شرائط سخت ہوتی گئیں تو پاکستان کے لیے ہر چند ماہ بعد نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے موجودہ شرح سود پر ایک ماہ کے رول اوور کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ یہ خاموشی خود اس بات کی علامت ہے کہ معاملات ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے اور پسِ پردہ سخت مذاکرات جاری ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی شرح سود میں کمی کا فائدہ اٹھا کر بہتر شرائط حاصل کی جائیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک اب بھی صرف وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار ہیں؟
اصل مسئلہ قرض نہیں، بلکہ وہ معاشی ڈھانچہ ہے جو بار بار قرض کا محتاج بن جاتا ہے۔ جب تک برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ، ٹیکس نیٹ کی توسیع، توانائی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کو عملی شکل نہیں دی جاتی، اس وقت تک ہر نیا رول اوور ایک نئی قیمت کے ساتھ آئے گا—اور وہ قیمت اکثر 13 کروڑ ڈالر سالانہ سود جیسے اعداد میں ادا کرنی پڑے گی۔
مختصر یہ کہ یو اے ای کے قرض کی ایک ماہ کی توسیع ایک وقتی ریلیف تو ہو سکتی ہے، مگر یہ پاکستان کی معاشی کمزوریوں کا مستقل علاج نہیں۔ اگر بنیادی اصلاحات کو مزید مؤخر کیا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ ریلیف خود ایک بڑے مالی دباؤ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔





















