ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بڑی پیش رفت، آئی سی سی کا مؤقف نرم، پاک بھارت میچ کا راستہ ہموار ہونے لگا

پاک بھارت میچ پر فیصلہ کن 24 گھنٹے، کرکٹ سیاست نازک موڑ پر

لاہور:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کے سخت مؤقف کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنا مؤقف نرم کرتے ہوئے معاملات سلجھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے نے دباؤ بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں آئی سی سی مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو گئی۔ اب قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کڑی شرائط کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ممکن ہو سکے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے میں بڑا بریک تھرو متوقع ہے۔ پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد آئی سی سی نے خود معاملات حل کرنے کے لیے پیش رفت کی اور فریقین کو اعتماد میں لینے کا عمل شروع کیا۔

اسی سلسلے میں لاہور میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل، پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان مذاکرات ہوئے، جو پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہے۔

ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے تحفظات اور مطالبات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے ورلڈکپ سے باہر کیے جانے کے بعد ازالے کے لیے ایک فارمولہ تیار کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں آئی سی سی اور بنگلادیشی بورڈ کے درمیان تجاویز کا باضابطہ تبادلہ بھی ہوا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پورے عمل میں رابطہ کار کا کردار ادا کیا اور فریقین کے درمیان پل کا کام کیا۔ ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ آئی سی سی بورڈ سے ان تجاویز کی حتمی منظوری حاصل کریں گے۔

دوسری جانب بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی ڈھاکا میں اپنی حکومت کو لاہور میں ہونے والے مذاکرات اور پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ فارمولے پر اتفاق کے بعد آج دوپہر آئی سی سی اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان دوبارہ رابطہ متوقع ہے، جس کے بعد پاک بھارت میچ سے متعلق حتمی سمت واضح ہو سکتی ہے۔

کرکٹ ماہرین کی رائے

کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان ایک اسٹریٹجک اور مضبوط قدم تھا، جس نے آئی سی سی کو سنجیدگی سے مذاکرات پر مجبور کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی کرکٹ میں پہلی بار کسی بورڈ نے اجتماعی مفاد کے لیے اس قدر واضح مؤقف اپنایا، جس کا اثر فوری طور پر سامنے آیا۔

ماہرین کے مطابق بنگلادیش کے معاملے پر آئی سی سی کا رویہ ابتدا میں غیر لچکدار تھا، مگر پاکستان کی مداخلت نے اس توازن کو بدل دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ازالے کا مجوزہ فارمولہ منظور ہو جاتا ہے تو یہ مستقبل میں چھوٹے بورڈز کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق پاک بھارت میچ کا ممکنہ انعقاد کڑی شرائط کے ساتھ ہونا اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اب فیصلے یکطرفہ نہیں بلکہ مشاورت اور دباؤ کے تحت ہوں گے، جو عالمی کرکٹ کے لیے مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا یہ تنازع محض ایک میچ یا دو ٹیموں کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی کرکٹ کی طاقت کے توازن کا امتحان بن چکا ہے۔ پاکستان نے جس ثابت قدمی سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا، اس نے آئی سی سی کی روایتی بالادستی کو پہلی بار کھل کر چیلنج کیا ہے۔

لاہور میں ہونے والے پانچ گھنٹے طویل مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ آئی سی سی کو اب صرف بڑے بورڈز کی نہیں بلکہ اجتماعی ساکھ کی بھی فکر لاحق ہو چکی ہے۔ بنگلادیش کے معاملے پر ازالے کا فارمولہ دراصل ایک اعتراف ہے کہ ابتدائی فیصلہ متنازع اور کمزور تھا۔

اگر پاک بھارت میچ طے پاتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی اور کرکٹ حکمتِ عملی کی کامیابی ہوگی، لیکن یہ بھی واضح رہے کہ یہ میچ اب محض کھیل نہیں رہے گا بلکہ ہر گیند کے ساتھ سیاست، دباؤ اور اصولوں کی بازگشت سنائی دے گی۔

یہ پیش رفت عالمی کرکٹ کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر بورڈز متحد ہوں تو آئی سی سی کو بھی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا یہ لچک عارضی ہے یا واقعی عالمی کرکٹ ایک زیادہ متوازن دور میں داخل ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین