جوا پروموشن کیس میں اہم پیش رفت، ڈکی بھائی، اہلیہ اور دیگر پر فردِ جرم، الزامات تسلیم کرنے سے انکار

عدالت میں آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جانے کا امکان ہے

لاہور:لاہور کی مقامی عدالت نے آن لائن جوئے کی تشہیر سے متعلق مقدمے میں معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی، ان کی اہلیہ عروب جتوئی اور دیگر نامزد ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت نے کیس کی سماعت کی، جس دوران سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی سمیت تمام ملزمان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت 23 فروری تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ این سی سی آئی اے نے سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی اور دیگر ملزمان کے خلاف آن لائن جوئے کی ویب سائٹس کی پروموشن کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں غیر قانونی ڈیجیٹل تشہیر کے ذریعے جوئے کے فروغ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

عدالت میں آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد مقدمے کی مزید پیش رفت متوقع ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق آن لائن جوئے کی تشہیر پاکستان کے موجودہ سائبر قوانین کے تحت ایک سنجیدہ جرم تصور کی جاتی ہے، خاص طور پر اگر یہ تشہیر سوشل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر کی گئی ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فردِ جرم عائد ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عدالت نے تفتیشی ادارے کے شواہد کو ابتدائی طور پر قابلِ سماعت سمجھا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق صحتِ جرم سے انکار ملزمان کا قانونی حق ہے، تاہم مقدمے کا اصل دارومدار استغاثہ کے گواہوں، ڈیجیٹل شواہد اور مالی لین دین کے ریکارڈ پر ہوگا۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ آن لائن جوئے کی ویب سائٹس کی دانستہ تشہیر کی گئی تو سزا جرمانے سے لے کر قید تک جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے، کیونکہ پہلی بار بڑے ناموں کو آن لائن جوا پروموشن کے الزامات پر اس سطح کی عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

ڈکی بھائی کے خلاف جوا پروموشن کیس محض ایک فرد یا یوٹیوبر کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ سوشل میڈیا کے بدلتے ہوئے کردار اور اس پر ریاستی کنٹرول کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز برسوں سے تشہیر، اسپانسرشپ اور پروموشن کے نام پر قانونی حدود کو نظرانداز کرتے آئے ہیں، مگر اب لگتا ہے کہ یہ دائرہ تنگ ہو رہا ہے۔

فردِ جرم عائد ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارے اب صرف وارننگ تک محدود نہیں رہے بلکہ قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک لے جانا چاہتے ہیں۔ این سی سی آئی اے کی جانب سے اس کیس کو آگے بڑھانا دیگر ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ فالوورز کی تعداد قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس نہیں۔

یہ کیس آنے والے وقت میں یہ طے کرے گا کہ آیا پاکستان میں ڈیجیٹل انفلوئنسر کلچر خود کو قانون کے دائرے میں لاتا ہے یا پھر مزید سخت ضوابط نافذ کیے جائیں گے۔ عدالت کا حتمی فیصلہ نہ صرف ڈکی بھائی بلکہ پورے سوشل میڈیا ایکو سسٹم کے لیے ایک ریفرنس پوائنٹ بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین