شیخ حسینہ کے بعد بنگلادیشی نوجوان بھارت کے اثر و رسوخ سے دور ہونے لگے،بی بی سی رپورٹ

بھارت نے ہمیشہ اپنے مفادات کو فوقیت دی اور بنگلادیش کی خودمختاری کو ثانوی حیثیت دی

ڈھاکا:بی بی سی کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بنگلادیش میں نوجوان نسل کے درمیان بھارت کے خلاف ناراضی اب ایک واضح اور کھلے رجحان کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلادیشی نوجوان بھارت کی جانب سے سیاسی مداخلت، داخلی معاملات میں اثراندازی، سرحدی تشدد اور خطے میں بالادستی کے رویے کو مسترد کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ بھارت نے ہمیشہ اپنے مفادات کو فوقیت دی اور بنگلادیش کی خودمختاری کو ثانوی حیثیت دی۔

بی بی سی کے مطابق نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ بھارت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کی حمایت کر کے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا اور ریاستی جبر کے تسلسل میں بالواسطہ کردار ادا کیا۔ ان کے نزدیک یہ حمایت عوامی رائے کے بجائے طاقت کے مراکز کو مضبوط کرنے کے مترادف تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متنازع انتخابات کے بعد بھارت کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جو جمہوریت کے بجائے اپنے علاقائی اور اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی تناظر میں نوجوانوں میں بھارت کے بارے میں شکوک اور بداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔

بی بی سی کے مطابق یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ جیسے ہی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، ویسے ہی بنگلادیش میں بھارت کا سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ کمزور پڑنے لگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو پناہ دینے، سرحدی علاقوں میں ہلاکتوں، آبی وسائل سے متعلق تنازعات، ویزا پابندیوں اور تجارتی دباؤ جیسے اقدامات نے بنگلادیشی عوام خصوصاً نوجوانوں کے غصے میں مزید اضافہ کیا۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی نوجوان اب دوٹوک انداز میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کے ملک کے فیصلے ڈھاکا میں ہوں گے، نہ کہ دہلی میں۔ نوجوانوں کے مطابق خطے میں تعلقات کی بنیاد برابری اور احترام ہونی چاہیے، نہ کہ دباؤ، مداخلت اور بالادستی۔

علاقائی و سفارتی ماہرین کی رائے

علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق بنگلادیش میں نوجوانوں کا بھارت کے خلاف کھل کر بولنا ایک غیر معمولی مگر فطری تبدیلی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک شیخ حسینہ کی حکومت کو بھارتی حمایت حاصل رہی، جس کے باعث ریاستی پالیسیوں پر دہلی کے اثرات کا تاثر مضبوط ہوا۔

سفارتی ماہرین کے مطابق متنازع انتخابات، سرحدی واقعات، آبی تنازعات اور معاشی دباؤ نے بھارت کی سافٹ پاور کو شدید نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر نوجوان طبقے میں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل اب روایتی سفارتی بیانیے کے بجائے خودمختاری، شفافیت اور برابری کو ترجیح دے رہی ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بھارت نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو مستقبل میں بنگلادیش کے ساتھ تعلقات محض ریاستی سطح تک محدود ہو سکتے ہیں، جبکہ عوامی سطح پر اعتماد بحال کرنا مشکل ہو جائے گا۔

بی بی سی کی یہ رپورٹ دراصل ایک خاموش مگر گہری تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ بنگلادیشی نوجوانوں کا بھارت کے خلاف کھل کر سامنے آنا محض وقتی غصہ نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہونے والی ناراضی کا اظہار ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو ماضی کی جنگوں یا تاریخی بیانیوں سے زیادہ اپنے حال اور مستقبل کو دیکھ رہی ہے۔

شیخ حسینہ کے دور میں بھارت کو بنگلادیش میں غیر معمولی سیاسی اثر حاصل رہا، مگر اسی اثر نے بھارت کو عوامی سطح پر غیر مقبول بنا دیا۔ نوجوانوں کے نزدیک یہ حمایت جمہوریت کے تحفظ کے بجائے طاقت کے تسلسل کی علامت بن گئی، جس نے بھارت کے کردار کو مشکوک کر دیا۔

آج بنگلادیشی نوجوانوں کا یہ کہنا کہ فیصلے ڈھاکا میں ہوں گے، دہلی میں نہیں، دراصل خطے کے طاقت کے توازن میں ایک علامتی تبدیلی ہے۔ یہ پیغام صرف بھارت کے لیے نہیں بلکہ تمام علاقائی طاقتوں کے لیے ہے کہ نئی نسل دباؤ، بالادستی اور پسِ پردہ اثراندازی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اگر بھارت اس بدلتے ہوئے مزاج کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں بنگلادیش کے ساتھ تعلقات رسمی تو رہیں، مگر دلوں سے نکل جائیں۔ یہ صورتحال جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہو سکتی ہے، جہاں عوامی رائے ریاستی فیصلوں پر پہلے سے کہیں زیادہ اثر انداز ہو گی

متعلقہ خبریں

مقبول ترین