اسلام آباد:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نائن الیون جیسے بڑے عالمی سانحے کے باوجود آج تک اس کے اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس واقعے میں نہ کوئی افغان، نہ پشتون اور نہ ہی ہزارہ ملوث تھا، اس کے باوجود پاکستان نے اس کے بعد دو دہائیوں تک کرائے کی جنگیں لڑیں اور پھر استعمال ہو کر تنہا چھوڑ دیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور راجہ پرویز اشرف کی کئی باتوں سے وہ اختلاف نہیں کرتے۔ انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان ویزے کی پابندی نہیں تھی اور لوگ اجازت نامے پر آمدورفت کرتے تھے، وہ خود بھی بغیر ویزا افغانستان جا چکے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین پر لڑی جانے والی دو بڑی جنگوں کا فریق بنا، حالانکہ روسی افواج افغان حکومت کی دعوت پر وہاں آئیں تھیں اور اس دور میں کسی جہاد کا تصور نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ دراصل عالمی طاقتوں کی جنگ تھی جس میں خطے کو مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نائن الیون افغانستان نے نہیں کرایا، لیکن اس کے بعد ہم ایک طویل عرصے تک کرائے کی جنگ کا حصہ بنتے رہے۔ ایک فرد کی خوشنودی کے لیے پاکستان کو امریکا کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا گیا، جس کے نتائج آج تک قوم بھگت رہی ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ آج تک ہم اپنا تعلیمی نصاب درست سمت میں واپس نہیں لا سکے اور تاریخ کو مسخ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا، مگر اس کے باوجود ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ افغانستان میں پاکستان نے کوئی جہاد نہیں لڑا بلکہ ایک سپر پاور کی جنگ کا حصہ بنا، جس کے بعد ہمیں استعمال کر کے الگ کر دیا گیا۔
انہوں نے ایوان میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے والد کے کیے پر اسی پارلیمان میں معافی مانگی، جبکہ اعجاز الحق نے ان کے بارے میں کیا کہا، وہ نہیں جانتے۔ وزیر دفاع نے قائد اعظم کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد، تنظیم اور ایمان کا نعرہ دیا گیا تھا مگر ہم نے اس ترتیب کو بھی الٹ دیا۔
آخر میں خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ ہم غیر ملکی حملہ آوروں کے نام پر سڑکیں بناتے ہیں، مگر اپنے اصل ہیروز کو تسلیم کرنے سے کیوں گریز کرتے ہیں؟
ماہرین کی رائے
دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان نے پاکستان کی دو دہائیوں پر محیط خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کا فرنٹ لائن اسٹیٹ بننا ایک وقتی اسٹریٹجک فیصلہ تھا، جس کے طویل المدتی نتائج نہ صرف سیکیورٹی بلکہ معیشت اور سماجی ہم آہنگی پر بھی مرتب ہوئے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق افغانستان کی جنگ کو مذہبی تناظر میں پیش کرنے کے بجائے ایک عالمی طاقتوں کی جنگ سمجھنا زیادہ حقیقت پسندانہ مؤقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان، پشتون یا ہزارہ برادری کو نائن الیون سے جوڑنا تاریخی اور تحقیقی طور پر درست نہیں، اور اس بیانیے نے خطے میں نسلی اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کیا۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ نصاب اور تاریخ میں کی گئی تبدیلیاں وقتی سیاسی مفادات کا نتیجہ تھیں، جنہوں نے نئی نسل کو الجھن اور فکری انتشار میں مبتلا کیا۔ اب ریاستی سطح پر خود احتسابی اور پالیسی ریویو ناگزیر ہو چکا ہے۔
خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان دراصل ایک طویل خاموشی کے بعد ریاستی سطح پر کیا جانے والا اعتراف ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے جو راستہ اختیار کیا، اس کا فیصلہ شاید چند افراد نے کیا، مگر اس کی قیمت پوری قوم نے ادا کی۔
یہ کہنا کہ نائن الیون میں کوئی افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں تھا، ایک نہایت اہم نکتہ ہے کیونکہ برسوں تک اسی بیانیے کی بنیاد پر جنگیں لڑی گئیں، بستیاں اجڑیں اور لاکھوں زندگیاں متاثر ہوئیں۔ اس کے باوجود اصل کردار آج تک منظرِ عام پر نہ آ سکے۔
افغانستان کی جنگ کو جہاد کے بجائے سپر پاورز کی جنگ قرار دینا اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ پاکستان نے دوسروں کی لڑائی اپنے کندھوں پر اٹھائی۔ امریکا کی جانب سے چھوڑ دیے جانے کے بعد بھی اگر ہم نے سبق نہیں سیکھا تو یہ محض خارجی دباؤ نہیں بلکہ ہماری داخلی کمزوریوں کی علامت ہے۔
خواجہ آصف کا یہ سوال کہ ہم اپنے ہیروز کو اپنا ہیرو کیوں نہیں مانتے، دراصل ایک فکری بحران کی طرف اشارہ ہے۔ جب قومیں اپنی شناخت دوسروں کے بیانیے سے مستعار لیتی ہیں تو ان کی سمت کھو جاتی ہے۔
یہ بیان اگر محض تقریر تک محدود رہا تو تاریخ خود کو دہرائے گی، لیکن اگر اسے پالیسی، نصاب اور قومی سوچ میں تبدیلی کا نقطۂ آغاز بنایا گیا تو شاید آئندہ نسلیں کرائے کی جنگوں کا ایندھن نہ بنیں۔





















