تحریر:ڈاکٹر سعدیہ بشیر
پاکستان میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت، قومی شناخت اور نوجوان نسل کے خوابوں کی ترجمان ہے۔ گلی محلوں سے لے کر بین الاقوامی سٹیڈیمز تک کرکٹ ہر پاکستانی کے جذبات سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں جب کسی پسماندہ یا کم معروف علاقے سے تعلق رکھنے والا نوجوان اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر قومی ٹیم تک رسائی حاصل کرتا ہے۔تو پورے نظام کے لیے ایک امید افزا پیغام بھی بن جاتا ہے۔ ضلع نارووال سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بائولر عبد الواحد کی قومی ٹیم میں شمولیت اسی تناظر میں اہم پیش رفت اور خوش کن پہلو ہے۔ عبد الواحد کا شمار ان نوجوان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے محدود وسائل، کم سہولیات اور سخت مقابلے کے باوجود اپنے خواب کو زندہ رکھا۔ نارووال جیسے اضلاع ماضی میں کرکٹ کے بڑے مراکز نہیں سمجھے جاتے تھے۔ جہاں نہ تو جدید اکیڈمیز موجود تھیں اور نہ ہی باقاعدہ سکاؤٹنگ کا نظام۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جب ڈسٹرکٹ اور ریجنل سطح پر کرکٹ کا ڈھانچہ فعال ہوا تو ایسے علاقوں سے بھی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آنے لگے۔ عبد الواحد کی کہانی اسی بدلتے ہوئے نظام کی عملی مثال ہے۔

فاسٹ بائولنگ کرکٹ کا وہ شعبہ ہے جو پاکستان کی پہچان بھی رہا ہے اور چیلنج بھی۔ وسیم اکرم سے لے کر وقار یونس اور بعد ازاں شاہین آفریدی تک، پاکستان نے دنیا کو کئی تیز گیند باز دیے ہیں۔ مگر جدید کرکٹ میں فاسٹ بائولنگ صرف رفتار کا نام نہیں رہی۔ آج اس کے ساتھ لائن و لینتھ، سوئنگ، ریورس، فٹنس، ورک لوڈ مینجمنٹ اور ذہنی مضبوطی جیسے عوامل بھی لازم سمجھے جاتے ہیں۔ عبد الواحد نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ان تقاضوں کو سمجھتے ہیں اور دبائو میں بھی موثر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سپورٹس رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے حالیہ برسوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کا قیام، ڈیجیٹل پرفارمنس ڈیٹا کا استعمال، میچ فٹنس رپورٹس اور کھلاڑیوں کی سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ)پر توجہ ان اصلاحات کا اہم حصہ ہیںان اقدامات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو ابتدائی مرحلے سے ہی بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جائے تاکہ قومی ٹیم کو طویل المدتی بنیادوں پر فائدہ پہنچے۔فاسٹ بائولرز کے لیے ہائی پرفارمنس سینٹرز میں بائولنگ ایکشن اینالیسس، ویڈیو ٹیکنالوجی، انجری پریوینشن پروگرامز اور سپورٹس سائنس کی مدد سے تربیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ماضی میں کئی باصلاحیت فاسٹ بائولرز انجریز اور غلط مینجمنٹ کے باعث جلد منظر سے ہٹ گئے۔ تاہم موجودہ نظام میں اس پہلو پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل دور نے کرکٹ میں شفافیت اور مواقع دونوں میں اضافہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب اور آن لائن سپورٹس پلیٹ فارمز کے ذریعے اب ڈومیسٹک میچز کی جھلکیاں، سکور کارڈز اور تجزیے عام دستیاب ہوتے ہیںاس سے ایک طرف شائقین کو آگاہی ملتی ہے تو دوسری جانب سلیکٹرز اور کوچز کو کھلاڑیوں کی کارکردگی جانچنے میں آسانی ہوتی ہے۔عبد الواحد جیسے کھلاڑیوں کے لیے یہ ڈیجیٹل نمائش ایک اضافی موقع ثابت ہو رہی ہے، جہاں کارکردگی چھپتی نہیں بلکہ سامنے آتی ہے۔
کسی بھی نوجوان کھلاڑی کی قومی ٹیم تک رسائی ایک اجتماعی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس میں والدین کی قربانیاں، کوچز کی محنت، مقامی کرکٹ کلبوں کا کردار اور اداروں کی سرپرستی شامل ہوتی ہے۔یہ طے ہے کہ کرکٹ پاکستان کے لیے کھیل سے زیادہ ترقی و خود اعتمادی کا خالص مظاہرہ ہے۔ کھیل کے میدان سے تربیت گاہ منسلک ہے۔ہمیں قابل اور محنتی لوگوں کو آگے لانا ہے جو اخلاقی روایات اور محنت کے پاسدار ہوں۔اس عمل کے یقیناً دور رس اثرات دیکھنے میں آئیں گے۔ نارووال جیسے اضلاع سے کھلاڑیوں کا قومی سطح تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نظام شفاف، تسلسل پر مبنی اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق ہو تو ٹیلنٹ کسی مخصوص شہر یا پس منظر تک محدود نہیں رہتا۔قومی ٹیم میں عبد الواحد کی شمولیت نہ صرف نوجوان کرکٹرز کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہے بلکہ پالیسی ساز اداروں کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کو مزید مضبوط کریں۔ اگر ضلعی سطح پر سہولیات، کوچنگ اور مقابلوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے تو مستقبل میں مزید ایسے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں جو پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کریں۔نارووال کے فاسٹ بائولر عبد الواحد تکنیک، ذہانت اور مثبت رویے کی بدولت عوامی سطح ، خاص طور پر نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔ پی ٹی وی، ایل سی سی اے، نیشنل بینک اور دیگر قومی سطح کی ٹیموں کی نمائندگی اور حالیہ سیریز میں کے۔آر۔ایل کو ایک تاریخی فتح دلانے میں عبد الواحد کا اہم کردار ہے۔وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ 140 سے زیادہ سپیڈ کے ساتھ بال کو دونوں طرف گھمانے کی منفرد صلاحیت کی بدولت عبد الواحد کرکٹ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں اور قوم کو ان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ اس ٹیلنٹ کو کلب کی سیاست اور دھڑے بندیوں کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔عبد الواحد کی کامیابی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ محنت، نظم و ضبط اور درست سمت میں رہنمائی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے امید کی علامت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس امید کو مستقل پالیسی، جدید ٹیکنالوجی، شفاف سلیکشن اور ادارہ جاتی استحکام کے ذریعے مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل محفوظ، مستحکم اور تابناک رہے۔





















