لاہور:ڈپٹی چئیرمین بورڈ نظام المدارس پاکستان خرم نواز گنڈا پور نےکہا ہےکہ قیام پاکستان کے بعد 76 برس تک مدارس دینہ کو ریاستی سرپرستی سے مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ مدارس دینیہ اسلام کی علمی وراثت کے محافظ ہیں۔اس کے باوجود مدارس دینیہ نے محدود وسائل میں دینی تعلیم کے فروغ اور معاشرتی تشکیل میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نظام المدارس پاکستان کے زیر اہتمام 5 ویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ بروقت اصلاحات نہ ہونے کے باعث مدارس کے حوالے سے شکوک و شبہات نے جنم لیا تاہم نظام المدارس پاکستان نے محض5 سال کے مختصر عرصے میں ان خدشات کو عملی اقدامات کے ذریعے دور کیا اور جدید تقاضوںسے ہم آہنگ نصاب نافذ کر کے تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان ڈاکٹر میر آصف اکبر نے کہاکہ نظام المدارس نے گزشتہ پانچ برسوں میں12 ہزار سے زائد طلبہ کو 40 جدید اور تکنیکی کورسز کروائے تاکہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ باعزت روزگار حاصل کرنے کے قابل بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نظام المدارس پاکستان کو تقریباً پونے تین سو سال پرانے دینی نصاب کی جدید اور عصر تشکیل کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ان اصلاحات کے ذریعے مدارس دینیہ کے لاکھوں طلبہ کو قومی تعلیمی اور ترقیاتی دھارے میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ نائب ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رفیق نجم نے کہا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سرپرستی میں مدارس دینیہ کے نصاب کو بدلنے کا موقع ملا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری راہنمائی کی وجہ سے مدارس دینیہ کے نصاب میں امن کی اسلامی فلاسفی کو بطور مضمون شامل کیا یگیا۔
نائب ناظم اعلیٰ میڈیا افئیرز نوراللہ صدیقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس اسلام کی درخشندہ علمی وراثت کے امین اور محافظ ہیں،مدارس دینیہ دنیا کی واحد سب سے بڑی این جی او ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت لاکھوں طلبہ کو علم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ امتحانا ت کی آن لائن مانیٹرنگ سمیت نظام المدارس نے جدید ٹکنیکس اپنائیں۔سیمینار میںسٹیج سیکرٹری کے فرائض ناظم امتحانات علامہ عین الحق بغدادی نے انجام دیے، سیمینار میں راجہ زاہد محمود، صدر تحریک منہاج القرآن لاہور اقبال باجوہ، جواد حامد، کرنل( ر) خالد حیات، ،نوراللہ صدیقی، میاں ریحان مقبول ، عارف چودھری،صدر لاہور پی اے ٹی انجینئر ملک احمد اخوان اعوان ، علامہ اشفاق چشتی، میاں عبدالقادر و دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔





















