ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوعمر عمر میں تعلیمی دباؤ نوجوانوں کی ذہنی صحت پر گہرے اور طویل مدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ طلبہ جو 15 سال کی عمر میں شدید تعلیمی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، ان میں ابتدائی جوانی تک ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسکول اور امتحانات سے متعلق غیر معمولی دباؤ ذہنی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تعلیمی دباؤ صرف وقتی پریشانی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ خود کو نقصان پہنچانے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ رجحان 24 سال کی عمر تک برقرار رہ سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم عمری کا دباؤ ذہنی صحت پر دیرپا اثر چھوڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین اور تعلیمی اداروں کو کارکردگی کے حوالے سے حد سے زیادہ توقعات قائم کرنے کے بجائے متوازن ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق تعلیمی کامیابی اہم ضرور ہے، لیکن ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسکولوں میں کونسلنگ سسٹم کو مؤثر بنایا جائے اور نوجوانوں کو دباؤ سے نمٹنے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ تعلیمی چیلنجز کا سامنا صحت مند انداز میں کر سکیں۔
ماہرینِ نفسیات اور تعلیم کی تفصیلی رائے
ماہرینِ نفسیات کے مطابق نوعمر عمر میں دماغ تیزی سے نشوونما پا رہا ہوتا ہے، ایسے میں مستقل تعلیمی دباؤ اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 15 سال کی عمر میں امتحانات، گریڈز اور مقابلے کا دباؤ نوجوانوں میں بے چینی، کم خود اعتمادی اور مایوسی پیدا کر سکتا ہے۔
تعلیم کے ماہرین کے مطابق موجودہ نظام میں کارکردگی کو کامیابی کا واحد پیمانہ بنا دیا گیا ہے، جس سے طلبہ پر غیر ضروری بوجھ بڑھ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر نوجوان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ناکامی ناقابل قبول ہے تو وہ ذہنی طور پر ٹوٹ سکتا ہے۔
نفسیاتی ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ تحقیق میں سامنے آنے والا رجحان کہ دباؤ 24 سال کی عمر تک اثر انداز رہ سکتا ہے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نوعمری کے تجربات زندگی بھر کے ذہنی رویوں کو شکل دیتے ہیں۔ اسی لیے اسکولوں میں کونسلنگ سروسز، جذباتی سپورٹ سسٹمز اور والدین کی آگاہی ناگزیر ہے۔
ہماری معاشرت میں تعلیم کو کامیابی کی کنجی سمجھا جاتا ہے، جو یقیناً درست ہے، مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب تعلیم کامیابی کے بجائے دباؤ کا ذریعہ بن جائے۔ 15 سال کی عمر وہ مرحلہ ہوتا ہے جب نوجوان اپنی شناخت تشکیل دے رہا ہوتا ہے۔ اگر اسی مرحلے پر اسے مسلسل مقابلے اور ناکامی کے خوف میں رکھا جائے تو اس کے اثرات فطری طور پر طویل مدتی ہوں گے۔
یہ تحقیق دراصل ہمارے تعلیمی نظام کے ایک خاموش بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ گریڈز کی دوڑ، بورڈ امتحانات، والدین کی توقعات اور سوشل میڈیا کا موازنہ یہ سب مل کر نوجوان ذہن کو ایک ایسے دباؤ میں دھکیل دیتے ہیں جہاں کامیابی خوشی نہیں بلکہ خوف بن جاتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ تعلیمی دباؤ خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان سے بھی جڑا ہوا پایا گیا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے۔ اگر ہم نے تعلیم کو انسانی ترقی کے بجائے صرف نمبروں کا کھیل بنا دیا تو ہم ایک ذہنی طور پر کمزور نسل تیار کریں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم اور ذہنی صحت کے درمیان توازن پیدا کریں۔ کامیابی ضروری ہے، مگر ذہنی سکون اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔





















