راولپنڈی:190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ آج بھی سنایا نہیں جا سکا، سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اب یہ فیصلہ 17 جنوری کو سنایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق، اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کیس کی سماعت کی۔ نیب کے پراسیکیوٹر چوہدری نذر اور ان کی لیگل ٹیم کے ارکان عرفان احمد، سہیل عارف، اور اویس ارشد کے علاوہ عدالت کا عملہ بھی سماعت کے لیے موجود تھا۔ عمران خان کے وکلا، جن میں سلمان اکرم راجا بھی شامل تھے، اڈیالہ جیل پہنچے، لیکن عمران خان اور بشریٰ بی بی کی غیر حاضری کے باعث عدالت نے ایک بار پھر کیس کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جہاں پولیس کی اضافی نفری، لیڈیز اہلکار، اور ایلیٹ فورس کے دستے تعینات کیے گئے تھے۔ جیل کے گیٹ نمبر 5 پر سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں کی بھی تلاشی لی گئی۔
عدالت میں عمران خان کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی پیش ہوئیں، تاہم عمران خان اور بشریٰ بی بی خود پیش نہ ہوئے۔ جج ناصر جاوید رانا نے دوران سماعت کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو دو بار پیغام بھیجا گیا، لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا، "میں ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے جیل پہنچا تھا، اب ساڑھے دس بج چکے ہیں لیکن ملزمان اور ان کے وکلا موجود نہیں۔”
بعد ازاں بشریٰ بی بی جیل پہنچیں، تاہم وہ جیل کے اندر داخل ہوئے بغیر واپس روانہ ہو گئیں۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ پہلے بھی دو مرتبہ مؤخر ہو چکا ہے۔ آخری سماعت 18 دسمبر 2024 کو ہوئی تھی۔ فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جانا تھا، جو ملتوی کر کے 6 جنوری اور پھر 13 جنوری تک مؤخر کیا گیا۔ آج بھی یہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا اور اب نئی تاریخ 17 جنوری مقرر کی گئی ہے۔
190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا جیل ٹرائل تقریباً ایک سال میں مکمل ہوا۔ عمران خان کو 13 نومبر 2023 کو گرفتار کیا گیا تھا، اور 17 دن تک تفتیش کے بعد یکم دسمبر 2023 کو نیب نے یہ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا۔
27 فروری 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی گئی۔ کیس کے دوران 35 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے، جن میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال شامل تھے۔
ریفرنس کے دوران چار بار جج تبدیل ہوئے۔ ابتدائی طور پر جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی، جس کے بعد جج ناصر جاوید رانا نے سماعت سنبھالی۔ پھر یہ کیس جج محمد علی وڑائچ کو منتقل ہوا، اور بعد میں دوبارہ جج ناصر جاوید رانا کے پاس آیا۔
یہ اہم کیس اب بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا اور عوام اس فیصلے کا انتظار کر رہی ہے





















