وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان چارٹر آف ڈیمانڈ (پی ٹی آئی) کی جانب سے حکومتی کمیٹی کو پیش کیا جانے والا چارٹر آف ڈیمانڈ جھوٹ اور پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آج حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیوں کے درمیان ملاقات ہوئی، جس دوران تحریک انصاف نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ یہ چارٹر آف ڈیمانڈ میڈیا کے ذریعے کمیٹی کو دینے سے پہلے عوامی سطح پر جاری کیا گیا تھا۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم کمیٹی اس کا جواب دے گی۔ وزیراعظم نے تمام اتحادیوں کو شامل کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس معاملے پر ایک مکمل اور حتمی جواب تیار کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات میں سے دو اہم مطالبات شامل تھے، جن میں سے پہلا مطالبہ تھا کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے، مگر پی ٹی آئی نے اس مطالبے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ دوسرا مطالبہ تھا کہ تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں، مگر پی ٹی آئی نے کسی ورکر کا نام یا ایف آئی آر نمبر فراہم نہیں کیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 9 مئی کی گرفتاریوں پر سپریم کورٹ پہلے ہی کارروائی کر چکا ہے، اور اس سے متعلق مشہور "گڈ ٹو سی یو” والا معاملہ بھی اسی کیس میں تھا، جس پر چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا۔ یہ معاملہ اب ختم ہو چکا ہے اور اس پر مزید کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو مقدمات ملٹری کورٹ میں چل رہے تھے، ان میں فیصلے ہو چکے ہیں، اور کمیشن کا مینڈیٹ ان کیسز پر اثرانداز ہونے کا نہیں ہے۔ کمیشن صرف وہ کیسز دیکھ سکتا ہے جو عدالتوں میں زیر سماعت ہوں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ ایک ماہ سے یہ پروپیگنڈا کیا کہ ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں، مگر وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت یا نام دینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر اتنے لوگ غائب یا ہلاک ہوئے ہوتے تو ان کے خاندان ڈی چوک میں بیٹھے ہوتے۔ دو ماہ گزرنے کے باوجود، پی ٹی آئی ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے نام فراہم نہیں کر سکی، جو کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔ ہم نے اس لسٹ کا مطالبہ کیا تھا اور انہوں نے اسے دینے کا وعدہ کیا تھا۔





















