لاہور:پنجاب حکومت نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور منظم جرائم کی روک تھام کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں پہلا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) بنانے کی منظوری دے دی، جو جدید ٹیکنالوجی اور ڈرون سرویلنس سے لیس ہوگا۔ یہ نیا ادارہ سات بڑے جرائم جیسے قتل، زیادتی، ڈکیتی، راہ زنی اور قبضہ مافیا کے خلاف فوری کارروائی کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے منظم جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صوبے میں پہلے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا مقصد سات بڑے جرائم میں نمایاں کمی لانا ہے، جن میں قتل، زیادتی، ڈکیتی، راہ زنی، شوٹر مافیا، قبضہ مافیا اور منظم چوری شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا گیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا اور ڈرون سرویلنس کے ذریعے جرائم پر گہری نظر رکھے گا۔ اس کے علاوہ یہ نیا محکمہ جرائم اور مجرموں کا مکمل ڈیٹا مینجمنٹ بھی کرے گا، تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر حکمت عملی اختیار کر سکیں۔
وزیراعلیٰ نے ڈیپارٹمنٹ کے لیے نئی عمارتوں، گاڑیوں، جدید آلات اور تعیناتیوں کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس کا سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہوگا، جبکہ تین ڈی آئی جی، ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ایس ایس پی اور ایس پی، اور ہر ضلع میں ایک ڈی ایس پی تعینات کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر 4258 افسران اور اہلکاروں پر مشتمل یہ ڈیپارٹمنٹ مؤثر انداز میں کام کرے گا۔ ابتدائی مرحلے میں 2258 پولیس افسران اور اہلکاروں کو پنجاب پولیس سے منتقل کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے فوری قیام اور اس کے لیے قانون سازی سمیت تمام وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا ادارہ صوبے میں جرائم میں نمایاں کمی لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ افراد میں واضح خوف نظر آنا چاہیے، اور عوام کے تحفظ کے لیے وسائل کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔ جرم پر قابو پانے کے لیے بہترین اور جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کی جائے گی، تاکہ صوبے کو ایک محفوظ اور پرامن خطہ بنایا جا سکے۔





















