چین نے کورونا وائرس کے آغاز کے بارے میں ایک وائٹ پیپر جاری کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وائرس کا آغاز ممکنہ طور پر امریکا سے ہوا۔ چین نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابق وائرس کا چینی لیب سے پھیلنے کا امکان کم ہے، اور امریکا اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہا ہے۔ چین نے الزام لگایا کہ وائرس چین میں رپورٹ ہونے سے پہلے ہی امریکا میں موجود تھا۔
چین نے کورونا وائرس (کووڈ-19) کے آغاز کے بارے میں ایک وائٹ پیپر جاری کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین نے اس وائٹ پیپر میں ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا کہ کورونا وائرس کا آغاز ممکنہ طور پر امریکا سے ہوا تھا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے شائع کردہ اس وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ امریکا نے کورونا کے آغاز کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
وائٹ پیپر میں زور دیا گیا کہ عالمی ادارہ صحت اور چین کی مشترکہ تحقیق میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اس وائرس کا کسی چینی لیبارٹری سے پھیلنے کا امکان بہت کم ہے۔
وائٹ پیپر میں امریکا پر الزام لگایا گیا کہ وہ بین الاقوامی برادری کے جائز سوالوں کا جواب دینے کے بجائے ان سے نظریں چراتا رہا ہے۔چین نے دعویٰ کیا کہ اس نے کورونا کے بارے میں تمام ضروری معلومات بروقت عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ شیئر کیں۔
وائٹ پیپر میں مزید کہا گیا کہ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ چین میں کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے سے پہلے ہی یہ وائرس امریکا میں موجود تھا۔چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک بیان کے مطابق کورونا کے پھیلاؤ کی حقیقت جاننے کے اگلے مرحلے میں امریکا پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ الزام اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ماہ امریکی حکومت نے ایک ویب سائٹ شروع کی، جس میں کہا گیا کہ چینی شہر ووہان کی کسی لیبارٹری میں ہونے والا واقعہ عالمی وبا کا سب سے زیادہ ممکنہ سبب ہے۔





















