پاک بھارت جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخ کی سب سے بڑی تیزی دیکھنے میں آئی۔ صرف دو منٹ کے اندر ریکارڈ پوائنٹس کے اضافے نے پرانے تمام ریکارڈز توڑ دیے اور مارکیٹ میں اتنا جوش دیکھا گیا کہ کاروبار کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کرنا پڑا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مثبت اثرات پاکستان کی مضبوط دفاعی حکمت عملی اور بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کے مطابق، پاک بھارت جنگ بندی کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا آغاز ریکارڈ تیزی کے ساتھ ہوا، جس نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ 100 انڈیکس میں 10 ہزار 100 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ یہ 1 لاکھ 17 ہزار 275 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا1 لاکھ 17 ہزار 275 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
کاروبار کے آغاز کے ابتدائی صرف 2 منٹ میں اتنی تیزی دیکھنے میں آئی کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے کاروباری سرگرمیاں ایک گھنٹے کے لیے روک دی گئیں۔ پی ایس ایکس کے قواعد کے مطابق، جب کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو تو خودکار طریقے سے کاروبار عارضی طور پر معطل کر دیا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت 9 بج کر 37 منٹ پر مارکیٹ معطل ہوئی، جو 10 بج کر 42 منٹ پر دوبارہ بحال کی گئی۔
کاروبار کی بحالی کے بعد بھی تیزی کا رجحان جاری رہا، اور 100 انڈیکس مزید 9475 پوائنٹس بڑھ کر 116650 پوائنٹس تک جا پہنچا۔ مارکیٹ مسلسل بہتر ہوتی گئی اور 10 ہزار پوائنٹس سے زائد کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔
اس موقع پر معروف مالیاتی ماہر عارف حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا غلط الزام پاکستان پر لگا کر اپنی عوام کو گمراہ کیا، جبکہ دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستانی فوج اور قوم کس قدر مضبوط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بھارت کی سپر پاور بننے کی خواہش حقیقت سے بہت دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان نے مثبت انداز میں دنیا کے سامنے خود کو منوایا ہے، پاک فوج کی صلاحیتوں کا پیغام دنیا بھر تک پہنچا ہے۔ مسلم دنیا میں بھی پاکستان پر اعتماد مزید بڑھا ہے اور مسلمان عوام کو ایک بار پھر پاکستان پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔
عارف حبیب نے کہا کہ پاکستان نے بہت مہارت کے ساتھ اپنے فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور اس کے بعد بھارت کو دنیا بھر میں خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ پے در پے مثبت خبروں سے ملک میں ایک نیا جوش پیدا ہوا ہے اور قوم میں اتحاد نظر آ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے بجٹ کے حوالے سے اہم اجلاس کیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں صنعتی شعبے اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعظم کی پالیسیوں سے دنیا کو پیغام گیا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور سنجیدہ ملک ہے، اور چین نے بھی واضح طور پر پاکستان کی حمایت کی ہے۔
عارف حبیب نے مزید کہا کہ پاکستان میں کچھ شعبے اب بھی مکمل طور پر استعمال میں نہیں آئے، لیکن وقت آ گیا ہے کہ عام آدمی بھی معاشی ترقی کے فوائد سے مستفید ہو۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ بجٹ میں بہتری کی جھلک نظر آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کم ہو کر 11 فیصد پر آ گئی ہے، جس کی وجہ سے ڈالر میں سرمایہ کاری اب فائدہ مند نہیں رہی، جبکہ ریئل اسٹیٹ بھی ابھی زیادہ متحرک نہیں ہے۔ ایسے وقت میں ایکویٹی مارکیٹ سرمایہ کاری کے لیے بہترین موقع فراہم کر رہی ہے کیونکہ یہاں ہر سطح کے لوگ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کی طرف جانا ہوگا اور "میثاقِ معیشت” کی ضرورت ہے، کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں میں اب زیادہ فرق نہیں رہا۔ تمام جماعتیں اس بات کو تسلیم کر چکی ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر ہی ترقی کا انجن ہے۔
عارف حبیب نے سیاستدانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اختلافات ختم کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر امید کا ماحول پیدا کریں تاکہ نوجوان نسل کا اعتماد بڑھے اور وہ یقین کر سکیں کہ پاکستان صرف دفاعی نہیں بلکہ معاشی طاقت بھی بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات 8 مئی کو اسٹاک مارکیٹ میں 6948 پوائنٹس کی بڑی مندی کی وجہ سے کاروبار معطل کر دیا گیا تھا، جبکہ جمعہ کو بھی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔





















