پشاور: خیبرپختونخوا میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور پرتشدد واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے 128 واقعات مختلف اضلاع میں رپورٹ ہوئے۔
36 بچے تشدد کے باعث جان سے گئے
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ مختلف پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 36 معصوم بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ صوبے میں بچوں کے بنیادی انسانی حقوق خطرے میں ہیں ۔
سنگین نوعیت کے 3 زیادتی و قتل کے کیسز
پولیس ریکارڈ کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے تین سنگین کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جنہوں نے نہ صرف والدین بلکہ پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان مقدمات کو خصوصی توجہ کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی کمی نہ ہو۔
183 گرفتار، 205 ملزمان نامزد
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ان تمام واقعات میں فوری کارروائی کرتے ہوئے 205 افراد کو نامزد کیا، جن میں سے 183 کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جا چکا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان کیسز کی تفتیش مکمل شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ کی جا رہی ہے تاکہ ہر مجرم کو اس کے جرم کی مکمل سزا مل سکے۔
اسے بھی پڑھیں: ’’والدین کی اولاد کا مستقبل برباد کر دینے والی غلطیاں‘‘
قانونی پہلوؤں پر سنجیدہ کام جاری
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات کی باریک بینی سے چھان بین کی جا رہی ہے اور مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی پہلوؤں پر مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کی تفتیشی ٹیمیں جدید طریقوں کو بروئے کار لا رہی ہیں تاکہ شواہد ضائع نہ ہوں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔
تحفظِ اطفال کے ادارے فعال بنانے پر غور
صوبائی سطح پر بچوں کے تحفظ کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو مزید فعال بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مربوط پالیسی سازی، بجٹ کی فراہمی، اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
ماہرین کی تشویش اور اجتماعی کوششوں پر زور
سماجی ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان اعداد و شمار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ والدین، اساتذہ، اسکولز، دینی و سماجی اداروں اور پورے معاشرے کو مل کر بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
عوامی شعور بیدار کرنا ناگزیر
ماہرین نے زور دیا کہ بچوں کو ان کے حقوق اور خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے تعلیمی نصاب میں اصلاحات، ورکشاپس، اور والدین کے لیے تربیتی پروگراموں کا اجرا ضروری ہے۔ صرف سزا کافی نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے کہ جرم سرزد ہی نہ ہو۔
سوشل میڈیا پر نگرانی کی ضرورت
کچھ ماہرین نے یہ تجویز بھی دی کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ تک بچوں کی رسائی کی مؤثر نگرانی کی جائے کیونکہ کئی جرائم کا آغاز آن لائن پلیٹ فارمز سے ہوتا ہے۔ والدین کو ٹیکنالوجی کے استعمال میں محتاط رہنے اور بچوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
سخت قوانین اور فوری انصاف کی اپیل
متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں کا تعین کیا جائے اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ بچوں کے خلاف جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ فیصلے جلدی ہو سکیں۔





















