جنگوں کے معیشت پر اثرات

دیکھنا یہ ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف جاتی ہے یا حالت امن میں رہ کر انسانی بقاء کا سفر طے کرتی ہے

تحریر :ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات)

اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگیں معیشت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں ۔ایک خاص تاثر یہ بھی ہے طاقتور ملک جتنی جنگیں لڑتے ہیں ان کی معیشت مضبوط ہوتی ہے لیکن فی زمانہ دیکھا گیا ہے کہ دنیا نے حالت امن میں ہی ترقی کی ہے ۔اور جنگ کے مختلف جواز پیدا کرکے طاقتور ملک اپنے لیے دلائل اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ طے شدہ بات ہے کہ جنگی حالات میں ریاست کے تمام وسائل کو قومی دفاع کے لیے وقف کر دیا جاتاہے ۔یہ عمل انتہائی مہنگا ہوتا ہےجس سے ناصرف اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ نظام معیشت تلپھٹ ہو کر رہ جاتا ہے ۔اور معاشی طور پر کمزور ملک مزید کمزور ہوجاتے ہیں اور بعض کمزور ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔برسلز میں قائم ایک تھنک ٹینک کے محقق پروفیسر آرمین کے مطابق جنگ کے زمانے میں جنگی خرید و فروخت کرنے والی کمپنیاں زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ،انٹیلی جنس اور طبی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کاروبار خوب چمکتا ہے اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے جدید دور میں جنگیں ٹیکنالوجی سے منسلک ہیں خاص طور پر یوکرین ،غزہ اور اب ایران ،اسرائیل جنگ میں میزائل ٹیکنالوجی اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ اور جدید طیاروں کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ چند دنوں کی جنگ کے حوالے سے عالمی ادارے بی بی سی سے منسلک صحافی ثقلین امام نے اس جنگ کے حوالے سے میزائل سسٹم اور اور ہوائی جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی شدت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایران نے اسرائیلی حملے کے جواب میں کئی سو بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز فائر کیے ہیں اور اب ہےوی پے لوڈ والے سپر سانک میزائل کا بھی استعمال کہیں کہیں نظر آ رہا ہے۔ اسرائیل نے ان حملوں کو روکنے کے لیے اپنے تمام دفاعی نظام—آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلِنگ، ایرو اور تھاڈ—فعال کر دیے ہیں۔ یہ نظام حملوں کو روکنے میں مؤثر ضرور ہیں، مگر ان کو استعمال کرنا انتہائی مہنگا ہے، خاص طور پر ایسے موقعوں پر جب حملہ بھرپور ہو اور اس میں بیک وقت کئی میزائل داغے جائیں۔عام تاثر کے برعکس، اسرائیل انٹرسیپٹر میزائل کفایت شعاری سے استعمال نہیں کرتا ہے۔ عملی طور پر، وہ ایک میزائل کو روکنے کے لیے اکثر دو یا تین یا اس سے بھی زیادہ تعداد میں انٹرسیپٹر فائر کرتا ہے، خاص طور پر جب آنے والے میزائل کی نوعیت یا ہدف واضح نہ ہو۔

اسے بھی پڑھیں: روزہ سے صبر اور برداشت کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

اس منظرنامے میں اندازہ ہے کہ اسرائیل نے ایران کے تین سو سے زائد میزائلوں کو روکنے کے لیے کم از کم 740 انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے ہوں گے، تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق سپرسانک میزائل انٹرسیپٹر میزائل سے روکا نہیں جا سکا ہے۔ ان میں تھاڈ میزائل کی قیمت 15 ملین ڈالر، ایرو میزائل شامل ہیں جن کی فی میزائل قیمت چھ ملین ڈالر تک ہے، ڈیوڈز سلنگ کے میزائل تقریباً 1.2 ملین ڈالر کے، اور آئرن ڈوم کے میزائل تقریباً ایک لاکھ ڈالر کے ہیں۔یوں صرف ایک رات میں اسرائیل کے دفاع پر کم از کم 8.1ارب ڈالر سے لے کر 5.2 ارب ڈالر تک کا خرچ آیا ہوگا۔ اس کے برعکس، ایران کا اس قسم کا پورا حملہ 90 ملین ڈالر سے زیادہ مہنگا نہیں پڑا ہو گا۔ یہ صورتحال جنگ کی بنیادی غیر متوازن قیمت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ایران کم خرچ ہتھیاروں سے اسرائیل میں تباہی و بربادی پھیر رہا ہے وہیں اسے کو معاشی دباؤ میں لانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

اسرائیل کا ٹیکنالوجی پر انحصار اسے وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن طویل جنگ میں یہ بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ابھی جنگ کے آغاز کو پانچ دن ہوئے ہیں اور اسرائیل میں انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ بہرحال ان اندازوں میں دونوں ملکوں کی اس جنگ سے ہونے والی تباہی کے بارے اندازہ پیش نہیں کیا جا سکتا جس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ سینکڑوں اربوں ڈالر کا انفراسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے۔ تاہم اسرائیل کا تمام نقصان پورا کرنے کے لیے امریکہ اور یورپی ممالک قطار میں کھڑے ہیں کیونکہ اُس نے یہ جنگ اُنہی کے لیے لڑی ہے، مگر ایران کو اپنا نقصان خود ہی اپنے وسائل سے پورا کرنا ہوگا، ایران کی مدد کے لیے نہ چین ہے اور نہ روس۔ اس لئے اسے اپنی مدد آپ کے تحت ہی اپنا نقصان پورا کرنا ہو گا ۔اگر ہم ایران اور اسرائیل جنگ میں پاکستان کی معیشت اور دنیا کی دیگر معاشیات کا جائزہ لیں تو پہلے ہمیں جنگی معیشت کو سمجھنا ہوگا۔’’جنگی معیشت‘‘ کی آسان تعریف کی جائے تو ’’جنگی معیشت‘‘ کی کوئی باضابطہ تعریف نہیں ہے لیکن اس کی تشکیل میں متعدد عناصر پنہاں ہوتے ہیں۔ یہ اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے، جب کوئی ملک اپنے وسائل، صنعتی پیداواری صلاحیتوں اور افرادی قوت کو جنگی تیاریوں اور ہتھیاروں کی پیداوار کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا جاتا ہے، جب جنگ جاری ہو یا چاہے جنگ کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔جب کوئی ملک” جنگی معیشت‘‘ کی طرف بڑھتا ہے تو سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہوتی ہے کہ صارفین کی ضروریات کی اشیاء سے ہٹ کر اس کی توجہ صنعتی پیداوار ہتھیاروں، گولہ بارود اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری پر ہی مرکوز ہو جاتی ہے۔امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم جرمن مارشل فنڈ سے وابستہ پبلک پالیسی ماہر پینی ناس کے مطابق اس صورت میں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ہتھیاروں کی تیاری میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز جیسے سافٹ ویئرز، ڈیٹا اینالیٹکس، سیٹلائٹ سسٹمز اور قابل اعتماد انٹرنیٹ میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سب کو منظم کرنے کے لیے حکومت مرکزی کنٹرول حاصل کر لیتی ہے اور ضروری صنعتوں اور وسائل کی تقسیم پر کنٹرول حاصل کر لیتی ہے۔ یہ کنٹرول پھر حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ خام مال کو جنگ سے متعلق صنعتوں اور اشیاء کی تیاری کے لیے مخصوص کر سکے۔

اسی طرح دیگر وسائل کی طرح ایندھن اور خوراک کو راشن کیا جا سکتا ہے تاکہ فوج کو ترجیح دی جا سکے۔یہ عمل انتہائی مہنگا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں حکومتی اخراجات میں زبردست اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے قرضوں میں اضافہ، مہنگائی، زیادہ ٹیکس اور فلاحی اخراجات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔کسی ملک کی عام معیشت سے جنگی معیشت میں منتقلی تیزی سے یا آہستہ آہستہ ہو سکتی ہے، اس بات کا انحصار حالات پر ہی ہوتا ہے۔مثال کے طور پر دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی کو پہلے سے حملے کی تیاری کا موقع ملا جبکہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر اتحادیوں کو اچانک اور فوری طور پر ردعمل ظاہر کرنا پڑا۔جنگی معیشت کی طرف بڑھنے کا عمل انتہائی مہنگا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں حکومتی اخراجات میں زبردست اضافہ ہوتا ہے۔جنگی معیشت کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے، جب کوئی ملک اپنے وسائل، صنعتی پیداواری صلاحیتوں اور افرادی قوت کو جنگی تیاریوں اور ہتھیاروں کی پیداوار کے لیے وقف کر دیتا ہے ۔ یوکرین کی معیشت زیادہ کمزور ہے، چونکہ وہ حملے کی زد میں ہے، اس لیے اس نے اپنی بقا کے لیے جنگی صلاحتیں بہتر بنانے پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ اس وقت یوکرین اپنے بجٹ کا اٹھاون فیصد فوجی اخراجات پر خرچ کر رہا ہے۔روس کی طرح یوکرین نے بھی بڑی تعداد میں افرادی قوت کو فوج کے لیے متحرک کیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ہنر مند ملازمین عام معیشت سے باہر ہو گئے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کی درخواست پر کئی کارخانوں کو ہتھیار اور گولہ بارود بنانے کے لیے دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔کئی دیگر ممالک بھی جنگوں کے باعث کسی نہ کسی حد تک جنگی معیشت پر انحصار کرنے لگے ہیں، جیسے میانمار، سوڈان اور یمن، جہاں خانہ جنگی جاری ہے۔ اسی طرح، اسرائیل، شام، ایتھوپیا اور اریٹیریا میں بھی جنگی حالات کے باعث اقتصادی نظام متاثر ہوا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھی فوجی اخراجات کو ترجیح دینے کے نتیجے میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک کے دفاعی بجٹ میں نمایاں اور مستقل اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر مالی سال 2021-22ء میں قومی بجٹ کا 16 فیصد سے زیادہ حصہ دفاع کے لیے مختص کیا گیا جبکہ تعلیم کو صرف 5.2 فیصد اور صحت کو اس سے بھی کم فنڈز ملے۔ یہ غیر متوازن تقسیم اس گہری سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ قومی بقا کے لیے فوجی طاقت ناگزیر ہے، خواہ اس کی قیمت انسانی ترقی کی قربانی کی صورت میں ہی کیوں نہ چکانا پڑے۔اسرائیل نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے اور زیادہ فوجی سازوسامان تیار کر رہا ہے۔ ساتھ ہی بڑی تعداد میں شہریوں کو جنگ کے لیے بھرتی کیا گیا ہے، جس سے عام معیشت میں کارکنوں کی کمی واقع ہو رہی ہے۔

اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس VAT، بجلی اور پراپرٹی کے ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے۔یورپی یونین دوبارہ مسلح ہونے کے لیے تیارہے ۔ امریکہ کی جانب سے یوکرین، نیٹو اور یورپ کے لیے کم ہوتی حمایت کے پیش نظر یورپی یونین نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔نیٹو کے 23 یورپی رکن ممالک پہلے ہی اپنی اپنی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2 فیصددفاع پر خرچ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے لیکن اب یہ شرح بھی ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔اب ایک خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس طرح اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا ہےآنے والے وقتوں میں یہ جنگ پھیلی تو آگ دھویں اور تابکاری کے اثرات بھی پھیل سکتے ہیں راقم الحروف کی کتاب "عالمی ماحولیاتی استحکام اور اسلامی اخلاقیات "میں تابکاری اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے تحقیق پیش کی گئی ہے آگ، دھوئیں اور تباہ کاری کے اثرات آگ بھی ہوا اور پانی کی طرح انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ صرف انسان ہی نہیں بلکہ مشینی دنیا بھی حرارت اور آگ ہی کی مرہون منت ہے۔ اس حقیقت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اس امر میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ آگ اور دھواں ہیں خواہ وہ ایندھن اور زہریلی گیسوں سے خارج ہو یا کارخانوں کی چمنیوں سے یا پھر گاڑیوں اور ہوائی جہازوں سے، جس کی وجہ سے انسان و دیگر مخلوقات کا آزاد فضا میں سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔عالمی سطح پر آگ اور دھوئیں کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ستمبر 2019ء میں آسٹریلیا کے جنوب مشرق میں جنگل میں لگنے والی آگ سے 11 ملین ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات جل کر خاکستر ہو گئے اور 5.1بلین سے زائد جانور ہلاک ہو گئے اور متعدد جانوروں کی اقسام صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ خصوصاً پاکستان میں آئے روز مارکیٹوں، عمارتوں اور گھروں میں آگ، شور کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں جن میں بے تحاشا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر سال معلوم رات کو گھروں میں چپکے اور پھر پھیل کر بھڑک اٹھنے والی آگ سے حادثات پیش آتے رہتے ہیں اور آگ کے ساتھ دھواں بھی جان لیوا حد تک انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں بھی اسلام مکمل راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حضرت عبداﷲ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِىَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ.(بخاری)”بیشک یہ آگ تمہاری دشمن ہے۔ سو جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔“آگ اور دھوئیں کے ساتھ تابکاری، شعاع کاری (Radiation) کا تعلق بھی اسی قبیل سے ہے۔ یہ علم الطبیعات کا ایک ایسا مظہر ہے کہ جس میں بے حد چھوٹے ذرات کی شکل میں توانائی جسم سے خارج ہوتی ہے۔ جس کے مضر اثرات بہت تیزی کے ساتھ ہماری زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں پریشانی، افسردگی اور گرد و پیش کی آبادیوں میں ان کے غیر محسوس اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کینسر کا شکار ہو رہے ہیں۔ امریکی کینسر سوسائٹی کے ویب سائٹ کے مطابق اس بارے میں تحقیقی خدشات موجود ہیں کہ موبائل فون، دماغی رسولی یا برین ٹیومر اور دل میں رسولیوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ انتہائی شدید لیڈیٹو فریکوئنسی ویوز انسانی جسم کے بافتوں کو متاثر کرتی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف جاتی ہے یا حالت امن میں رہ کر انسانی بقاء کا سفر طے کرتی ہےلیکن طے شدہ بات یہ ہے کہ جنگوں سے عالمی طاقتیں تو فائدہ اٹھا سکتی ہیں لیکن پاکستان جیسی کمزور ریاست کو ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور امن کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین