باغبانی انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے، اہم سائنسی انکشافات

باغبانی ایک قدرتی تھراپی ہے جو ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے

سائنسی تحقیقات سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ باغبانی صرف زمین کو سنوارنے کا ہنر نہیں بلکہ اس میں انسانی صحت کے حوالے سے بے شمار راز پوشیدہ ہے ۔ انسان جب اپنے ہاتھوں سے زمین میں بیج بوتا ہے اس کو پانی دیتا ہے اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کو اپنے سامنے پروان چڑھتا دیکھتا ہے تو اُسے ایسی خوشی ملتی ہے جس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں۔

باغبانی صرف ایک مشغلہ نہیںبلکہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو دماغی، جسمانی اور جذباتی صحت کو بہتر بنانے کا قدرتی ذریعہ ہے۔ سائنسی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ باغبانی تناؤ کم کرنے، جسم کو فعال رکھنے اور ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے میں غیرمعمولی فوائد رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ سرگرمی نہ صرف افراد کی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ سماجی رابطوں کو مضبوط کرنے اور زندگی میں مقصد کا احساس دلانے میں بھی مددگار ہے۔ آئیے، اس کے فوائد پر تفصیلی نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ سرگرمی کس طرح ہماری زندگی کو بدل سکتی ہے۔

ذہنی دبائو، بے چینی اور ڈپریشن میں کمی

باغبانی ایک قدرتی تھراپی ہے جو ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ مٹی میں موجود Mycobacterium vaccae نامی بیکٹیریا دماغ میں سیروٹونن ہارمون کے اخراج کو بڑھاتا ہے جو خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ ایک تحقیق، جو جرنل آف ہیلتھ اینڈ نیچر میں شائع ہوئی، بتاتی ہے کہ باغبانی کرنے والوں میں تناؤ کی سطح نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔
مزید برآں، پاکستانی ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان جو کراچی یونیورسٹی کے شعبہ نباتیات سے وابستہ ہیں نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا کہ "مٹی کے ساتھ رابطہ انسان کے دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، خاص طور پر شہری زندگی کے تناؤ سے لڑنے میں یہ ایک سستا اور موثر حل ہے۔”

مختلف امراض کے خطرے میں 30 فیصد کمی

باغبانی دماغی صحت کے لیے ایک بہترین ورزش ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ایک رپورٹ کے مطابق باغبانی جیسی سرگرمیاں الزائمر اور ڈمنشیا جیسے امراض کے خطرے کو 30 فیصد تک کم کر سکتی ہیں۔ پودوں کی دیکھ بھال، منصوبہ بندی، اور باغبانی کے دیگر کام دماغ کو توجہ، فیصلہ سازی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔پاکستان میں، ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، فیصل آباد کے ماہرین نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا کہ بزرگوں میں باغبانی کی عادت ان کی دماغی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "روزانہ 20 سے 30 منٹ کی باغبانی دماغ کے لیے وہی فوائد فراہم کرتی ہے جو ایک گھنٹے کی ذہنی ورزش سے حاصل ہوتے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: منہاج یونیورسٹی لاہور میں ’’متوازن صحت کے ذریعے قوت و کارکردگی میں بہتری‘‘کے موضوع پر سیمینار

باغبانی ایک جسمانی ورزش

باغبانی ایک ایسی سرگرمی ہے جو ہلکی سے درمیانی سطح کی جسمانی ورزش کا کردار ادا کرتی ہے۔ بیلچہ چلانا، پودے لگانا، گھاس کاٹنا، اور پانی دینا جیسے کام نہ صرف کیلوریز جلاتے ہیں بلکہ پٹھوں کی مضبوطی اور دل کی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، روزانہ 30 منٹ کی باغبانی دل کی بیماریوں کے خطرے کو 20 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔
پاکستان کے دیہی علاقوں میں، جہاں باغبانی ایک عام سرگرمی ہے، لوگوں کی جسمانی صحت شہری باشندوں کے مقابلے میں بہتر پائی گئی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحت کے ایک مطالعے کے مطابق، باغبانی کرنے والے افراد میں موٹاپے اور جوڑوں کے درد کی شرح نمایاں طور پر کم ہے۔

مدافعتی نظام کی مضبوطی

مٹی کے ساتھ رابطہ جسم کو مفید جراثیم کے سامنے لاتا ہے، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ سورج کی روشنی سے وٹامن D کی فراہمی ہڈیوں کی صحت، موڈ، اور قوتِ مدافعت کو بہتر بناتی ہے۔ ڈاکٹر فاطمہ خان، جو اسلام آباد کے ایک غذائی ماہر ہیں، بتاتی ہیں کہ "پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سورج کی روشنی وافر مقدار میں موجود ہے، باغبانی کے ذریعے وٹامن D کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔”
مزید برآں، جرنل آف ایمونولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، مٹی کے جراثیم مدافعتی نظام کو تربیت دیتے ہیں، جس سے الرجی اور دائمی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

خوشی اور خوداعتمادی کا احساس

باغبانی ایک ایسی سرگرمی ہے جو کامیابی اور اطمینان کا احساس دلاتی ہے۔ جب آپ اپنے ہاتھوں سے لگایا ہوا پودا پھولتا یا پھل دیتا ہے، تو یہ خوداعتمادی کو بڑھاتا ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر سارہ احمد کہتی ہیں کہ "باغبانی ایک قدرتی اینٹی ڈپریسنٹ ہے، جو خاص طور پر بزرگوں اور نفسیاتی مسائل سے دوچار افراد کے لیے فائدہ مند ہے۔”
پاکستان میں کمیونٹی گارڈنز کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں لوگ مل کر سبزیاں اور پھول اگاتے ہیں۔ لاہور کے ایک کمیونٹی گارڈن کے رکن، احمد علی نے بتایا کہ "اپنی اگائی ہوئی سبزیاں کھانا اور دوسروں کے ساتھ بانٹنا ایک ناقابل بیان خوشی دیتا ہے۔”

سماجی رابطوں اور مقصد کا احساس

باغبانی سماجی رابطوں کو مضبوط بناتی ہے۔ کمیونٹی گارڈنز یا گھر میں اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر باغبانی کرنے سے تنہائی کا احساس کم ہوتا ہے۔ کراچی کے ایک مقامی گارڈننگ کلب کے صدر، زینب بیگ نے کہا کہ "ہمارے کلب میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اور یہ جگہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔”
ماہرین کے مطابق، باغبانی زندگی میں مقصد کا احساس پیدا کرتی ہے، جو خاص طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد افراد کے لیے ضروری ہے۔ ایک مقامی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے شہری علاقوں میں باغبانی کے شوقین افراد میں تنہائی کی شکایات 40 فیصد کم ہیں۔

پاکستان میں باغبانی کا بڑھتا ہوا رجحان

پاکستان میں باغبانی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں لوگ چھوٹے گھریلو باغات یا بالکونی گارڈنز بنا رہے ہیں۔ ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں گھریلو باغبانی کے رجحان میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ نہ صرف ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیتا ہے بلکہ گھریلو سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کی پیداوار سے معاشی بچت بھی ہوتی ہے۔
باغبانی نہ صرف گھر کو خوبصورت بناتی ہے بلکہ صحت اور خوشی کو بھی بڑھاتی ہے۔ آپ شہر کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر ہوں یا دیہی علاقے میں باغبانی ہر ایک کے لیے قابلِ رسائی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین