تاریخ کے طالب علم یورپ کے ڈارک پیریڈ اور دریافت سے قبل خطہ امریکہ کے حالات سے آگاہ ہیں ان دونوں براعظموں میں آباد آبادیوں کی کوئی کل سیدھی نہ تھی، کوئی اخلاقی برائی ایسی نہ تھی جو ان خطوں میں آباد شہریوں میں نہ تھی، تہذیب، ترقی، شائستگی، انسانیت، قانون، اخلاق، ضوابط کے الفاظ سے یہ لوگ ناواقف تھے، جنگ و جدل، خون ریزی، کلیسا اور سیاست کی لڑائی اپنے عروج پر تھی، پھر تاریخ نے پلٹا کھایا، ان لوگوں نے تعلیم اور ٹیکنالوجی سے رجوع کیا اور ان کے حالات بدل گئے۔
ہم آج کی اقتصادی سپر پاور اور ہر روز دنیا کو اپنی ایجادات سے حیران و ششدر کر دینے والے چین کے حالات کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ خواب گراں چینی کیسے سنبھلے، چین اندرونی لڑائی میں تباہی و بربادی کی تصویر تو تھا ہی لیکن 18صدی کی تہذیب یافتہ اقوام برطانیہ، فرانس، جاپان نے بھی کوئی کمی نہ چھوڑی، 1840ء میں برطانیہ نے جنگ افیون کے نام سے معروف جنگ چھیڑی اور چین کی اینٹ سے اینٹ بجادی، 1858میں باردگر برطانیہ اور فرانس نے مل کر چین میں تباہی پھیلائی، 1884میں فرانس نے چین پر حملہ کیا، 1894ء میں جاپان نے چین کے ساتھ معرکہ آرائی کی، 1900ء میں 8ملکوں کے اتحاد نے چین پر حملہ کیا اور خونریز جنگ چھیڑی ان پے درپے جنگوں میں چین کی جغرافیائی حدود و قیود کے حصے بخرے ہو گئے، اتحادیوں نے چین کے بعض علاقوں پر قبضے کر کے انہیں کرائے پر اور ملکوں کو دے دیا، مثلاً جاپان نے نادران اور ینگو جزائر پر قبضہ کر لیا اور اوشن کی بندرگارہ کرائے پر دے دی، برطانیہ نے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا، فرانس نے کونچوان کا چینی علاقہ قبضہ میں لے کر آگے کرائے پر دے دیا، اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ، فرانس کے مہذب ممالک چین سے جنگی تاوان بھی وصول کرتے رہے، حملہ آوروں نے طاقت کے زور پر چین کو ایسے معاہدات کرنے پر مجبور کیا جن سے ان کی سلامتی ختم ہو گئی، ان معاہدوں میں ایک یہ معاہدہ بھی تھا کہ حملہ آور اپنی بری اور بحری افواج چین میں تعینات کر سکتے ہیںاور چینی اس پر اعتراض نہیں کریں گے، چین کے تمام اہم تجارتی مراکز اور بندرگاہوں پر قبضہ کر لیا گیا، چینیوں نے کیسے سانس لینا ، کیا پہننا ہے اور کیسے زندہ رہنا ہے یہ اختیار یورپ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا، یورپ نے چین کی سرزمین کو اپنا گودام بنا لیا، مرضی کے نرخوں پر اشیاء بیچتے اور چین کے پورے زرعی شعبہ کو اپنی انڈسٹری کا را میٹریل بنا لیا، یورپ کے سامراجیوں نے چین میں صنعتیں لگائیں اور ان صنعتوں کو چلانے کے لئے چینی عوام کا غلاموں کی طرح استعمال کیا گیا، سامراجی طاقتیں چین کے وسائل بے دردی سے لوٹتے اور پھر چین کی ضروریات پوری کرنے کے لئے انہیں قرض دیتے اور پھر بھاری سود سمیت وصول کرتے یوں چین قرض در قرض کی چکی میں پستا چلا گیا، سامراجیوں نے چین کے شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے کاروباری حضرات کو چین کے دیہاتوں میں پھیلا دیا جو چینی عوام کی دن رات کی کمائی کو ناجائز منافع خوری کر کے اینٹھ لیتے اور رہی سہی کسر سود خوروں کے ذریعے نکال دی گئی، یورپین تاجر چینی کسانوں کو بھاری سود پر قرضے دیتے اور پھر پوری کی پوری فصل سود اور قرضے کی قسط میں لے لیتے عام چینی کاشتکار دن رات کی محنت سے بمشکل روٹی کے چند نوالے بچاپاتا۔
اسے بھی پڑھیں: جنگوں کے معیشت پر اثرات
یاد رہے یورپین یہ ظلم براہ راست نہیں کررہے تھے اس کام کے لئے انہوں نے چین کے جاگیرداروں، مالداروں اور بڑے تاجروں کو اپنا آلہ کار بنا رکھا تھا، چین کا یہ جاگیردار طبقہ خود بھی ظلم کرتا اور دوسروں کو مواقع بھی مہیا کرتا، جاگیردار اور مالدار طبقہ ہر دور میں غاصبوں کا آلہ کار بننے کی تاریخ رکھتا ہے۔ سامراجی طاقتیں عوامی ردعمل سے نمٹنے اور مزاحمت کو کچلنے کیلئے آلہ کار حکمرانوں کو اسلحہ ،مشاورت اور وسائل دیتی تھی، ہر آلہ کار ہر بار اٹھنے والی مزاحمتی آوازوں کو طاقت کے زور پر دبا دیتے ، اگرچہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ 1911ء میں شروع ہو گیا تھا تاہم 1930ء تک ظلم کا یہ نظام پوری قوت کے ساتھ چلتا رہا،یہی حالات آج کل پاکستان کے ہیں، آئی ایم ایف سامراجی قوت کا آلہ کار بن کر نت روز نئے ٹیکس متعارف کروا کر اور نافذ کرنے کا حکم دے کر یہاں کے عوام کا جینا دوبھر کررہا ہے، پاکستان کے کسان اور چھوٹے تاجر سود در سود کی چکی میں پس رہے ہیں۔ چین کے کسانوں اور عام آدمی نے مل کر سب سے پہلے آلہ کار حکمرانوں، جاگیرداروں اور غاصب سرمایہ داروں کے خلاف مزاحمت کی انہیں شکست دی آلہ کاروں کی شکست سے نوآبادیاتی نظام کے محافظ کمزور ہو گئے، بہرحال چین کے کامیاب انقلاب سے قبل کے چینی عوام کے حالات بیان کرنا مقصود تھا کہ کوئی ظلم ایسا نہ تھا جس کا چینی عوام سامنا نہ کررہے تھے لیکن مائو کی دبنگ قیادت میں چینیوں نے کامیابی حاصل کی اور پھر اتنی محنت کی جس کی دنیا دوسری مثال پیش نہیں کر سکتی، چینیوں کی آزادی کی تاریخ ہم جیسی ہی ہے لیکن آزادی کی جو قیمت چینیوں نے ادا کی ہم نے ادا نہیں کی، تمام تر ظلم و بربریت کے باوجود جب خواب گراں چینی اٹھے تو آج امریکہ اور یورپ کی تہذیبیں تھر تھر کانپ رہی ہیں۔سونا آگ میں جل کر کندن بنتا ہے۔
تنخواہ دار طبقہ کے حالات نہایت دگرگوں ہیں، معمولی تنخواہیں بجلی، گیس، پانی کے بلوں کی نظر ہو جاتی ہیں۔ 50فیصد سے زائد عوام مشقتی بن کر رہ گئے ہیں، ریاست چلانے والاطبقہ کروڑ سے ارب اور ارب سے کھرب پتی بن رہا ہے مگر ریات ہر گزرتے دن کے ساتھ مقروض سے مقروض تر ہورہی ہے، چین نے ان حالات سے نجات کیسے حاصل کی تھی؟ سب سے پہلے انہوں نے اپنے دشمن کی فہرست مرتب کی، پھر عوامی جدوجہد کو موثر اور فعال بنایا پھرعالمی غاصبوں کے آلہ کار حکمرانوں، شاطر بیوروکریسی سے نجات حاصل کی اور حاصل شدہ وسائل سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور جدید تحقیقات پر صرف کئے اور آج چین دنیا کی اقتصادی سپرپاور بن چکا ہے۔ پاکستان کو ہر سطح پر ’’میڈ ان پاکستان‘‘ قیادت اور سوچ کو نافذ کرنا ہو گا، سیاستدان ہو یا بیوروکریٹ جو بھی اس خطے کے مفاد کے تحفظ کی بجائے اغیار کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے اس سے جان چھڑانا ہو گی۔





















