پاکستان کی جرأت مندانہ اور حکیمانہ سفارت کاری

امریکہ اور برطانیہ تک پاکستان کے کردار پر مطمئن نظر آئے

پچھلے چار سال میں پاکستان میں بہت ساری کرامتیں ظاہر ہوئیں ، دنیا پاکستان کو ایک بھکاری ، معاشی اعتبار سے ڈوبا ہوا، سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کی کمانڈو کارروائیوں کا شکار ملک سمجھتی رہی۔ پاکستان کے اندر بھی اپنے ملک کے بارے میں عوام کی کم و بیش یہی رائے تھی۔ بھارتی سیاستدان تکبر کے ساتھ یہ کہتے کہ دنیا میں کٹورالے کر گھومنے والا ہمارا مقابلہ کیا کرے گا۔

نریندر مودی کا غرور اس حد تک پہنچا ہوا تھا وہ کہتا تھا کہ بھارت کا مقابلہ چین سے ہے پاکستان کی کیا اوقات ہے اور یہ کہ پاکستان کے ساتھ اُس کے ہمسایہ ملک اور برادر اسلامی بھی نہیں ہیں، پاکستان خطے میں تنہا ہے۔ نریندر مودی کو ٹرمپ کی دوستی اور بھارت کی تکنیکی اعتبار سے تربیت یافتہ افرادی قوت پر بھی بڑا ناز تھا۔ نریندر مودی کا دعویٰ تھا کہ بھارت دنیا کے سوفٹ ویئر برینڈز کی ایک قابل بھروسہ اور فعال منڈی ہے، ایپل اور آئی فون کی پروڈکٹس بھارت میں تیار ہو کر امریکہ ،برطانیہ اور یورپ میں بکتیں، بھارت اس زعم میں مبتلا تھا کہ بھکاری پاکستان کے ساتھ کون کھڑا ہو گا اور پھر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی تاریخی غلطی کر دی، جواب میںپاکستان نے خوب دھول چٹائی، بھارت رافیل کے جن طیاروں کو اپنی سلامتی اور بالادستی کا ذریعہ سمجھتا تھا وہ کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ثابت ہوئے ، پاکستان نے اینٹ کا جواب پتھر دے کر بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ملکوں کو بھی حیران کر دیا۔

اسے بھی پڑھیں: محرم الحرام : علما پر پابندیاں کیوں لگتی ہیں؟

حیرانی والی بات بھارت کو تگڑا جواب دینا نہیں تھی بلکہ کسی ایک ملک نے بھی کھل کر بھارت کا ساتھ نہیں دیا۔ یہاں تک کہ بھارت جس روس کا اسلحہ استعمال کرتا تھا اُس روس نے بھی اس حملے میں بھارت کو گھاس نہ ڈالی۔ چین ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان کا اعلانیہ، قابل اعتماد دوست ثابت ہوا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر گلف ممالک اگرچہ کھل کر پاکستان کی حمایت میں نہیں آئے لیکن کسی نے بھارت کے لئے بھی کوئی ایک کلمہ تسلی ادا نہ کیا۔امریکہ جس کے بارے میں بھارت کو بڑازعم تھا کہ وہ اس بار پاکستان کے خلاف بھارت کا کھل کر ساتھ دے گا اگرچہ امریکہ کا ساتواں جنگی بیڑہ 1971ء میں بھی مدد کو نہیں پہنچا تھا اور بعد میں بھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ امریکہ نے پاکستان کا ساتھ دیا ہو۔اس جنگ میں بھی امریکہ سے پاکستان کی کوئی توقع نہ تھی لیکن سب سے زیادہ خوشی والی بات یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کا پاکستان کے مقابلے میں ساتھ نہیں دیا بلکہ جب پاکستان کے میزائل بھارت کی سرزمین کو ادھیڑ رہے تھے تو اس دوران ٹرمپ نے ذاتی دلچسپی لے کر بھارت کو ذلت اور ہزیمت سے بچانےکے لئے سیزفائر کروایا۔

پاکستان کے سفارتی ماہرین نے کمال کرتےہوئے اس سیز فائر کو نہ صرف قبول کیا بلکہ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لئے نامزد کر ڈالا، خالصتاً پاکستانی سٹائل میں ٹرمپ کی اتنی تعریف کی گئی کہ خود ٹرمپ بھی اس جال میں پوری طرح الجھ کررہ گیا، بہرحال پاکستان کی فعال سفارتکاری کی وجہ سے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کا پلڑا ہر اعتبار سے بھاری رہا۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل نے ایران پر تابڑ توڑ حملے کئے اور یہ تجزیے اور تبصرے ہو رہے تھے کہ ایران کی پشت میں چھرا گھونپنے کے لئے امریکہ کے کہنے پر پاکستان اپنے اڈے استعمال کے لئے دے دے گا، پاکستان کی عسکری قیادت جنگ کے اس عرصہ کے دوران ٹرمپ سے ڈنر اور لنچ کررہی تھی، یہ ایک معروف محاورہ ہے کہ کوئی بھی لنچ مفت نہیں ہوتا، بہرحال یہ بات حیران کن تھی کہ پاکستان نے نہ صرف ڈٹ کر اسرائیل کی مذمت کی جب امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بم گرائے تو اُس حملے کی بھی مذمت کی اور یہ جان کر اور بھی زیادہ حیرت ہوئی کہ ایران کی قیادت نے کسی موقع پر پاکستان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی بلکہ تعریف کی۔

وزیراعظم پاکستان نے ایران کے وزیراعظم سے ٹیلیفون پر بات کی تو بڑے اچھے انداز میں گفتگو ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ درپردہ پاکستان نے جرأت مندانہ اور حکیمانہ سفارتی پالیسی اختیار کی۔ ترکی، سعودی عرب، گلف سٹیٹس، یہاں تک کہ امریکہ اور برطانیہ تک پاکستان کے کردار پر مطمئن نظر آئے۔ بھارت اور اسرائیل کے ٹی وی چینلز پر تجزیہ کار یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے نظرآئے کہ ایران کے تیر بہ ہدف میزائلوں کے پیچھے پاکستان ہے مگر ان کا یہ چورن نہ بک سکا، پاکستان نے بیک وقت آئی ایم ایف کے ساتھ بھی انگیجمنٹ جاری رکھی، جنگ بھی لڑی، خطے کے اندر ہونے والی لڑائیوں میں اپنا دامن بچانے کے ساتھ ساتھ اپنی ساکھ کو بھی بچا کر رکھا، بجٹ بھی منظور کروالیا اور وہ سیاسی عدم استحکام اور کٹورا لے کر گھومنے والے طعنے بھی پس منظر میں جا چکے ہیں ۔سوال صرف اتنا ہے کہ یہ کریڈٹ کس کا ہے؟ اگر غیر جانبداری کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو یہ کریڈٹ فیلڈ مارشل کا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین