اختلاف رائے کا مطلب سیکھنا ہے لڑنا نہیں

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی اختلاف رائے کے موضوع پر خصوصی تحریر

پچھلےچند سالوں سے یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر مذہب کی بنیاد پر اختلافِ رائے کو دشمنی بنا کر پیش کیا جارہا ہے اور پھر کمنٹس میں مختلف مکتب فکر کے لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں، بحث و تمہیص کے اس بے مقصد سلسلے میں بات گالی گلوچ تک پہنچ جاتی ہے اور مقدس و محترم ہستیوں کی تضحیک کرنے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھا جاتا، دنگا فساد پر مبنی اس ماحول میں مذہب سے لگائو رکھنے والا نوجوان طبقہ جس کا باقاعدہ مذہب کا مطالعہ نہیں ہوتا ہے وہ مخرب الاخلاق زبان کے استعمال اور فروعات کے باعث الٹا مذہب سے بے زار ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایسی مسلکی ابحاث کو لادینی طبقات موقع غنیمت جانتے ہوئے جلتی پر تیل گرانے کا کام شروع کر دیتے ہیں اور وہ مذہب کے ساتھ ساتھ خدا کے وجود کی نفی کے بارے میں نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں اور یہ سب ایک منظم انداز میں کیا جارہا ہے۔ اعتکاف 2024ء کے موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس موضوع پر مسلسل 9 راتیں خطاب کیا اور اس فتنہ کے سدباب کے لئے شعور اجاگر کیا تھا، ان کے خطابات کا عنوان ’’خدا کو کیوں مانیں! مذہب کو کیوں اپنائیں‘‘ تھا۔ یہ تمام خطابات ان کے یوٹیوب چینل پر موجود ہیں جنہیں دل کی آنکھ سے سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام اعتدال اور رواداری کا سبق دیکھتا ہےاور مختلف فقہی مذاہب کے بانیان نے اپنی رائے دیتے ہوئے کبھی بھی انہیں حرف آخر قرار دیا اور نہ ہی اُسے من و عن قبول کرنے پر ضد کی۔ تمام تر اختلافات کے باوجود یہ علمی شخصیات جب کبھی بھی کسی مجلس میں جمع ہوتیں تو ایک دوسرے کو بے حد احترام سے نوازتیں۔ ہمیں اپنی ان معتبر ہستیوں کے ادب و احترام اور انداز و اطوار کو اپنے مزاج کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام نفرت و تفرقہ بازی کو ختم کرنے کے لئے آیا ہے نہ کہ تقسیم در تقسیم کے لئے۔ پیغمبر اسلام حضور نبی اکرم ﷺ نے صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ کے ذریعے پوری اُمت کو یہ پیغام دیا کہ اسلام معاملہ فہمی اور حکمت پر یقین رکھتا ہے۔

آئمہ کرام کے باہمی تعلقات

آئمہ و محدثین اپنے اپنے نکتہ نظر پر قائم رہتے ہوئے ہمیشہ ادب کے پیرائے میں ہم عصر علمی ہستیوں کے ساتھ اختلاف اور مکالمہ کرتے تھے۔ چاروں مذاہب کے امام جن میں امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام شافعیؒ، امام ابوحنیفہؒ شامل ہیں وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے تھے اور یہی تعلیم اُن کے تلامذہ کے لئے تھی۔امام شافعیؒ ایک بار امام ابوحنیفہؒ کے مزار پر تشریف لے گئے اور آپ نے وہاں ملحقہ مسجد میں نماز اداکی، اتحاد بین المسلمین کی یہ ایک بلند پایہ مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ ان کے اس عمل سے اُمت میں باہمی اتحاد و یکجہتی کے جذبات بڑھے۔
اختلاف رائے سے مراد نیچا دکھانا نہیں
امام شافعیؒ کے عہد میں علمی موضوعات پر مناظرہ کا بڑا مضبوط کلچر تھا مگر ایک موقع پر انہوں نے یہ کہہ کر مناظرہ کرنا بند کر دیا کہ مناظرہ کا مقصد حق و ثواب کو ملحوظ خاطررکھنا ہوتا ہے مگر اب تو نیچا دکھایا جانے لگا ہے یعنی جب علمی مبحث دوسروں کو زچ کرنے کے لئے بروئے کار آنے لگیں ، اُمت کے اندر نفرت و انتشار بڑھنے لگے اور  خیر کی بجائے شر کا پلڑا بھاری ہونے لگے تو احتراز بہتر ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کے بیٹے عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے اپنے والد سے عرض کیا اے والد! یہ امام شافعیؒ کون ہیں؟ میں آپ کو کثرت سے ان کے لئے دعائیں کرتے ہوئے سنتا ہوں، امام احمد بن حنبلؒ نے جواب دیا اے میرے بیٹے امام شافعیؒ دنیا کے لئے سورج کی طرح تھے اور لوگوں کے لئے عافیت اور سکون کی مانند تھے، اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلِ علم حضرات ایک دوسرے کے ساتھ کس حد تک عزت و تکریم کا رشتہ رکھتے تھے، اگر اُن کے پیروکار باہم دست و گریبان ہوں گے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُن کا ان بزرگوںکی تعلیمات اور فکر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ سے جب کوئی سوال پوچھا جاتا اور اُن کے پاس اُس کا کوئی جواب نہ ہوتا تو وہ امام شافعیؒ کی تحقیق سے سائل کو آگاہ کرتے۔

اسے بھی پڑھیں: محرم الحرام : علما پر پابندیاں کیوں لگتی ہیں؟

امام مالکؒ اور خلیفہ ہارون الرشید

عظیم امام و محدث امام مالک ؒ کاایک واقعہ تاریخی اہمیت کا حامل اور قابل تقلید ہے، اس کا تعلق خلیفہ ہارون الرشید کے عہد سے ہے۔ خلیفہ نے امام مالکؒ سے اپنی 3 خواہشات کا اظہار کیا (1)خلیفہ نے کہا آپ کی کتاب ’’الموطا ‘‘کو سرکاری سطح پر خانہ کعبہ کے ساتھ آویزاں کرنا چاہتا ہوں تاکہ لوگ اس میں لکھے گئے احکامات پر عمل کر سکیں۔ اس پر جواب میں امام مالک ؒ نے فرمایا اے امیر المومنین !صحابہ کرامؓ میں فروعی معاملات پر اختلافِ رائے پایا جاتا ہے اور ان کے پیروکار دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا راستہ درست ہے۔ لہٰذا ’’الموطا‘‘ پر اتفاق رائے بعید از امکان بات ہے۔ اس کے علاوہ خلیفہ وقت نے دو اور امور پر امام مالکؒ سے رائے طلب کی ، خلیفہ وقت نے کہا کہ کیوں نہ رسول اللہ ﷺ کے منبر کو منہدم کر کے اس کی ازسرنو تعمیر سونے، چاندی اور قیمتی پتھروں سے کر دی جائے، خلیفہ ہارون الرشید نے نیک نیتی کے ساتھ اظہار عقیدت ومحبت کے جذبات کے تحت اس خواہش کا اظہار کیا تھا، اس پر امام مالکؒ نے جواب میں فرمایا میری رائے میں لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے تبرکات سے محروم کرنا مناسب نہ ہو گا۔ خلیفہ وقت نے تیسری خواہش کا اظہار کیا کہ کیوں نہ نافع بن ابی نعیم کو مسجد نبوی میں امامت کا منصب دے دیا جائے۔ امام مالکؒ نے جواب میں فرمایا چونکہ نافع بن ابی نعیم صرف قراءت کے امام ہیں اگر اُن سے کچھ ناقابل یقین اعمال سرزد ہوئے تو لوگوں کی نظریں آپ کی طرف اٹھیں گی، مطلب آپ کو اس تقرری پر ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑے گا، خلیفہ وقت نے کہا اے ابو عبداللہ ،اللہ آپ کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے۔ اس مختصر مکالمہ میں درج ذیل نصیحتیں اخذ ہوتی ہیں، اگر خلیفہ وقت شرعی امور میں کسی عالم دین سے کوئی رائے طلب کرے تو خلیفہ کے منصب کو سامنے رکھ کر مرعوبیت کی بجائے شرعی اور زمینی حقائق کے مطابق حق گوئی سے کام لینا چاہیے اور کبھی بھی خلیفہ وقت کی قربت اور بے تکلفی کا غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے، امام مالکؒ کی کتاب ’’الموطا‘‘ کو سرکاری سطح پر خانہ کعبہ میں رکھے جانے سے اختلاف کر کے آپ نے ہر قسم کی فرقہ واریت کی نفی کی کیونکہ امام مالکؒ صدق دل سے سمجھتے تھے کہ یہ میری رائے ہے جبکہ دیگرآئمہ محدثین کی مختلف امور پر مختلف رائے ہے، لہٰذا کسی پر کسی ایک کی رائے کو سرکاری ہتھیار کے ساتھ مسلط نہیں کیاجانا چاہیے یہ فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑ دیا جائے کہ ان کے نزدیک کس امام کی رائے کتنی صائب ہے۔ اہل علم ہستیوں کے اس ظرف اور کشادہ نظری کے اثرات ہر ایک اپنے اندر محسوس کرے، جب ہم اپنی ذات کی نفی کر دیں گے تو پھر اللہ کی رحمتیں اور برکتوں کا نزول بھی ہو گا اور اُمت اتحاد و یکجہتی کی نعمت سے سرفراز ہو گی۔

قرآن و سنت کی دلیل

صحابہ کرام ؓ ہمیشہ اپنے اختلاف کی بنیاد کتاب و سنت پر رکھتے تھے اور اپنے موقف کے برعکس دلیل میسر آنے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتے تھے، وہ اس کو اپنی سبکی یا شکست نہیں سمجھتے تھے اور ہمیشہ لچکدار مظاہرہ کرتے ،مضبوط دلیل میسر آنے پر خندہ پیشانی سے دوسرا موقف دل و جان سے تسلیم کر لیتے تھے کیونکہ صحابہ کرام اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اسلامی بھائی چارے اور اخوت کے فروغ پر سب سے زیادہ نصیحتیں اور ہدایات فرمائیں۔ آج ہمیں بھی سلف صالحین کے طریق پر اپنی دینی زندگی کے خدوخال استوار کرنا چاہئیں ۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ فرائض و واجبات میں کسی کے ہاں کوئی اختلاف نہیں ہے، کوئی ایسا مسلک نہیں ہے جس کا اللہ کے ایک ہونے پر راسخ عقیدہ نہ ہو۔ جس کا حضور نبی اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ ہو۔ جس کا فرض حج ، فرض زکوٰۃ اور فرض روزہ پر ایمان نہ ہو اور حلال و حرام کے وہ امور جو قرآن نے کھول کر بیان کر دئیے ہیں انہیں تسلیم کرنے سے انکاری ہو، یہ ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ اس کے بعد جتنے امور و معاملات آتے ہیں ان کا تعلق فقہ سے ہے جس پر حلال حرام کی حد جاری نہیں کی جا سکتی۔

اسے بھی پڑھیں: یزید سانحہ کربلا میں براہ راست ملوث تھا

اختلاف رائے کے اصول اور اس کے فوائد

حضور نبی اکرم ﷺ نے اختلاف رائے کو اپنی اُمت کے لئے باعث رحمت قرار دیا ہے مگر اختلاف رائے کے کچھ اصول ہیں۔ اختلاف کرنے والے کی نیت میں فتور نہ ہو، اس کی سوچ دوسرے کو شکست دینا نہ ہو، اپنی برتری ثابت کرنا نہ ہو،صحت مند اختلاف رائے سے ذہنی صلاحتیں اجاگر ہوتی ہیں اور حق کی قربت میسر آتی ہے، صحت مند اختلاف رائے سے دین فطرت کے تقاضوں کے مطابق مناسب حل کی طرف راہ نمائی میسر آتی ہے، یہ سارے فوائد اسی صورت حاصل ہوں گے اگر نیت نیک اور مقصد اصلاح ہو۔ سورۃ النساء میں اللہ رب العزت نے فرمایا ’’ سو تم خواہش نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل و انصاف سے ہٹ جائو(گے)‘‘۔ ایک مقام پر اللہ رب العزت نے فرمایا ’’ فرما دیجیے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کر سکتا ‘‘۔ قرآن کے اسلوب اختلاف کے مطابق خواہش نفس علم کی ضد اور حق کی مخالفت ہے، اختلاف رائے کرتے وقت عدل و انصاف سے پہلو تہی کرنا، عدل و حق سے دوری کا سبب بنتا ہے۔

کلماتِ نصیحت

آخر میں امام ابو حنیفہؒ کاایک معروف قول نقل کیا جارہا ہے آپؒ نے فرمایا ’’ ہم اپنی رائے پرکسی کو مجبور نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص نہ چاہتے ہوئے بھی اسے قبول کرے، اگر کسی کے پاس اس سے اچھی بات ہو تو لےآئے‘‘ یعنی اختلاف رائے ایک خوشبودار پھول ہے نفرت کا بیج نہیں، اختلاف رائے سے ذہنوں کو وسعت ملتی ہے، فکری بانچھ پن ختم ہوتا ہے، اختلاف رائے علم و تحقیق کا زینہ ہے، حریت فکر کاآغاز صحت مند اختلاف رائے سے ہوتا ہے، اختلافِ رائے مکالمے کی روح ہے، اختلاف سے سیکھتے ہیں لڑتے ہیں، اختلاف رائے کو برداشت کرنا تہذیب و شائستگی کی نشانی ہے، شائستہ اختلاف دلوں کو جوڑتا ہے، رائے رکھنا حق مسلط کرنے کی خواہش زیادتی ہے، اختلاف اظہار خیال ہے زور زبردستی نہیں، رائے دیں مگر ماننے پر مجبور مت کریں، اپنی سوچ اور فکر کی تکریم چاہتے ہو تو دوسرے کی رائے کو احترام دیں، بات کہنے کا تو حق ہے منوانے کا نہیں، اگر بولنا حق ہے تو کسی کو سننا بھی فرض ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین