اسلام آباد: مہنگائی سے پریشان پاکستانی عوام پر ایک اور معاشی دھچکہ لگا ہے، کیونکہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں بالترتیب 10 روپے 39 پیسے اور 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں آج یکم جولائی سے فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
نئی قیمتوں کی تفصیلات
وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 262 روپے 59 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح، پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد قیمت 258 روپے 43 پیسے سے بڑھ کر 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ان نئی قیمتوں میں 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کاربن لیوی بھی شامل کی گئی ہے، جو ماحولیاتی پالیسیوں کے تحت عائد کی گئی ہے۔ یہ نئی قیمتیں اگلے 15 روز تک، یعنی 15 جولائی 2025 تک، نافذ رہیں گی۔
اضافے کی وجوہات
حکومت نے اس اضافے کی بنیادی وجوہات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کو قرار دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عالمی طلب اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے، جس سے درآمد شدہ تیل کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان عوامل نے مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر بنا دیا۔
معیشت اور عوام پر اثرات
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستانی معیشت اور عوام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹ، زراعت، اور صنعتی شعبوں کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنے گا، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ روزمرہ سفر کرنے والے شہریوں، خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقات، کے لیے مالی دباؤ کا باعث بنے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اضافہ مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ایک معاشی تجزیہ کار نے کہا، "پیٹرولیم مصنوعات معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے، چاہے وہ خوراک ہو، ٹرانسپورٹ ہو، یا صنعت۔ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔”
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، "مہنگائی پہلے ہی ناقابل برداشت ہے، اور اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ؟ یہ عام آدمی کے ساتھ مذاق ہے!” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "حکومت کو کاربن لیوی کے نام پر عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے روپے کی قدر مستحکم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔”
کچھ صارفین نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کو کم کرے یا کم آمدنی والے طبقات کے لیے سبسڈی پروگرام شروع کرے۔ ایک صارف نے لکھا، "جب تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو فائدہ عوام کو نہیں ملتا، لیکن جیسے ہی قیمتیں بڑھتی ہیں، سارا بوجھ ہم پر ڈال دیا جاتا ہے۔”
حکومتی چیلنجز اور آئی ایم ایف کا دباؤ
حکومت پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت سخت معاشی اصلاحات پر عمل پیرا ہے، جس میں توانائی کے شعبے میں سبسڈیز کو کم کرنا شامل ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کے مطالبات کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا، لیکن عالمی مارکیٹ کے دباؤ اور روپے کی قدر میں کمی نے ان کے اختیارات کو محدود کر دیا۔
متبادل اقدامات کی ضرورت
ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع، جیسے سولر اور ونڈ انرجی، کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ، عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی، ٹیکسوں میں نرمی، یا کم آمدنی والے طبقات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔
ایک ماہر نے کہا، "پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ عالمی مارکیٹ پر انحصار کم کرنے اور مقامی وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام پر بار بار بوجھ نہ پڑے۔”
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستانی عوام کے لیے ایک نیا معاشی امتحان ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے اور پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا اضافہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرے گا۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی اس فیصلے کی بنیادی وجوہات ہیں، لیکن اس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے، جیسے کہ ٹیکسوں میں کمی یا متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے شروع ہو چکا ہے، اور اس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔





















