ٹرمپ کی ایلون مسک پر سخت تنقید، حکومتی امداد پر انحصار کا الزام

اگر ایلون مسک کو یہ مالی معاونت نہ ملتی تو وہ ممکنہ طور پر اپنی صنعتیں بند کر چکے ہوتے اور واپس جنوبی افریقہ جا چکے ہوتے

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی کمپنیوں کی کامیابی درحقیقت امریکی حکومت کی مالی مدد اور سبسڈی کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ امداد نہ ملتی تو مسک شاید کاروبار بند کرکے جنوبی افریقہ واپس جا چکے ہوتے۔ٹرمپ نے یہ الزامات اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک طویل اور تنقیدی پوسٹ میں عائد کیے جس میں انہوں نے نہ صرف مالی معاونت بلکہ ماحولیاتی پالیسیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں زبردستی کے ایجنڈے پر بھی اعتراض اٹھایا۔

اربوں ڈالر کی بچت ہو سکتی تھی

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایلون مسک کی کمپنیوں، خاص طور پر ٹیسلا اور اسپیس ایکس، کو امریکی حکومت کی جانب سے بے شمار مالی سہولیات اور سبسڈی حاصل ہوئی ہے، جس کے بغیر وہ آج اس مقام پر نہ ہوتیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اگر حکومتی مالیاتی کفایت شعاری کے نگران ادارے نے وقت پر ان کمپنیوں کو دی گئی سبسڈی کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہوتا، تو شاید قومی خزانے کے اربوں ڈالر بچائے جا سکتے تھے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ سیٹلائٹ پروگرامز اور برقی گاڑیوں کی تیاری جیسے منصوبوں پر خرچ نہ کرتا تو ملک کو "بہت بڑی دولت” بچانے کا موقع مل سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایلون مسک کو یہ مالی معاونت نہ ملتی تو وہ ممکنہ طور پر اپنی صنعتیں بند کر چکے ہوتے اور واپس جنوبی افریقہ جا چکے ہوتے جو کہ ان کی پیدائش کا ملک ہے۔

حکومتی امداد

سابق صدر نے مزید الزام عائد کیا کہ مسک کو شاید انسانی تاریخ میں کسی بھی دوسرے فرد کی نسبت سب سے زیادہ حکومتی امداد حاصل ہوئی ہے، اور وہ بھی "بڑے فرق” کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیسلا کو الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری یا اسپیس ایکس کو راکٹ اور سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے سرکاری مدد حاصل نہ ہوتی تو یہ کمپنیاں نہ صرف ترقی نہ کر پاتیں بلکہ اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ پاتیں۔

اسے بھی پڑھیں: امریکا نے اسرائیل کو 51 کروڑ ڈالر مالیت کی مہلک بم کٹس فروخت کردیں

گاڑیاں خریدنے کا دبائو

ٹرمپ کی تنقید محض مالی معاملات تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے برقی گاڑیوں کے فروغ کے پیچھے موجود پالیسیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ ان کے مطابق، موجودہ حکومتی اقدامات ایسی سمت میں جا رہے ہیں جس سے عام لوگوں پر مخصوص قسم کی گاڑیاں خریدنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جو کہ انفرادی آزادی کے خلاف ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ برقی گاڑیاں یقیناً مفید ہو سکتی ہیں، لیکن کسی کو بھی ایسی گاڑی خریدنے پر مجبور کرنا آزادی کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔

انتخابی مہم

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اپنی اگلی انتخابی مہم کی تیاری کر رہے ہیں اور ماحولیاتی ضوابط، توانائی پالیسیوں، اور حکومتی اخراجات جیسے موضوعات پر سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا ہدف ایسے ووٹرز ہیں جو روایتی ایندھن، انڈسٹری اور آزاد مارکیٹ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں اور حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے ناخوش ہیں۔

DOGE

ٹرمپ کی پوسٹ کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ انہوں نے DOGE کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا:شاید DOGE کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایلون مسک کو دی جانے والی سبسڈی واقعی ضروری ہے یا نہیں۔ بہت سا پیسہ بچایا جا سکتا ہے!
یہاں DOGE سے ان کی مراد غالباً Department Of Government Efficiency یعنی "محکمہ حکومتی کفایت شعاری” ہے، جو ٹرمپ کے دورِ صدارت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد غیر ضروری سرکاری اخراجات کی نگرانی، مالیاتی شفافیت اور حکومتی ڈھانچے کی کارکردگی بہتر بنانا تھا۔ اپنے اس اشارے کے ذریعے ٹرمپ خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو قومی وسائل کے مؤثر استعمال اور غیر ضروری مالی امداد کے خاتمے کے حامی ہیں۔

یہ واضح ہے کہ ٹرمپ نہ صرف ایلون مسک کی شخصی کامیابیوں کو حکومتی مدد کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں بلکہ ان کے کاروباری ماڈلز اور ان پر مبنی پالیسیوں کو امریکہ کے اقتصادی اور نظریاتی اصولوں کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ ان کی حالیہ تنقید سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کی انتخابی دوڑ میں صنعتی آزاد منڈی، حکومتی بچت، اور روایتی معاشی نظریات کو اپنی مہم کا مرکزی نکتہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین