افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، 30 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک

یہ واقعات یکم سے تین جولائی کی راتوں کے دوران پیش آئے

پشاور: پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں پاک-افغان سرحد پر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ ’فتنہ الخوارج‘ کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 30 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، اس کامیاب آپریشن نے ملک کو ایک بڑے ممکنہ سانحے سے بچا لیا۔ ہلاک شدہ دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جو ان کے مذموم عزائم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

دراندازی کی ناکام کوشش

آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ واقعات یکم سے تین جولائی کی راتوں کے دوران پیش آئے، جب بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ ’فتنہ الخوارج‘ نے پاک-افغان سرحد کے قریب حسن خیل کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کی۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بروقت انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فوری کارروائی کی اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو ناکام بناتے ہوئے تمام 30 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

یہ دہشت گرد گروہ، جسے بھارت کی مکمل مالی اور لاجسٹک حمایت حاصل تھی، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سرحد پار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔

برآمد شدہ اسلحہ اور مواد

ہلاک شدہ دہشت گردوں کے قبضے سے جدید ہتھیاروں کا ذخیرہ، بھاری مقدار میں گولہ بارود، اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ حکام کے مطابق، یہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے حملوں کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو پاکستان کے شہری علاقوں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونا تھا۔ برآمد شدہ مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے عزائم نہ صرف پاکستان کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے تھے بلکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے بھی تھے۔

پاک فوج کا عزم

پاک فوج کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور پاک فوج اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔

آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ ترجمان نے کہا کہ افغان سرزمین پر موجود غیر ملکی پراکسیز پاکستان کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اور کابل انتظامیہ کو ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے جو خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔

علاقائی سیاق و سباق

شمالی وزیرستان، جو پاک-افغان سرحد کے قریب واقع ہے، طویل عرصے سے دہشت گردی کا گڑھ رہا ہے۔ نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے بعد سے خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو مالی اور لاجسٹک امداد فراہم کرنے کے ثبوت مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

رواں سال جنوری میں باجوڑ میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر حملے اور جون 2025 میں لوئی ماموند تھانے پر دہشت گردوں کی یلغار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ پاک فوج نے ماضی میں آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد جیسے کامیاب آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کو نمایاں طور پر کم کیا تھا، لیکن حالیہ واقعات نے سیکیورٹی فورسز پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

حکومتی اور عوامی ردعمل

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کامیاب آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے قوم کو ایک بڑے خطرے سے محفوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی اس آپریشن کی تعریف کی اور کہا کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائی پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام نے پاک فوج کی اس کارروائی کو سراہا۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ہماری سرحدوں کی محافظ ہے۔ بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے پر خراج تحسین۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’افغان سرزمین سے دہشت گردی کی سرپرستی بند ہونی چاہیے۔ پاک فوج کی یہ کامیابی ہمارے لیے فخر کا باعث ہے۔‘‘

بھارت کی مبینہ کردار

پاکستان نے طویل عرصے سے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو مالی اور لاجسٹک امداد فراہم کرتا ہے تاکہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ پاکستانی حکام نے ماضی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے ثبوت پیش کیے تھے، جو بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ حالیہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ گروہ غیر ملکی سرپرستی کے بغیر اتنی بڑی کارروائی نہیں کر سکتا تھا۔

مستقبل کے چیلنجز

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک-افغان سرحد پر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے سیکیورٹی فورسز کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ سرحد پر جدید نگرانی کے نظام، انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مضبوطی، اور افغان حکام کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج نے واضح کیا کہ وہ ملکی سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

پاک فوج کی اس کامیاب کارروائی نے نہ صرف بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی کو ناکام بنایا بلکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے عزم اور صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ 30 دہشت گردوں کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحے کی برآمدگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاک فوج ملکی دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔ تاہم، یہ واقعہ پاک-افغان سرحد پر بڑھتے ہوئے خطرات اور بھارتی سرپرستی کے الزامات کو ایک بار پھر سامنے لے آیا ہے۔ پاکستانی حکام نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، جبکہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین