پاکستان میں کپاس کی پیداوار گزشتہ ایک دہائی کے دوران شدید بحران کا شکار ہوئی ہے۔ دس سال قبل کپاس کی سالانہ پیداوار 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں تک پہنچتی تھی، مگر 2024 میں یہ پیداوار کم ہوکر صرف 55 لاکھ گانٹھ رہ گئی ہے۔ یہ کمی نہ صرف زراعت بلکہ قومی معیشت، ٹیکسٹائل صنعت اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں ٹیکسٹائل صنعت کا درآمدی خام مال پر انحصار 50 فیصد تک بڑھ چکا ہے، جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پیدا ہوا ہے اور پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت کھو رہا ہے۔
غیر معیاری بیج
کپاس کی پیداوار میں اس غیر معمولی کمی کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی اور اہم وجہ غیر معیاری بیجوں کی دستیابی ہے۔ مقامی زرعی ادارے ایسے بیج تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں جو ملکی موسم اور زمینی حالات کے مطابق موزوں ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور دیگر پیداواری عوامل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے کاشتکاروں کو گنے اور مکئی جیسی زیادہ نفع بخش فصلوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، بے وقت بارشوں، سیلاب، کیڑے مکوڑوں (خصوصاً سفید مکھی اور گلابی سنڈی) اور پانی کی قلت نے بھی کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ٹیکسٹائل صنعت کو خام مال کی کمی کا سامنا
کپاس کی کاشتکاری میں گرتی ہوئی دلچسپی کے نتیجے میں ملک کے کئی علاقوں میں کپاس کی جگہ گنا، چاول اور مکئی جیسی فصلوں نے لے لی ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے ٹیکسٹائل صنعت کو مقامی سطح پر خام مال کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث اسے غیر ملکی منڈیوں سے مہنگی کپاس درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ 2024 میں پاکستان نے تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کی کپاس درآمد کی، جس سے ملکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ مقامی گِننگ ملیں بند ہوتی جا رہی ہیں اور صرف 39 یونٹس فعال رہ گئے ہیں، جب کہ ہزاروں مزدور بیروزگار ہو چکے ہیں۔
اسے بھی پڑھیں: رواں سال کپاس کی برآمد میں 86 فیصد کمی
بیج کی تیاری
ماہرین کے مطابق مسئلے کا بنیادی حل تحقیق، معیار اور پالیسی میں بہتری ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو بیجوں کے معیار کو بہتر بنانے پر فوری توجہ دینی ہوگی اور ایسے بیج تیار کرنے ہوں گے جو گرمی، خشکی اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھیں۔ جدید تحقیق اور اختراعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ کسانوں کو کپاس کی کاشت کی طرف راغب کرنے کے لیے امدادی قیمت کا باقاعدہ اور شفاف نظام متعارف کرایا جائے تاکہ کسان کو کم از کم منافع کی ضمانت حاصل ہو۔ زرعی اخراجات میں کمی، کھاد اور ادویات پر سبسڈی، جدید آبپاشی نظام کا فروغ اور کسانوں کو تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایمرجنسی منصوبہ بندی
موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ماڈلنگ سسٹم، انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ اور فصلوں کے تحفظ کے لیے ریاستی سطح پر ایمرجنسی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیکسٹائل صنعت اور زرعی شعبے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ خام مال کی ضرورت اور پیداوار کے درمیان توازن قائم رہے۔ اگر فوری اور پائیدار اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان نہ صرف کپاس کی عالمی منڈی سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گا، بلکہ اس کا براہ راست اثر لاکھوں کسانوں، مزدوروں اور برآمدات پر بھی پڑے گا۔
کپاس کے بحران کا حل صرف بیانات یا وقتی پالیسیوں میں نہیں، بلکہ مستقل، سائنسی، معاشی اور پائیدار اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ اگر حکومت، ماہرین زراعت اور صنعتکار مشترکہ طور پر سنجیدہ حکمتِ عملی مرتب کریں تو پاکستان ایک بار پھر کپاس کی پیداوار میں خودکفیل بن سکتا ہے، اور ٹیکسٹائل شعبہ عالمی منڈی میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔





















