حمیرا اصغر کی موت: خودکشی یا سماجی تنہائی کا نوحہ؟

جب لاکھوں فالورز رکھنے والی ایک انفلوئنسر خاموشی سے دم توڑ جائے، اور کسی کو خبر نہ ہو تو یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ پوری سوسائٹی کا آئینہ ہے

تحریر: محمد کاشف جان

8 جون کو کراچی میں ایک خاموش موت واقع ہوئی، مگر اس کا شور تقریباً ایک ماہ بعد سوشل میڈیا پر بلند ہوا، جب معروف ماڈل، اداکارہ اور انفلوئنسر ہمایرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی پولیس تحقیقات میں قتل کے شواہد مسترد کیے جا چکے ہیں، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے: کیا ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں ایک خاتون مہینے بھر تک مر کر بھی زندہ تصور کی جاتی ہے؟ہمایرا کی موت نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے، تنہائی، اور آن لائن شہرت کی اندھی دنیا پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جب لاکھوں فالورز رکھنے والی ایک انفلوئنسر خاموشی سے دم توڑ جائے، اور کسی کو خبر نہ ہو تو یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ پوری سوسائٹی کا آئینہ ہے۔

واقعے کی تفصیل

ہمایرا اصغر کا شمار ان ابھرتی ہوئی آن لائن شخصیات میں ہوتا تھا جو انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیوز، فیشن اپڈیٹس اور لائف اسٹائل سے لاکھوں افراد کو متاثر کرتی تھیں۔ 32 سالہ اداکارہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں اکیلی رہتی تھیں۔ ان کے قریبی عزیز یا تو بیرون ملک تھے یا ان سے رابطے میں نہیں تھے۔
8 جون کو وہ اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئیں، مگر لاش کی دریافت 7 جولائی کو اُس وقت ہوئی جب ہمسایوں کو بدبو محسوس ہوئی اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب دروازہ توڑا گیا تو ایک دردناک منظر سامنے آیا — ہمایرا اصغر بے سدھ پڑی تھیں، اور جسم بری طرح گل چکا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق فلیٹ میں زبردستی داخل ہونے یا لڑائی جھگڑے کے کوئی آثار نہیں ملے۔

پولیس کی تحقیقات اور شکوک

پولیس کا ابتدائی مؤقف ہے کہ یہ قتل نہیں، بلکہ قدرتی موت یا خودکشی ہو سکتی ہے۔ تاہم، ہمایرا کے موبائل، ڈیجیٹل ریکارڈز، اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق فلیٹ میں نشہ آور اشیاء یا زہریلی دوائیں نہیں پائی گئیں، لیکن حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی دی جا سکے گی۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر یہ قدرتی موت تھی، تو ایک صحت مند جوان خاتون یوں اچانک کیوں چل بسی؟ اور اگر خودکشی تھی، تو اس کے پیچھے وجوہات کیا تھیں؟ کیا وہ ڈپریشن کا شکار تھیں؟ کیا شہرت کے پیچھے چھپی تنہائی انہیں اندر سے کھا رہی تھی؟

اسے بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کی لاش لینے سے انکار، والد کراچی نہ پہنچے، پولیس کا دعویٰ

انفلوئنسر کلچر کا سیاہ پہلو

ہمایرا اصغر کی موت صرف ایک فرد کی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ آن لائن شہرت کی اُس چکاچوند دنیا کی اندھیری گلیوں کا بھی انکشاف ہے، جہاں سب کچھ "پرفیکٹ” نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں اندر سے انسان ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر لاکھوں فالورز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان تنہا نہیں۔ "لائکس” اور "کمنٹس” کے شور میں انسان کی خاموش چیخیں اکثر دب جاتی ہیں۔ انفلوئنسرز اپنی زندگی کے صرف روشن پہلو عوام کے سامنے لاتے ہیں — خوشی، کامیابی، فیشن، خوبصورتی — مگر پردے کے پیچھے تنہائی، دباؤ، ذہنی بیماری، اور عدم تحفظ کی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ہمایرا کے کیس نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ہم اپنے "ڈیجیٹل ہیروز” کو صرف کنزیوم کر رہے ہیں، یا ان کے انسان ہونے کو بھی سمجھ رہے ہیں؟ کیا ان کے حقیقی جذبات، درد اور مسائل کو سننے والا کوئی ہے؟

ذمہ داری کس کی؟

ہمایرا کی موت نے کئی محکموں اور اداروں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے:معاشرتی نظام: وہ نظام جو اکیلی عورت کو صرف "آزاد” کہہ کر اپنی ذمے داریوں سے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ ہمایرا ایک عرصے سے اکیلی تھیں، کوئی دوست، کوئی ہمسایہ، کوئی رشتہ دار — کسی نے پوچھا نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکیں؟ریاستی ادارے: تنہا رہنے والے شہریوں کی مانیٹرنگ، فلاحی نظام، اور ذہنی صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی ایک کھلی ناکامی ہے۔ پاکستان میں ذہنی صحت کو آج بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا، اور نہ ہی کوئی ہیلپ لائن یا سسٹم ہے جو بروقت مداخلت کرے۔میڈیا اور سوشل میڈیا: ایک انفلوئنسر کی موت پر میڈیا کو دلچسپی صرف سنسنی خیز سرخیوں تک ہوتی ہے۔ اصل کہانی، اس کے پیچھے کے سسٹم اور تکلیف کو وہ نہیں دیکھتا۔ہم سب: عام شہری، فالورز، چاہنے والے — کیا ہم نے کبھی ان لوگوں کو "انسان” سمجھا؟ کیا ہم نے کبھی ان کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی بجائے ان کی خوشی، مسائل، یا خاموشی پر توجہ دی؟

آگے کیا کیا جائے؟

یہ لمحہ محض افسوس اور تعزیت کا نہیں، بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ:ذہنی صحت کے حوالے سے شعور پیدا کریں۔ ہر تعلیمی ادارے، دفاتر اور آن لائن پلیٹ فارمز پر سائیکالوجیکل سپورٹ سسٹم بنائیں۔
تنہا افراد کی سوشل فہرست مرتب کی جائے، ان کے ساتھ رابطے اور معاونت کے نظام ہوں۔ کوئی فرد ایسا نہ ہو جس کے مرنے کی خبر ایک ماہ بعد ملے۔سوشل میڈیا صارفین میں اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے — کسی کی ظاہری زندگی پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس کے پیچھے کی کہانی سمجھیں۔ریاست اور NGOs کو مل کر ہیلپ لائنز، ایمرجنسی وزٹ سروسز، اور ذہنی بیماریوں سے نمٹنے والے ادارے قائم کرنے ہوں گے۔

آخری بات

ہمایرا اصغر چلی گئیں — خاموشی سے، تنہائی میں، بغیر شور کے۔ ان کی موت شاید ابھی "قتل” نہ کہلائے، لیکن ایک پورا معاشرہ ضرور مجرم ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔ کیونکہ اگلی ہمایرا، شاید آپ کی جاننے والی ہو — یا شاید آپ خود۔اللہ ہمایرا کو جنت الفردوس میں جگہ دے، اور ہم سب کو انسانوں کی اندرونی دنیا کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین