تحریر :پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات )
دنیا اس وقت ایک شدید ماحولیاتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ کرہ ارض پر زندگی کا توازن بگڑ چکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں کا وہ انداز ہے جو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے بجائے اسے مسخر کرنے پر مبنی ہے۔ صنعتی ترقی نے جہاں انسان کو بے شمار سہولیات فراہم کیں، وہیں زمین کے فطری نظام کو بھی بے حد متاثر کیا۔ اگرچہ ماحولیات کے موجودہ بحران میں دنیا کے تمام ممالک شریک ہیں، لیکن ترقی یافتہ صنعتی ممالک کا کردار سب سے نمایاں اور بنیادی ہے، جنہوں نے معاشی مفادات کے حصول کے لیے زمین کے قدرتی وسائل کو بے رحمی سے استعمال کیا، اور فضاء، پانی، زمین اور ہوا کو زہر آلود کر دیا۔آج دنیا میں ہونے والے موسمی تغیرات، عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، طوفانی بارشیں، شدید گرمی، غیر متوقع برفباری، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندروں کی سطح میں اضافہ، قحط اور سیلابوں کی شدت جیسے مظاہر اسی صنعتی جارحیت کا نتیجہ ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہر سال تقریباً 50 لاکھ سے زائد افراد کی قبل از وقت اموات ہو رہی ہیں۔ صرف فضائی آلودگی ہی دنیا بھر میں سالانہ 70 لاکھ افراد کی موت کا باعث بنتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا کی 99 فیصد آبادی ایسی فضا میں سانس لیتی ہے جو مقرر کردہ معیار سے کہیں زیادہ آلودہ ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ دنیا اب ماحولیاتی تباہی کی شدت کو محسوس کرنے لگی ہے۔ اقوامِ عالم میں شعور بیدار ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر کئی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تحت 2015ء میں ہونے والے پیرس معاہدے پر دنیا کے 195 ممالک نے دستخط کیے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا اور اسے5 1.ڈگری تک محدود کرنا ہے۔ پیرس معاہدے کے تحت ترقی یافتہ ممالک نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو ہر سال 100 ارب ڈالر ماحولیاتی اقدامات کے لیے فراہم کریں گے، تاہم 2023ء تک یہ ہدف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکا۔اسی طرح اقوام متحدہ کے تحت "کوپ” (COP) کانفرنسز کے ذریعے ہر سال دنیا بھر کے رہنما اور ماہرینِ ماحول ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔
حالیہ COP28 کانفرنس 2023 ءمیں دبئی میں ہوئی جس میں 198 ممالک نے شرکت کی اور پہلی بار عالمی سطح پر فوسل فیولز (تیل، گیس، کوئلہ) کے "فیز آؤٹ” (مرحلہ وار خاتمے) پر مشترکہ رضامندی ظاہر کی گئی۔ یہ ایک تاریخی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس اجلاس میں ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے لیے ایک نئے فنڈ کی منظوری بھی دی گئی، جس میں ترقی یافتہ ممالک نے ابتدائی طور پر 700 ملین ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔2021 ءمیں "گلاسگو کلائمیٹ پیکٹ” کے تحت درجہ حرارت میں اضافہ 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کے وعدے پر بھی عالمی اتفاق ہوا اور 100 سے زائد ممالک نے جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لیے دستخط کیے۔ یورپی یونین نے 2030 تک کاربن اخراج کو 55 فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2060 تک کاربن نیوٹرل ہو جائے گا۔ بھارت نے
اسے بھی پڑھیں:نوجوانوں کا اسلام کی طرف بڑھتا رجحان خوش آئندہے:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
u2070 اور امریکہ نے 2050 تک کاربن نیوٹرل ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اسلامی دنیا میں بھی ماحولیاتی شعور ابھرتا جا رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات ماحول کے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔ قرآن کریم نے زمین کو "فرش” اور "ماں” قرار دیا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے درخت لگانے، جانوروں پر رحم کرنے اور پانی کے ضیاع سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ زمین اللہ کی امانت ہے اور انسان اس کا امین ہے۔ اگر مسلمان اس تعلیم کو حقیقی معنوں میں سمجھ لیں تو ماحول کا تحفظ ان کی دینی ذمے داری بن جاتا ہے۔ماحولیاتی تحفظ کی تحریک کوئی نئی بات نہیں۔ 300 قبل مسیح اشوکا کے دور میں ماحول کی بقا کے لیے باقاعدہ کوششیں کی گئیں۔ شیر شاہ سوری نے عوامی فلاح کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ شاہراہوں پر درخت لگوائے، کنویں کھدوائے، اور سائے دار پناہ گاہیں قائم کیں۔ انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے نتیجے میں ماحول کی تباہی کا آغاز ہوا، اور بیسویں صدی میں ماحولیات کو باقاعدہ ایک سائنسی مضمون کے طور پر تسلیم کیا گیا۔پاکستان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں۔ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2021 ءکے مطابق پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ حالیہ سیلابوں نے 3 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا اور تقریباً 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ حکومتِ پاکستان نے ماحول کے تحفظ کے لیے "کلین اینڈ گرین پاکستان”، "بلین ٹری سونامی”، اور "نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی” جیسے اقدامات کیے ہیں، لیکن بدقسمتی سے پالیسی سازی اور عملدرآمد کے درمیان بہت بڑا خلا موجود ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیاتی مسئلے کو ایک وقتی بحران نہیں بلکہ ایک مستقل عالمی چیلنج کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس کے لیے صرف عالمی کانفرنسز یا وعدے کافی نہیںبلکہ ہر سطح پر عملی اقدامات درکار ہیں۔ ہمیں اپنا طرزِ زندگی تبدیل کرنا ہو گا، پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہو گا، اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو ترجیح دینی ہو گی۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، محفوظ اور سرسبز دنیا دے سکیں گے۔





















