طلبہ پر تشدد کی روک تھام کے لیے اساتذہ کے ریفریشر کورسز ضروری ہیں: شیخ فرحان عزیز

استاد کے تشدد سے 14 سالہ طالبعلم کی ہلاکت قابلِ افسوس ہے: صدر ایم ایس ایم

لاہور (محمد کاشف جان) مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ (ایم ایس ایم) کے مرکزی صدر شیخ فرحان عزیز نے سوات کے علاقے خوازہ خیلہ کے مدرسے میں استاد کے مبینہ تشدد سے کمسن طالبعلم فرحان ایاز کی المناک ہلاکت پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف مقتول کے اہل خانہ کے لیے ایک صدمہ ہے بلکہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔شیخ فرحان عزیز نے کہا کہ اساتذہ کو بچوں کی تعلیم و تربیت میں رحم اور شفقت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ استاد کا کردار صرف پڑھانا نہیں بلکہ شخصیت سازی اور رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اساتذہ باپ کی مانند ہوتے ہیں، متشدد نہیں۔ مدارس میں بچوں پر تشدد ناقابلِ برداشت جرم ہے، جو نہ صرف اسلام کی تعلیمات بلکہ انسانی اخلاقیات کے بھی منافی ہے۔

طلبہ پر تشدد کی روک تھام کے لیے اساتذہ کے ریفریشر کورسز ضروری ہیں: شیخ فرحان عزیز

ریفریشر کورسز اور تربیتی ورکشاپس کی ضرورت

مرکزی صدر ایم ایس ایم نے کہا کہ اساتذہ کے لیے ریفریشر کورسز اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان میں مثبت رویوں اور جدید تدریسی طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی نفسیات، رویوں کی اصلاح اور تربیت کے جدید اصولوں پر آگاہی ہر استاد کے لیے لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم و تربیت کے ادارے کبھی بھی خوف اور تشدد کی بنیاد پر نہیں چل سکتے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے محبت، شفقت اور کردار سازی بنیادی ستون ہیں۔ تشدد محض خوف پیدا کرتا ہے اور یہ خوف کبھی بھی حقیقی سیکھنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا

والدین کی بڑھتی ہوئی تشویش

حالیہ برسوں میں بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے والدین میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ شیخ فرحان عزیز نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے اداروں میں اعتماد کے ساتھ بھیجتے ہیں، لیکن اس قسم کے سانحات پورے نظام تعلیم پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کا یہ اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کے تحفظ کو تعلیمی پالیسیوں کا بنیادی جزو بنایا جائے انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات بچوں کی شخصیت اور ذہنی نشوونما پر دیرپا منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، جو انہیں تعلیم اور معاشرتی زندگی سے خوفزدہ کر سکتے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: بھارت کا تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ،لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں

اسلامی تعلیمات میں شفقت اور محبت

شیخ فرحان عزیز نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ بچوں پر شفقت اور محبت فرمائی، اور تعلیم دی کہ بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ استاد اور شاگرد کے تعلق میں محبت، احترام اور رہنمائی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مدارس اور دیگر تعلیمی ادارے اگر طلبہ کو خوف کے بجائے اعتماد اور رہنمائی دیں تو نہ صرف تعلیمی معیار بلند ہوگا بلکہ طلبہ میں اخلاقی اور روحانی شعور بھی پروان چڑھے گا۔

واقعے کی مذمت اور انصاف کا مطالبہ

شیخ فرحان عزیز نے خوازہ خیلہ کے مدرسے میں پیش آنے والے واقعے کو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات مدارس کے تقدس کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث ذمہ داران کو فوری گرفتار کر کے سخت اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی استاد کو طلبہ پر تشدد کا حوصلہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے معاشرے میں احتساب کے نظام کی کمزوری کو اجاگر کر دیا ہے، اور اس کا سدباب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انصاف فوری اور مؤثر نہ ہو۔

حکومت سے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ

مرکزی صدر ایم ایس ایم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بچوں پر تشدد کے خلاف ملک گیر سطح پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مدارس اور تعلیمی اداروں میں ایک مؤثر انسپیکشن سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرے۔ کوئی بھی ادارہ جو خوف اور تشدد پر چلتا ہے، وہ کبھی حقیقی تعلیم اور تربیت فراہم نہیں کر سکتا۔

مرحوم کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت

شیخ فرحان عزیز نے کمسن طالبعلم فرحان ایاز کے والدین اور اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ اس کربناک وقت میں غمزدہ خاندان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا ہو اور انصاف دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ ملک بھر میں ایسے واقعات کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی اور بچوں کے تحفظ کے لیے حکومتی اور سول سوسائٹی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

مستقبل کے لیے اصلاحی لائحہ عمل

شیخ فرحان عزیز نے کہا کہ اس طرح کے سانحات کا خاتمہ اس وقت ممکن ہوگا جب معاشرے کے تمام طبقات، بشمول اساتذہ، والدین، حکومتی ادارے اور سول سوسائٹی، مل کر ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کریں جو محبت، رہنمائی اور اعتماد پر مبنی ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف کتابی علم دینا نہیں بلکہ طلبہ کے کردار اور اخلاق کی تعمیر ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی ڈھانچے کو خوف اور سزا کے کلچر سے پاک کر کے محبت اور تربیت پر مبنی بنانا ہوگا۔شیخ فرحان عزیز نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ ہر سطح پر بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی اور اس مقصد کے لیے اصلاحی اقدامات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین