کراچی :پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت صوبہ سندھ کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں طبی فضلے کی مناسب انداز میں تلفی نہ ہونے کا معاملہ ایک خطرناک بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت سندھ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام چلنے والے بیشتر اسپتالوں میں اب بھی طبی فضلے کو سائنسی اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے مناسب نظام موجود نہیں۔ اس سنگین غفلت کے نتیجے میں انفیکشنز، بیکٹیریا، وائرسز اور دیگر موذی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مریضوں بلکہ اسپتالوں میں کام کرنے والے عملے اور عام شہریوں کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
یومیہ پیدا ہونے والے خطرناک طبی فضلے کی نوعیت
طبی ماہرین کے مطابق ایک مریض کے بستر سے یومیہ اوسطاً 2.5 سے 3 کلوگرام تک طبی فضلہ نکلتا ہے۔ اس میں کم از کم ایک کلوگرام ایسا فضلہ شامل ہوتا ہے جو متعدی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ فضلہ مختلف خطرناک اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے جیسے کہ مریض کی استعمال شدہ سرنجیں، ڈرِپس سیٹ، کینولا، خون کے بیگز، اور دیگر آلودہ اشیاء جو جراثیم کو تیزی سے پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ان اشیاء کو احتیاط سے اور سائنسی بنیادوں پر تلف نہ کیا جائے تو یہ نہ صرف اسپتالوں کے اندر بلکہ شہر بھر میں خطرناک وباؤں کے پھوٹنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
سائنسی طریقہ تلفی: ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹس
سندھ بھر میں موجود تمام سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے میں سے صرف پانچ بڑے تدریسی اسپتالوں میں اسے جدید سائنسی طریقے سے تلف کیا جاتا ہے۔ ان اسپتالوں میں ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹس نصب کیے گئے ہیں، جو ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ پر فضلے کو جلا کر اس میں موجود جراثیم، وائرس اور دیگر بیکٹیریا کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔ ان اسپتالوں میں سول اسپتال کراچی، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، لیاری جنرل اسپتال، لیاقت یونیورسٹی اسپتال جامشورو، اور بے نظیر بھٹو ہسپتال (چانڈکا اسپتال) شامل ہیں۔
یہ پلانٹس گزشتہ سال پہلی بار سندھ حکومت نے لگوائے تھے، لیکن ان کی دستیابی صرف چند بڑے مراکز تک محدود ہے۔ باقی تمام اسپتالوں میں اب بھی روایتی اور غیر محفوظ طریقوں سے طبی فضلہ ٹھکانے لگایا جا رہا ہے، جو ایک المیہ ہے۔
اسے بھی پڑھیں: ہزاروں نوزائیدہ بچوں میں پیدائش کے وقت مہلک وائرس کی تشخیص کا انکشاف
طبی فضلہ: غیرقانونی طور پر ری سائیکل ہونے لگا
تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض اسپتالوں میں خاکروبوں اور عملے کی ملی بھگت سے ایک منظم گروہ طبی فضلے کو چوری چھپے باہر لے جا کر اسے ری سائیکل کراتا ہے۔ یہ عمل غیر سائنسی، غیر اخلاقی اور قانون کے سراسر خلاف ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گروہ استعمال شدہ سرنجوں، کینولوں اور بلڈ بیگز کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے، جو نئی بیماریوں کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے۔
ضلعی سطح پر مکمل ناکامی
کراچی میں موجود بیشتر ضلعی سطح کے سرکاری اسپتالوں، جن میں سندھ گورنمنٹ نیو کراچی اسپتال، سندھ گورنمنٹ اربن ہیلتھ سینٹر نارتھ کراچی، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال، سندھ گورنمنٹ سعودآباد اسپتال، سندھ گورنمنٹ کورنگی اسپتال، سندھ گورنمنٹ ابراہیم حیدری اسپتال، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال، انسی ٹیوٹ آف اسکن ڈیزیز، کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز، اور سوبھراج اسپتال شامل ہیں، ان میں طبی فضلے کی تلفی کا کوئی سائنسی نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ ان اسپتالوں سے یومیہ سینکڑوں کلوگرام خطرناک فضلہ نکلتا ہے، لیکن یہ فضلہ کہاں جاتا ہے اور کس طریقے سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے، اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
سرکاری اداروں کی ناکامی اور غیر سنجیدگی
محکمہ صحت سندھ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی جیسے بڑے اداروں کی طرف سے اس مسئلے کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومتی نمائندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صفائی کے لیے نجی اور سرکاری اداروں کو ہدایات دی جا چکی ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ کئی برسوں سے اس مسئلے پر صرف کاغذی کارروائیاں ہو رہی ہیں، مگر اس کا عملی حل آج تک نہیں نکالا گیا۔
صحت عامہ کے لیے ممکنہ تباہی
ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگر طبی فضلے کی موجودہ صورتحال کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ کسی بھی وقت وبائی بیماریوں کے پھوٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک طرف اسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے اور دوسری طرف فضلے کو ٹھکانے لگانے کی سہولیات میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔
ماضی سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت
پاکستان میں پہلے بھی کئی بار غیر سائنسی طریقے سے طبی فضلہ تلف کرنے کے نتائج بھگتے جا چکے ہیں۔ ماضی میں پنجاب اور سندھ میں استعمال شدہ سرنجوں سے ہیپاٹائٹس کے کیسز میں اضافہ ہوا تھا۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 15 فیصد طبی فضلہ "ہائی رسک” ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر اس کو صحیح طریقے سے نہ سنبھالا جائے تو یہ جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ معاملہ فوری اور مستقل اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومت سندھ کو چاہیے کہ تمام ضلعی اور تحصیل سطح کے اسپتالوں میں ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹس نصب کرے، اسپتالوں کے اندرونی عملے کی نگرانی سخت کی جائے، اور طبی فضلہ چوری کر کے ری سائیکل کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اسپتال انتظامیہ پر فضلے کی درست تلفی کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں صحت عامہ کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ اگر اس طرح کے خطرناک مسائل کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو یہ بحران جلد یا بدیر ایک ناقابلِ کنٹرول سانحہ بن سکتا ہے۔





















