’’زمین کی سانس بند ہو رہی ہے ‘‘

اگر آج ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں ایک زہریلے، بنجر اور شور زدہ سیارے پر سانس لینے کو مجبور ہوں گی

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات )

دنیا تیزی سے ایک ایسے موڑ پر پہنچ رہی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت بن چکی ہے۔ عالمی درجہ حرارت خطرناک حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ سال 2024 ءکو تاریخ کا سب سے گرم سال قرار دیا گیا، جب اوسط درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے پہلے کے زمانے کے مقابلے میں 1.52 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا۔ یہ اضافہ بظاہر چھوٹا لگتا ہے لیکن ماحولیاتی سائنس میں یہ ایک بڑی اور خطرناک تبدیلی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں ایک ڈگری سے بھی کم اضافہ دنیا بھر کے موسم، بارش کے نظام، سمندری سطح اور برفانی خطوں پر گہرے اثرات ڈال دیتا ہے۔ عالمی ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر زمین کا اوسط درجہ حرارت5.1 ڈگری سے اوپر گیا تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے بڑھیں گے اور کئی نقصانات ناقابلِ واپسی ہو جائیں گے۔

2024 ءمیں اس حد کا پار ہونا ایک سنگین اشارہ ہے کہ موسمیاتی بحران اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔یہ اعداد و شواہدایک لرزہ خیز تصویر پیش کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں گرمی کی شدید لہروں کا دورانیہ اور شدت بڑھ چکی ہےاور ماہرین کے مطابق اگر عالمی گرمائش 5.1ڈگری پر بھی محدود رہی تو ایسے واقعات پانچ گنا بڑھ جائیں گے، جبکہ دو ڈگری کی سطح پر یہ آٹھ گنا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہیٹ ویوز کی یہ شدت انسانی صحت، خوراک کی پیداوار اور معیشت، تینوں پر مہلک اثر ڈال رہی ہے۔ انسانی لالچ اور وسائل کے بے دریغ استعمال نے زمین کے فطری نظام کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ صنعتی فضلے نے مٹی کی زرخیزی چھین لی، فضا زہریلے دھوئیں سے بھر گئی اور شور کی آلودگی نے انسانی اعصاب کو کمزور کر دیا۔ دمہ، دل کے امراض، نفسیاتی دباؤ، قوتِ برداشت میں کمی، قوت مدافعت کی کمی یہ سب آلودگی کے تحفے ہیں جو اب ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔

اس تباہی کی نوعیت صرف مقامی نہیں، بلکہ عالمی ہے۔ ایک ملک کی فیکٹریوں سے اٹھنے والا دھواں پڑوسی ملک میں سموگ اور تیزابی بارش کی صورت برستا ہے۔ سمندری آلودگی ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک آبی حیات کو تباہ کرتی ہے۔ ماحولیاتی بحران عالمی تجارت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے اور سخت قوانین والے ممالک کو تجارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آلودہ پانی اور ہوا کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں عالمی صحت کو ایک مستقل خطرے میں ڈال چکی ہیں۔ کووڈ-19 نے یہ حقیقت کھول کر سامنے رکھ دی کہ ماحول اور انسانی صحت کے مسائل ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

اسے بھی پڑھیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا گوجرانوالہ بزنس سینٹر کا دورہ

بین الاقوامی برادری نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ آذربائیجان میں ہونے والی COP29 میں دنیا کے 200 ممالک نے ایک مالیاتی معاہدہ طے کیا جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو 2035ء تک ہر سال کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے لڑ سکیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اب تک صرف 19 ممالک نے اپنے ماحولیاتی اہداف اپ ڈیٹ کیے ہیں۔ برازیل میں اس سال ہونے والی COP30 میں 125 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان متوقع ہے تاکہ ٹراپیکل جنگلات کو بچایا جا سکے۔دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والی تازہ ترین رپورٹس بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ہمالیہ میں یاک چر واہے چراگاہوں کی کمی اور بارشوں کے بدلتے پیٹرن سے اپنی روایتی زندگی کھو رہے ہیں۔ بحرِ اوقیانوس کے اہم بحری دھارے میں معمولی کمی ایمیزون کے جنگلات میں بارش کو 40 فیصد تک کم کر سکتی ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے کاربن ذخیرے کو شدید خطرے میں ڈال دے گی۔ انٹارکٹیکا میں 332 زیرِ آب وادیوں کا نقشہ تیار ہوا ہے جو گلیشیئر پگھلنے اور سمندری گردش کے بدلتے رجحانات کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

اگر آج ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں ایک زہریلے، بنجر اور شور زدہ سیارے پر سانس لینے کو مجبور ہوں گی۔ صنعتی فضلے کو کنٹرول کرنا، زہریلے پانی کو صاف کرنے کے نظام قائم کرنا، ماحول دوست توانائی اپنانا، بڑے پیمانے پر شجرکاری کرنا اور جدید سائنسی اقدامات اختیار کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے لیے عالمی تعاون، سخت قانونی اقدامات اور بڑی مالی معاونت کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں۔انسانیت آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ یا تو ہم فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں، یا پھر اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسی دنیا کے سپرد کریں جو زندہ رہنے کے قابل نہ ہو۔ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہےاور” زمین کی سانسیں واقعی بند ہو رہی ہیں”۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین