پشاور/مظفرآباد/گلگت: خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان میں مون سون کی شدید بارشوں، بادلوں کے پھٹنے، اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مکانات، بنیادی ڈھانچے، اور معاشرتی زندگی کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے ایمرجنسی فنڈز جاری کر دیے ہیں، جبکہ پاک فوج اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔
تباہی کا دائرہ
ملک کے بالائی علاقوں میں مون سون کے ساتویں اسپیل نے خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان کو شدید متاثر کیا ہے۔ طوفانی بارشوں، بادلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ، اور سیلابی ریلوں نے دیہاتوں کو تباہ کر دیا، سڑکیں اور پل منہدم ہو گئے، اور بجلی و مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ نقصان ہوا، جہاں 204 سے زائد افراد ہلاک اور 33 لاپتہ ہیں۔ آزاد کشمیر میں 18 اور گلگت بلتستان میں 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ مجموعی طور پر، 250 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ
خیبرپختونخوا کے اضلاع بونیر، باجوڑ، بٹگرام، سوات، مانسہرہ، شانگلہ، اور تورغر میں شدید بارشوں اور فلش فلڈز نے تباہی مچائی۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 205 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 128 مرد، 9 خواتین، اور 13 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں 12 مرد، 2 خواتین، اور ایک بچہ شامل ہے۔ بارشوں سے 35 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے 28 جزوی طور پر اور 7 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
بونیر میں سب سے زیادہ نقصانات رپورٹ ہوئے، جہاں ڈپٹی کمشنر کے مطابق 92 افراد ہلاک ہوئے۔ پیر بابا اور گوکند کے علاقوں میں سیلابی ریلوں نے بازاروں اور رہائشی علاقوں کو زیر آب کر دیا۔ ایک مقامی مسجد شہید ہو گئی، جبکہ پولیس اسٹیشن بھی پانی میں ڈوب گیا۔ باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے 21 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
سوات میں دریائے سوات اور دیگر ندی نالوں میں طغیانی سے مینگورہ، خوازہ خیلہ، اور دیگر علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ مالم جبہ روڈ کا 400 میٹر حصہ سیلاب میں بہہ گیا، جس سے سیاحوں کو سفر سے روک دیا گیا۔ لوئر دیر میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 3 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوئے، جبکہ مانسہرہ کے علاقے بسیاں میں ایک کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی، جس میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔
وادی نیلم اور مظفرآباد میں تباہی
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں سیلابی ریلوں نے 6 رابطہ پل بہا لئے، جبکہ مظفرآباد میں کلاؤڈ برسٹ سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ رتی گلی روڈ لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہو گئی، اور بیس کیمپ میں 500 سے زائد سیاح پھنس گئے، جنہیں حکام نے محفوظ قرار دیا ہے۔ نیلم اور لوات نالوں پر 3، 3 پل تباہ ہوئے، جبکہ شاہراہ کوہالہ بھی بند ہو گئی۔ 30 سے زائد مکانات اور دکانیں منہدم ہوئیں، اور بجلی و مواصلاتی خدمات معطل ہیں۔ تعلیمی اداروں کو دو روز کے لیے بند کر دیا گیا۔
بجلی کا بحران اور جانی نقصان
گلگت بلتستان میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں غذر میں 8 اور دیامر میں 2 بہن بھائی شامل ہیں۔ نلتر پاور اسٹیشن کے تباہ ہونے سے گلگت شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔ اسکردو میں 5 پل سیلاب کی نذر ہوئے، جبکہ چلاس کے اوچھار نالے میں متعدد افراد بہہ گئے۔ ہنزہ میں شیشپر گلیشیئر کے پگھلنے سے حسن آباد نالے کے اطراف کٹاؤ تیز ہو گیا، اور حکام نے مکانات خالی کرنے کے نوٹس جاری کر دیے۔
امدادی سرگرمیاں اور فنڈز
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کے لیے 50 کروڑ روپے کے ہنگامی فنڈز جاری کیے ہیں۔ بونیر کو 15 کروڑ، باجوڑ، بٹگرام، اور مانسہرہ کو فی کس 10 کروڑ، اور سوات کو 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے۔ عوام سے ہیلپ لائن 1700 پر رابطے کی اپیل کی گئی ہے۔
پاک فوج نے سوات اور باجوڑ میں فلڈ ریلیف آپریشنز شروع کیے ہیں، جہاں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بونیر، باجوڑ، اور دیگر علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں۔ بونیر میں 40 سے زائد تربیت یافتہ ریسکیورز اور 10 ایمبولینسز تعینات کی گئی ہیں۔
بدقسمتی سے، باجوڑ میں امدادی سامان لے جانے والا خیبرپختونخوا حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث کریش ہو گیا، جس میں 2 پائلٹس سمیت 5 افراد شہید ہوئے۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے میں یوم سوگ کا اعلان کیا، اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔ شہداء کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔ دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بونیر، باجوڑ، اور دیگر اضلاع میں موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا خطرہ ہے۔ دریائے سندھ، سوات، کابل، اور دیگر ندیوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے، جس سے مزید نقصانات کا خدشہ ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس قدرتی آفت نے عوام میں شدید صدمے اور غم کی کیفیت پیدا کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "بونیر میں 43 لاشیں ایک اسپتال میں ہیں، یہ تباہی ناقابل بیان ہے۔” ایک اور صارف نے امدادی کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "پاک فوج اور ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں، یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں۔” تاہم، کچھ صارفین نے حکومتی تیاریوں پر تنقید کی، کہتے ہوئے کہ پیشگی الرٹ کے باوجود نقصانات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔
خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے نہ صرف جانی و مالی نقصانات کیے بلکہ پاکستان کے بالائی علاقوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈھانچے کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کیا۔ یہ آفت مون سون کے شدید رجحانات اور موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جو گلیشیئرز کے پگھلنے اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات کو مزید شدید کر رہی ہے۔
پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی جانب سے پیشگی الرٹ کے باوجود نقصانات کی شدت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیشگی تیاریوں اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی میں مزید کام کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، نلتر پاور اسٹیشن اور متعدد پلوں کی تباہی سے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری عیاں ہوتی ہے۔
پاک فوج اور ریسکیو 1122 کی امدادی کارروائیوں نے متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا، لیکن طویل مدتی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ 50 کروڑ روپے کے فنڈز ایک اچھا آغاز ہیں، لیکن متاثرہ خاندانوں کی مکمل بحالی، مکانات کی تعمیر نو، اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیاحتی مقامات پر نقصانات سیاحت کے شعبے کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہیں۔ رتی گلی اور مالم جبہ جیسے مقامات پر سیاحوں کے پھنسنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاحتی علاقوں میں ہنگامی حالات کے لیے بہتر انتظامات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف فوری امدادی اقدامات بلکہ طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ گلیشیئرز کے تحفظ، مضبوط ڈھانچوں کی تعمیر، اور عوام میں آگاہی مہمات اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس آفت نے ایک بار پھر یہ سبق دیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور قومی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اگرچہ پاک فوج اور ریسکیو ٹیموں کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، لیکن حکومتی اداروں کو مستقبل میں ایسی تباہی کو کم کرنے کے لیے مربوط منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔





















