الفاظ اور تصویریں انسانی بستیوں میں آگ لگا دیتے ہیں،ہمارا پہلا ردعمل ہمارے کانوں تک پہنچنے والی خبر اور آنکھوں کے سامنے آنے والی تصویر سے ترتیب پاتا ہے۔جب دو تین اخبار ہوتے تھے اور صرف ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا تو ہم اتنے منتشر نہیں تھے،جوں جوں ذرائع ابلاغ میں اضافہ ہوتا چلا گیا ویسے ویسے ہمارا ذہنی انتشار بھی بڑھتا گیا۔جو قومیں تعلیم اور تربیت کے بغیر سائنسی ایجادات کو استعمال میں لاتی ہیں تو ان کی حالت اس بندر جیسی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں تلوار دے دی جائے۔
سچ اور جھوٹ میں تمیز کیلئے تعلیم ضروری ہے
جب الیکٹرونک میڈیا ہائوسز نے کھمبیوں کی طرح پرورش پائی تو ایسے ایسے اینکر بن گئے جن کی تربیت تو چنگ چی چلانے کی تھی مگر وہ ایف سولہ پر بیٹھ گئے یہی حال دیگر شعبہ جات کا ہوا۔تعلیم اور تربیت سے خالی دماغ سچ اور جھوٹ کی تمیز نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر جو خبر یا ویڈیو سامنے آتی ہے اسے بغیر تحقیق کے وائرل کر دیا جاتا ہے اور پھر ہر طرف سے آگ اور دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا ہے،سوشل میڈیا کی وجہ سے کسی ساکھ سلامت ہے اور نہ کسی کا جان و مال،ابھی حال ہی میں ہم نے ایک رپورٹ دیکھی جس میں سینکڑوں پاکستان کے مسلمان نوجوانوں کو دھوکہ دہی کے ساتھ توہین رسالت کے کیسز میں پھنسا دیا گیا،اگر نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کی ٹریننگ میسر ہوتی تو وہ دھوکہ بازوں کے جال میں آسانی سے نہ پھنستے،اب سوال یہ ہے کہ فیک نیوز،عدم برداشت کا حل کیا ہے؟
مسائل زدہ شہریوں سے قانون کے احترام کی توقع بے کار
لوگوں کو تعلیم دی جائے(40 فی صد آبادی آج بھی ناخواندہ ہے)2کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے۔یہ بچے لاعلمی کے اندھیروں میں پروان چڑھ کرمعاشرے کےلئے روشنی کیسے بن سکتے ہیں؟
انصاف کو عام کیا جائے اس وقت مختلف عدالتوں میں 26.2 ملین کیسز زیر التوا ہیں۔4.1 ملین زمینوں پر قبضوں سے متعلق ہے جس کی عمر بھر کی کمائی ایک پل میں کوئی لوٹ لے وہ کیسے تحمل اور بردباری دکھائے؟ اور قانون کی پاسداری کا مظاہرہ کرے
سیاسی استحکام اور گڈگورننس ناگزیر
جب کوئی پولیس والا چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرے گا تو اس گھر والوں سے ہم کس برداشت اور قانون کے احترام کی توقع رکھ سکتے ہیں،جس ملک میں50 فی صد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے ہو اس آبادی سے تحمل کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ جس ملک کے کروڑوں نوجوان روزگار کےلئے مارے مارے پھر رہے ہوں ان سے قانون کے احترام کی امیدیں کیسے باندھی جا سکتی ہیں؟ جس30ہزار آمدن والے شخص اگر 20ہزار بجلی کا بل آئے گا تو وہ کیسے اپنے منہ سے آگ کی بجائے پھول بکھیرے ؟کل کے ایک قومی انگریزی اخبار کی رپورٹ ہے کہ مہنگائی اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے یونیورسٹیوں میں داخلوں کی تعداد میں30 فی صد تک کمی آچکی ہے۔
خلیفہ دوم کا ایک نصیحت آموز اقدام
حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں قحط آیاخشک سالی اتنی بڑھی کہ جانور بھوک اور پیاس سے مرنے لگے اس صورتحال پرآپ نے زکوۃ اور خراج کی وصولی کو معطل کر دیا،بیت المال کے دروازے کھول دئے۔آپ کے اس عمل سے لوگوں میں تشدد کی بجائے تحمل پیدا ہوا،حکومت متشدد رویوں کے خاتمے کےلئے جتنے مرضی قانون بنا لے جتنی مرضی پکڑ دھکڑ کر لے جب تک بنیادی مسائل حل نہیں کئے جائیں گے لوگوں کے رویے ٹھیک نہیں ہوں گے،قومیں طوفانوں،سیلابوں،قحطوں سے تباہ نہیں ہوتیں قومیں نا انصافی جیسے رویوں سے تباہ ہوتی ہیں۔
عوام کے کرنے کے کام
سوشل میڈیا کا محتاط استعمال کریں،فوری ردعمل دینے کی بجائے تحقیق اور تصدیق کریں کیونکہ الفاظ اور تصویریں آگ لگا دیتی ہیں۔سوسائٹی کے باشعور طبقات سوشل میڈیا پر مقابلہ، مباہلہ کی بجائے مکالمہ کے کلچر کو پروموٹ کریں۔والدین رات دیر تک موبائل فون استعمال کرنے والے اپنے نابالغ بچوں پر کڑی نظر رکھیں ان کے ان باکس چیک کریں کہ کہیں وہ لا علمی میں جرائم کی دلدل میں تو نہیں اتر رہے
حکومت کے کرنے کے کام
حکومت فیک اکائونٹس کو بند کرے،ان کو بلاک کرے سب سے زیادہ گندگی انہیں نا معلوم اکائونٹس سے پھیلائی جا رہی ہے۔نفرت اور تشدد کو ہوا دینے والے اکائونٹس کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔حساس مذہبی موضوعات پر بحث و تمحیص پر پابندی لگائی جائے،یہیں سے سب سے زیادہ عدم برداشت پھیل رہا ہے۔حکومت تعلیمی اداروں میں بامقصد تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے تاکہ کھرے اور کھوٹے کے درمیان فرق ہو سکے۔سکول کی سطح پر طلبہ و طالبات کو سوشل میڈیا کےمثبت اور بامقصد استعمال کی تربیت ملنی چاہئے۔





















