(اسپورٹس ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان Shahid Afridi نے بچوں کی تربیت، موبائل فون کے استعمال اور والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
ایک نجی اسکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں انتہائی ضروری ہیں، لیکن اگر بچوں کی تربیت درست نہ ہو تو تعلیم اپنا مکمل اثر نہیں دکھا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ والدین عموماً بہت کم عمری میں بچوں کو اسکولوں کے حوالے کر دیتے ہیں جبکہ ابتدائی پانچ سال بچوں کی شخصیت سازی کیلئے سب سے اہم ہوتے ہیں۔
شاہد آفریدی کے مطابق “ماں باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں ہوتا” اور اسی لیے بچوں کی بنیادی تربیت گھر میں ہونا ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بچوں میں بڑھتے ہوئے موبائل فون کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی اولاد کو اس عادت سے حتی الامکان دور رکھیں۔
انہوں نے اپنے گھر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو موبائل فون نکاح کے بعد دیا۔
شاہد آفریدی کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا جہاں کچھ لوگوں نے ان کے مؤقف کی حمایت کی جبکہ بعض افراد نے اسے بہت سخت طرزِ فکر قرار دیا۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق شاہد آفریدی ہمیشہ خاندانی اقدار، مذہبی سوچ اور روایتی تربیت کے حوالے سے کھل کر گفتگو کرتے رہے ہیں، اسی لیے ان کا یہ بیان بھی فوری طور پر عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں موبائل فون بچوں کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، تاہم ان کے بے جا استعمال سے متعلق والدین کے خدشات بھی حقیقت پر مبنی ہیں۔
ان کے مطابق اصل مسئلہ موبائل فون دینا نہیں بلکہ اس کا غیر محدود اور غیر نگرانی شدہ استعمال ہے، کیونکہ یہی چیز بچوں کی ذہنی، تعلیمی اور سماجی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی کا بیان ایک سخت مثال ضرور ہے لیکن اس کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ والدین بچوں کی تربیت اور اسکرین ٹائم پر زیادہ توجہ دیں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین کی رائے اس معاملے پر تقسیم دکھائی دی۔ بعض افراد نے شاہد آفریدی کی سوچ کو سراہتے ہوئے کہا کہ “آج کے دور میں والدین کو واقعی بچوں کو موبائل کی لت سے بچانا چاہیے۔”
کئی صارفین نے لکھا کہ “اگرچہ موبائل مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن کم عمری میں اس کا زیادہ استعمال بچوں کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔”
دوسری جانب کچھ افراد نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کو مکمل طور پر موبائل سے دور رکھنا عملی طور پر ممکن نہیں، اس لیے اعتدال اور نگرانی زیادہ ضروری ہے۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
تعلیمی اور نفسیاتی ماہرین کے مطابق ابتدائی عمر میں بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسکرین ٹائم کا زیادہ استعمال بچوں کی توجہ، نیند اور سماجی رویوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے بچوں کو اس کے مثبت اور محفوظ استعمال کی تربیت دینا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق شاہد آفریدی کا بیان دراصل اسی بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے کی طرف اشارہ ہے جہاں والدین اور بچوں کے درمیان حقیقی وقت کم جبکہ اسکرین ٹائم زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔





















