کراچی: بادام نہ صرف ایک لذیذ اور غذائیت سے بھرپور خشک میوہ ہے بلکہ یہ دماغی صحت کے لیے بھی ایک طاقتور سپر فوڈ ثابت ہو رہا ہے۔ حالیہ سائنسی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ ایک مٹھی بادام کھانا نہ صرف دماغی خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے بلکہ بڑھاپے میں یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو بھی بہتر بناتا ہے۔ ماہرین غذائیات کے مطابق، بادام میں موجود وٹامن ای، اومیگا فیٹی ایسڈز، اینٹی آکسیڈنٹس، اور میگنیشیم دماغی صحت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
بادام اور دماغی صحت
بادام کو طویل عرصے سے غذائیت کا خزانہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ تحقیق نے اسے دماغی صحت کے لیے ایک غیر معمولی غذائی انتخاب کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ متعدد سائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ بادام میں موجود غذائی اجزا دماغی خلیوں کو آکسیڈیٹو تناؤ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، جو بڑھاپے میں دماغی کمزوری یا ڈیمینشیا جیسے امراض کا باعث بنتا ہے۔ وٹامن ای، جو ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے، دماغی خلیوں کو آزاد ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے بچاتا ہے۔ اسی طرح، اومیگا فیٹی ایسڈز دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں، جبکہ میگنیشیم اعصابی نظام کی صحت کو سہارا دیتا ہے۔
ایک مشاہداتی تحقیق، جو جرنل آف نیوٹریشن اینڈ ایجنگ میں شائع ہوئی، نے ظاہر کیا کہ جو افراد باقاعدگی سے بادام اور دیگر مغز جیسے اخروٹ کا استعمال کرتے ہیں، ان میں بڑھاپے میں یادداشت کی کمزوری اور علمی صلاحیتوں کے زوال کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں شامل 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ دیکھا گیا کہ جنہوں نے روزانہ 6 سے 10 بادام کھائے، ان کی دماغی کارکردگی، سیکھنے کی صلاحیت، اور فیصلہ سازی کی مہارت دیگر کے مقابلے میں بہتر تھی۔
ایک اور مطالعے کے مطابق، بادام میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس دماغ میں سوزش (inflammation) کو کم کرتے ہیں، جو الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ بادام کا باقاعدہ استعمال دماغی خلیوں کی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرتا ہے، جس سے بڑھاپے میں ذہنی چستی برقرار رہتی ہے۔
کتنی مقدار مناسب ہے؟
ماہرین غذائیات کے مطابق، روزانہ ایک مٹھی (تقریباً 6 سے 10 بادام) کھانا دماغی صحت کے لیے بہترین ہے۔ بھگوئے ہوئے بادام زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں، کیونکہ بھگونے سے ان کا چھلکا ہٹانا آسان ہو جاتا ہے، جو بعض اوقات ہاضمے کو متاثر کر سکتا ہے۔ بھگوئے ہوئے بادام میں موجود غذائی اجزا جسم میں بہتر طور پر جذب ہوتے ہیں، اور یہ دماغی صحت کے ساتھ ساتھ جلد، بالوں، اور مجموعی صحت کے لیے بھی مفید ہیں۔
ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ بادام کو ناشتے کے طور پر یا دوپہر کے وقت بطور سنیک استعمال کیا جائے۔ اسے سلاد، دہی، یا دلیے کے ساتھ ملا کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔ تاہم، زیادہ مقدار میں بادام کھانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو وزن بڑھنے کا باعث بن سکتی ہے۔
بادام کے دیگر فوائد
دماغی صحت کے علاوہ، بادام دل کی صحت، کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے، اور بلڈ شوگر کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ہے۔ اس میں موجود فائبر ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، جبکہ پروٹین اور صحت مند چکنائی توانائی کی سطح کو برقرار رکھتی ہے۔ یہ خصوصیات بادام کو ایک متوازن غذا کا اہم حصہ بناتی ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
بادام کے دماغی فوائد سے متعلق یہ خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، "بادام میرا پسندیدہ سنیک ہے، اور اب یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ دماغ کے لیے بھی اتنا مفید ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "ہر روز ایک مٹھی بادام کھانا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ ایک آسان طریقہ ہے بڑھاپے میں دماغی صحت کو بہتر بنانے کا۔” کچھ صارفین نے تجویز دی کہ پاکستانی گھرانوں میں بادام کو زیادہ سے زیادہ اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنانا چاہیے، خاص طور پر بچوں اور بزرگ افراد کے لیے۔
عملی مشورے
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بادام کو اپنی روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے قبل اسے رات بھر پانی میں بھگو دیں تاکہ اس کے غذائی فوائد زیادہ سے زیادہ حاصل کیے جا سکیں۔ بچوں کے لیے بادام کو پیس کر دودھ یا دہی میں ملا کر دیا جا سکتا ہے، جبکہ بڑوں کے لیے اسے ناشتے کے طور پر یا دوپہر کے سنیک کے طور پر استعمال کرنا بہتر ہے۔ وہ افراد جو گریوں سے الرجی کا شکار ہیں، انہیں بادام کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
بادام کے دماغی فوائد سے متعلق یہ تحقیق ایک اہم پیغام دیتی ہے کہ روزمرہ کی چھوٹی عادات ہماری طویل مدتی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایک مٹھی بادام جیسا آسان اور سستا حل نہ صرف دماغی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ڈیمینشیا اور الزائمر جیسے سنگین امراض کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ یہ پاکستانی گھرانوں کے لیے ایک خوشخبری ہے، جہاں بادام پہلے ہی روایتی طور پر ایک مقبول خشک میوہ ہے۔
تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ بادام کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے اسے ایک متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی کے ساتھ ملانا ضروری ہے۔ صرف بادام کھانا ہی کافی نہیں؛ باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، اور ذہنی تناؤ سے بچاؤ بھی دماغی صحت کے لیے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستانی مارکیٹ میں بادام کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے، کم آمدنی والے افراد کے لیے اسے روزانہ غذا کا حصہ بنانا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ حکومت اور غذائی اداروں کو چاہیے کہ وہ صحت مند غذاؤں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کریں، جیسے کہ مقامی سطح پر خشک میوہ جات کی پیداوار کو فروغ دینا۔
سوشل میڈیا پر اس خبر کی مقبولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اپنی صحت کے بارے میں زیادہ باخبر ہونا چاہتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں دماغی امراض کے بارے میں شعور ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، ایسی تحقیق عوام کو صحت مند عادات اپنانے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ اگر لوگ بادام کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنائیں، تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی صحت کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ قومی سطح پر صحت کے اخراجات کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ بادام جیسے سادہ حل کے ذریعے بڑھاپے میں ذہنی چستی کو برقرار رکھنا ایک ایسی حکمت عملی ہے جو ہر عمر کے افراد کو اپنانا چاہیے۔





















