گھر کی مرغی اب دال برابر نہیں، سونے سے بھی مہنگی ہوگئی

نایاب سیاہ مرغی کی قیمت 17 لاکھ روپے، ایک انڈا بھی ہزاروں میں فروخت

جکارتہ (ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)دنیا بھر میں نایاب جانوروں اور پرندوں کے شوقین افراد کیلئے حیران کن خبر سامنے آئی ہے جہاں انڈونیشیا کی ایک منفرد نسل کی مرغی کی قیمت سونے سے بھی مہنگی ہو گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کی نایاب نسل Ayam Cemani دنیا کی مہنگی ترین مرغیوں میں شمار کی جاتی ہے، جس کی قیمت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 17 لاکھ روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ اس کا ایک انڈا بھی ہزاروں روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

اس نسل کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کا مکمل کالا رنگ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مرغی کے صرف پر ہی نہیں بلکہ چونچ، گوشت، زبان، جلد حتیٰ کہ ہڈیاں بھی سیاہ دکھائی دیتی ہیں۔

پولٹری ماہرین کے مطابق اس منفرد رنگ کی وجہ ایک نایاب جینیاتی تبدیلی (Genetic Mutation) ہے، جسے “فائبرو میلانوسس” کہا جاتا ہے۔ یہی جین اس نسل کو دنیا بھر کی عام مرغیوں سے منفرد بناتا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایشیا کے بعض علاقوں میں اس نسل کو خوش قسمتی، طاقت اور روحانی برکت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی لیے شوقین افراد اسے بھاری قیمت میں خریدنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایام سیمانی کی افزائش انتہائی محدود ہے، اور خالص نسل کا حصول بہت مشکل سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث اس کی قیمت عام مرغیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس نایاب سیاہ مرغی کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین اسے “گولڈن چکن” اور “بلیک گولڈ” جیسے دلچسپ نام دے رہے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق دنیا بھر میں نایاب جانوروں اور پرندوں کی خرید و فروخت اب صرف شوق تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک مہنگا عالمی کاروبار بن چکا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ایام سیمانی جیسی نایاب نسلیں لوگوں کیلئے اسٹیٹس سمبل بنتی جا رہی ہیں، جہاں قیمت سے زیادہ “منفرد ہونے” کی اہمیت دیکھی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو مزید بڑھایا ہے کیونکہ وائرل تصاویر اور ویڈیوز لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ کرتی ہیں۔

ان کے مطابق مستقبل میں نایاب نسلوں کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں کیونکہ دنیا بھر میں ایکزوٹک پالتو جانوروں اور پرندوں کا شوق تیزی سے پھیل رہا ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا صارفین اس خبر پر حیران رہ گئے۔ بعض افراد نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ “اب مرغی نہیں بلکہ بینک بیلنس پالنا پڑے گا۔”

کئی صارفین نے اس مرغی کو “سونے کی مرغی” قرار دیا جبکہ کچھ نے سوال اٹھایا کہ آخر ایک مرغی کی قیمت اتنی زیادہ کیوں ہے۔

دوسری جانب پولٹری شوقین افراد نے اس نسل کی خوبصورتی اور انفرادیت کو سراہا۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق نایاب نسلوں کی قیمت کا تعلق ان کی محدود دستیابی، جینیاتی خصوصیات اور عالمی مانگ سے ہوتا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایام سیمانی جیسی نسلیں دنیا بھر میں Exotic Poultry Market کا اہم حصہ بن چکی ہیں، جہاں شوقین افراد لاکھوں روپے خرچ کرنے کیلئے بھی تیار رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ نسل صرف ظاہری انفرادیت ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور روحانی عقائد کی وجہ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

آپ کے خیال میں کیا کسی مرغی کی قیمت لاکھوں روپے ہونا واقعی حیران کن ہے یا نایاب چیزوں کی یہی قیمت ہوتی ہے؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین