بس، ٹینکر اور موٹر سائیکل میں تصادم، 76 ہلاکتیں

یہ حادثہ بس کی تیز رفتار اور ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا

ایک دلخراش ٹریفک حادثے میں 17 بچوں سمیت 76 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔

تفصیلات کے مطابق ایران سے واپس لوٹنے والے مہاجرین کو لے کر جا رہی ایک بس افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں ایک آئل ٹینکر اور موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 17 بچوں سمیت 76 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بس کی تیز رفتار اور ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا، تصادم کے بعد بس میں آگ لگ گئی، جس سے بس میں سوار تمام افراد، آئل ٹینکر میں سوار دو اور موٹر سائیکل سوار دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ہرات کی صوبائی حکومت کے ترجمان محمد یوسف سعیدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ بس میں وہ افغان شہری سوار تھے جو حال ہی میں ایران سے واپس آئے تھے اور کابل جا رہے تھے۔

یہ افراد ان ہزاروں افغانوں میں شامل ہیں جنہیں حالیہ مہینوں میں ایران سے زبردستی نکالا گیا یا ملک بدر کیا گیا۔

ترجمان ہرات حکومت یوسف سعیدی نے بتایا کہ تمام مسافر مہاجر تھے جو اسلام قلعہ سے بس میں سوار ہوئے تھے، اسلام قلعہ ایران اور افغانستان کے درمیان ایک سرحدی کراسنگ پوائنٹ ہے۔

پولیس کے مطابق، حادثہ ہرات شہر کے باہر گزرہ ضلع میں پیش آیا اور اس میں ایک موٹر سائیکل بھی حادثے کا شکار ہوئی، دو افراد ٹرک میں اور دو موٹر سائیکل پر سوار تھے جو جان کی بازی ہار گئے۔

افغانستان میں ٹریفک حادثات عام ہیں، جس کی وجوہات میں دہائیوں کی جنگ کے باعث خستہ حال سڑکیں، ہائی ویز پر خطرناک ڈرائیونگ اور قوانین کی کمی شامل ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں بھی افغانستان کے وسطی علاقے میں ایک فیول ٹینکر اور ٹرک سے دو بسوں کے تصادم میں کم از کم 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تفصیلی تجزیہ

سینئر تجزیہ نگار محمد کاشف جان کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے جو نہ صرف ٹریفک کی حفاظت کی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ افغان مہاجرین کی کمزور صورتحال اور علاقائی جبری ہجرت کے مسائل کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ آئیے اسے مختلف پہلوؤں سے تفصیلاً دیکھتے ہیں:

خبر کے مطابق، حادثہ بس کی تیز رفتار اور ڈرائیور کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا، جس کے نتیجے میں بس ایک آئل ٹینکر اور موٹر سائیکل سے ٹکرائی۔ تصادم کے بعد آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جو ایسے حادثات میں عام ہے جہاں ایندھن کی گاڑیاں شامل ہوں۔ ہلاک ہونے والوں میں بس کے تمام مسافر (جو مہاجر تھے)، ٹینکر کے دو سوار اور موٹر سائیکل کے دو افراد شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد 76 سے زائد ہے، اور ان میں 17 بچے بھی تھے۔ یہ واقعہ ہرات شہر کے باہر گزرہ ضلع میں پیش آیا، جو ایران کی سرحد سے قریب ہے۔ اسلام قلعہ سرحدی پوائنٹ سے شروع ہونے والا یہ سفر کابل کی طرف تھا، جو مہاجرین کی واپسی کے روٹین راستوں میں سے ایک ہے۔ اس طرح کے حادثات میں آگ لگنے کا عنصر ہلاکتوں کو مزید بڑھا دیتا ہے، کیونکہ پرانی بسوں میں حفاظتی معیارات کم ہوتے ہیں۔

حادثے کے شکار افراد ایران سے جبری طور پر واپس لائے گئے افغان مہاجر تھے، جو حالیہ مہینوں میں ہزاروں کی تعداد میں ڈیپورٹ کیے جا رہے ہیں۔ ایران میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد (لاکھوں) ہے، جو اقتصادی مواقع یا جنگ سے بچنے کے لیے وہاں جاتے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ایران کی اقتصادی پریشانیوں اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے ڈیپورٹیشن کی شرح بڑھ گئی ہے۔ اسلام قلعہ سرحدی پوائنٹ ایک اہم گیٹ وے ہے، جہاں سے یہ مہاجر افغانستان واپس آتے ہیں اور اکثر کم وسائل کے ساتھ طویل سفر کرتے ہیں۔ یہ حادثہ ان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے: وہ نہ صرف ڈیپورٹیشن کے صدمے سے گزر رہے ہوتے ہیں بلکہ غیر محفوظ ٹرانسپورٹ کا استعمال بھی کرتے ہیں، جو سستی اور دستیاب ہوتی ہے لیکن حفاظتی معیارات سے محروم ہوتی ہے۔ یہ واقعہ مہاجرین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے، کیونکہ زبردستی واپسی انہیں مزید خطرات میں ڈال دیتی ہے۔

افغانستان میں ایسے حادثات کوئی نئی بات نہیں، جیسا کہ خبر میں ذکر ہے۔ دہائیوں کی جنگ نے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے: سڑکیں خستہ حال ہیں، ہائی ویز پر دیکھ بھال کی کمی ہے، اور ٹریفک قوانین کی پابندی نہ ہونے کے برابر ہے۔ خطرناک ڈرائیونگ، جیسے اوور سپیڈنگ اور لاپرواہی، عام ہے، خاص طور پر لمبے راستوں پر جہاں ڈرائیور تھک جاتے ہیں۔ خبر میں گزشتہ سال دسمبر کے ایک اور حادثے کا حوالہ دیا گیا ہے، جہاں وسطی افغانستان میں فیول ٹینکر اور ٹرک سے دو بسوں کے تصادم میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ موازنہ بتاتا ہے کہ ایندھن کی گاڑیوں سے تصادم کے نتیجے میں آگ لگنے والے حادثات بار بار ہوتے ہیں، اور ہلاکتوں کی شرح بلند ہوتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، افغانستان میں روڈ ٹریفک کی ہلاکتیں عالمی اوسط سے زیادہ ہیں، جو غربت، تعلیم کی کمی اور نفاذ قوانین کی کمزوری کی وجہ سے ہیں۔ ہرات جیسے مغربی صوبوں میں، جو ایران کی سرحد سے ملحق ہیں، ٹریفک کا حجم زیادہ ہے کیونکہ یہ تجارتی اور مہاجر راستے ہیں، جو خطرات کو بڑھاتا ہے۔

یہ حادثہ نہ صرف خاندانوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے بلکہ افغانستان کی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بھی بوجھ ڈالتا ہے، جہاں پہلے ہی طالبان کی حکومت کے بعد امدادی کام پیچیدہ ہیں۔ مہاجرین کی واپسی ملک پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے، جہاں بے روزگاری اور غذائی عدم تحفظ عام ہے۔ تجاویز کے طور پر، حکومت کو سڑکوں کی مرمت، ٹریفک قوانین کا سخت نفاذ، اور ڈرائیوروں کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ بین الاقوامی تنظیموں جیسے UNHCR کو مہاجرین کی محفوظ واپسی اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔ ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر ڈیپورٹیشن کی شرح کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زبردستی واپسی کم ہو۔ مجموعی طور پر، یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ جنگ زدہ ممالک میں ٹریفک حفاظت انسانی حقوق کا حصہ ہے، اور اسے نظر انداز کرنے سے المیے بڑھتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین