منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کا سیلاب سے متاثرہ بچوں کیلئے بڑا اعلان

سوات بونیر ،گلگت میں سیلابوں میں یتیم ہونے والے بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت اپنے ذمہ لے لی

لاہور:منہاج ویلفیئر فائونڈیشن نے بونیر، سوات اور گلگت میں سیلاب اور طوفانی بارشوں کے باعث یتیم ہونے والے بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا باضابطہ اعلان 23اگست 2025ء بروز(ہفتہ) بونیر میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور ،ڈائریکٹر آپریشنز منہاج ویلفیئر فائونڈیشن انجینئر ثناء اللہ خان بشنوئی میں کریں گے۔ خرم نواز گنڈاپور آج کل متاثرہ علاقوں میں منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کے ہمراہ ریلیف سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔

انجینئر محمد ثناء اللہ نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کے مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ایک بڑی مقامی آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ہزار ہا نفوس جن میں بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مرکزی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب تک متاثرین کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں انہیں پکا پکایا کھانا دیا جاتا رہے گا اور جب یہ متاثرین اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو انہیں ایک ماہ کا راشن دینے کے ساتھ ساتھ ضروری گھریلو سامان بھی دیا جائے گا کیونکہ ان کا تمام سامان سیلاب میں بہہ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کی طرف سے زخمیوں کیلئے طبی امداد کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر زخمیوں کو طبی امداد اور مفت ادویات دی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی شہری یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے متاثرہ بھائیوں کی ہر ممکن مدد کے لئے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2005ء میں قیامت خیز زلزلہ کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے یتیم ہونے والے بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کا اعلان کیا تھا الحمداللہ آج کے دن تک شیخ الاسلام کے وعدے پر عمل ہورہا ہے اور اس کے لئے آغوش آرفن کیئر ہوم کی سٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ تعمیر کی گئی تھی جہاں آج بھی یتیم بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2005ء کے زلزلے میں یتیم ہونے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد آغوش آرفن کیئر ہوم میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد مختلف شعبہ جات میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہی ہے اور اب وہ یتیم بچے یتیم نہیں رہے بلکہ اب وہ دوسروں کی کفالت کرنے کے اہل ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جو وعدہ کرتے ہیں وہ پورا کرتے ہیں۔ یتیموں کی کفالت اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ الحمداللہ ہم ڈونرز کی پائی پائی خدمت خلق کے کاموں میں صرف کرنے کا دستاویزی ریکارڈ رکھتے ہیں۔

تجزیہ نگار محمد کاشف جان کا کہنا ہے کہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے اعلان کردہ اقدامات ایک انتہائی قابل ستائش اور انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال ہیں، جو پاکستان کے شمالی علاقوں جیسے بونیر، سوات اور گلگت میں قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو امید کی کرن فراہم کرتے ہیں۔ یہ اعلان، جو 23 اگست 2025 کو بونیر میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور اور ڈائریکٹر آپریشنز انجینئر ثناء اللہ خان کی جانب سے کیا جائے گا، نہ صرف یتیم بچوں کی تعلیم، تربیت اور کفالت کا وعدہ کرتا ہے بلکہ یہ ایک جامع ریلیف پیکیج کا حصہ ہے جو متاثرین کی فوری اور طویل مدتی ضروریات کو پورا کرنے پر مرکوز ہے۔ اس تجزیے میں، ہم اس اقدام کی اہمیت، اس کے مثبت اثرات، ماضی کی کامیابیوں اور مجموعی طور پر معاشرتی فائدے پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ایک تنظیم کی مخلصانہ کوششیں قومی سطح پر تبدیلی لا سکتی ہیں۔

سب سے پہلے، اس اعلان کی بروقت اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے، حالیہ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے شدید متاثر ہوا ہے۔ بونیر، سوات اور گلگت جیسے علاقوں میں ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اور بچے، بزرگ اور خواتین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ انجینئر محمد ثناء اللہ خان کے بیان کے مطابق، سیلاب کی تباہی کے مناظر دل کو چیرنے والے ہیں، اور ایک بڑی آبادی کا سامان بہہ چکا ہے۔ ایسے میں، منہاج ویلفیئر فائونڈیشن کا یہ قدم نہ صرف فوری ریلیف فراہم کرتا ہے بلکہ یہ ایک پائیدار حل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یتیم بچوں کی کفالت کا اعلان، جو سیلاب کی وجہ سے اپنے سرپرستوں سے محروم ہو چکے ہیں، ایک انسانی اور اسلامی فرض کی ادائیگی ہے۔ یہ اقدام بچوں کو تعلیم اور تربیت دے کر انہیں خودمختار بنانے کا وعدہ کرتا ہے، جو معاشرے کی تعمیر نو میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ نہ صرف بچوں کی زندگیاں بچاتا ہے بلکہ انہیں مستقبل کے لیے تیار کرتا ہے، جو قومی ترقی کا باعث بنے گا۔
اس اقدام کی ایک اور قابل تعریف خصوصیت اس کا جامع ریلیف پلان ہے۔ فائونڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ جب تک متاثرین کھلے آسمان کے نیچے ہیں، انہیں پکا پکایا کھانا دیا جائے گا۔ جب وہ گھروں کو لوٹیں گے تو ایک ماہ کا راشن اور ضروری گھریلو سامان فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، زخمیوں کے لیے طبی امداد اور مفت ادویات کا بندوبست روزانہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ یہ پلان نہ صرف فوری ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ یہ بحالی کے مرحلے کو بھی مدنظر رکھتا ہے، جو اکثر قدرتی آفات کے بعد نظر انداز ہو جاتا ہے۔ خرم نواز گنڈاپور کی نگرانی میں جاری ریلیف سرگرمیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تنظیم عملی طور پر میدان میں ہے، جو اس کی شفافیت اور کارکردگی کو نمایاں کرتی ہے۔ مثبت طور پر، یہ رویکرد متاثرین کو احساس دلاتی ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں، اور یہ معاشرتی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی، جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ایسے اقدامات کی حمایت کریں، اور فائونڈیشن اس فرض کی زندہ مثال پیش کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین