اندرونی سیاست نے بابر اور رضوان کو پیچھے دھکیل دیا، راشد لطیف

بابر اور رضوان نے اپنے کیریئر میں کئی میچز میں ٹیم کو مشکل حالات سے نکالا ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے دو عظیم ستاروں، بابر اعظم اور محمد رضوان کے ایشیا کپ 2025 کے اسکواڈ سے اخراج نے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سابق کپتان راشد لطیف نے اس فیصلے کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی اندرونی سیاست کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کھیل سے زیادہ سیاسی عزائم کا عکاس ہے۔ انہوں نے بابر اعظم کی دوبارہ کپتانی کو ان کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا اور پی سی بی کی مینجمنٹ پر کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی کا الزام عائد کیا۔ 

اندرونی سیاست کا شاخسانہ

سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے خلیج ٹائمز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بابر اعظم اور محمد رضوان کے ایشیا کپ سے اخراج کو پی سی بی کی اندرونی سیاست سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن انہیں ٹیم سے باہر کرنے کا فیصلہ محض کرکٹنگ معیارات پر مبنی نہیں بلکہ بورڈ کے اندر جاری سیاسی کھینچا تانی کا نتیجہ ہے۔ راشد لطیف نے زور دیا کہ یہ دونوں کھلاڑی پاکستان کے سب سے باصلاحیت بلے باز ہیں، اور انہیں نظرانداز کرنا قومی ٹیم کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

بابر اعظم کی سب سے بڑی غلطی

راشد لطیف نے ورلڈ کپ 2024 کے لیے بابر اعظم کی دوبارہ کپتانی کو ان کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے نے بابر کی بیٹنگ پر منفی اثرات مرتب کیے، اور وہ اپنی پرانی فارم میں واپس نہ آ سکے۔ ورلڈ کپ 2024 میں پاکستان ٹیم کی گروپ مرحلے میں ناکامی اور امریکا کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد بابر نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کی بیٹنگ اوسط 28.73 تک گر گئی، جو ان کے شاندار کیریئر کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ راشد لطیف نے کہا کہ کپتانی کا دباؤ اور پی سی بی کی مسلسل تنقید نے بابر کے اعتماد کو متاثر کیا۔

ناانصافی یا حقیقت؟

راشد لطیف نے بابر اعظم کے اسٹرائیک ریٹ پر ہونے والی تنقید کو ناانصافی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں اسٹرائیک ریٹ ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بلکہ کھیل کی گہری سمجھ اور حالات کے مطابق حکمت عملی زیادہ اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بابر اور رضوان نے اپنے کیریئر میں کئی میچز میں ٹیم کو مشکل حالات سے نکالا ہے، اور ان کی صلاحیتوں پر سوال اٹھانا غیر منصفانہ ہے۔ راشد نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں، جب پاکستان ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے، ان جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کو کنارے کرنا ناقابل فہم ہے، کیونکہ "ہمارے پاس کوئی ڈان بریڈمین نہیں ہے۔”

پی سی بی کی مینجمنٹ پر تنقید

راشد لطیف نے پی سی بی کی مینجمنٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے اندر جاری سیاسی جوڑ توڑ نے بابر اور رضوان جیسے کھلاڑیوں کے ذہنی سکون کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر موجودہ کوچ مائیک ہیسن کے کردار پر سوال اٹھایا، جو 2023 سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ سے وابستہ ہیں۔ راشد نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کا اثر پی سی بی کے فیصلوں پر حاوی ہے، جو کھلاڑیوں کے انتخاب اور مینجمنٹ کے فیصلوں میں واضح دکھائی دیتا ہے۔

راشد لطیف کا پیغام

راشد لطیف نے پرامید انداز میں کہا کہ بابر اعظم اپنی موجودہ مشکلات پر قابو پا کر دوبارہ دنیا کے بہترین بلے بازوں میں شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں غیر ضروری دباؤ اور سیاسی مداخلت سے آزاد ماحول فراہم کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ بابر اور رضوان دونوں ہی پاکستان کرکٹ کے اثاثے ہیں، اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پی سی بی کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

پس منظر

بابر اعظم اور محمد رضوان گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اہم ستون رہے ہیں۔ بابر اعظم، جو کبھی دنیا کے نمبر ایک ٹی ٹوئنٹی بلے باز تھے، نے اپنی مستقل مزاجی اور تکنیک سے عالمی شہرت حاصل کی۔ محمد رضوان، اپنی شاندار وکٹ کیپنگ اور دباؤ میں رنز بنانے کی صلاحیت کے ساتھ، ٹیم کے لیے ناگزیر رہے ہیں۔ تاہم، ورلڈ کپ 2024 کی ناکامی کے بعد دونوں کھلاڑی تنقید کی زد میں رہے۔ بابر کی کپتانی سے استعفیٰ اور ان کی گرتی ہوئی بیٹنگ اوسط نے ان کے کیریئر پر سوالیہ نشان لگا دیا، جبکہ رضوان کے اسٹرائیک ریٹ پر مسلسل تنقید کی جاتی رہی۔ ایشیا کپ 2025 کے لیے ان کے اخراج نے پاکستانی کرکٹ شائقین میں مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے، اور سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

راشد لطیف کا یہ بیان پاکستانی کرکٹ کے موجودہ بحران کو اجاگر کرتا ہے، جہاں کھیل سے زیادہ اندرونی سیاست اور گروپ بندی غالب دکھائی دیتی ہے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے کھلاڑیوں کا اخراج، جو اپنی صلاحیتوں کی بدولت عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، نہ صرف ٹیم کی کارکردگی بلکہ شائقین کے اعتماد پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ راشد لطیف کا یہ دعویٰ کہ پی سی بی میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا اثر غالب ہے، ایک سنگین الزام ہے جو پاکستانی کرکٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔

بابر اعظم کی کپتانی سے متعلق راشد لطیف کا بیان درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ورلڈ کپ 2024 میں کپتانی کا دباؤ واضح طور پر ان کی بیٹنگ پر اثر انداز ہوا۔ تاہم، ان کے اسٹرائیک ریٹ پر تنقید کو مکمل طور پر مسترد کرنا بھی مناسب نہیں۔ موجودہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جارحانہ انداز کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اور بابر کو اپنی بیٹنگ میں اس پہلو کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ رضوان کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے، جن کی دفاعی بیٹنگ بعض اوقات ٹیم کی جیت کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔

تاہم، ان دونوں کھلاڑیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا پاکستانی کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ (آٹھویں نمبر) اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیم کو تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ راشد لطیف کا یہ مشورہ کہ بابر اور رضوان کو سیاست سے آزاد ماحول دیا جائے، قابل غور ہے۔ پاکستانی کرکٹ کو اس وقت استحکام اور شفاف فیصلوں کی ضرورت ہے، نہ کہ گروپ بندی اور غیر ضروری تنقید کی۔

یہ معاملہ پی سی بی کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنی سلیکشن پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور کھلاڑیوں کو ان کی صلاحیتوں کی بنیاد پر مواقع فراہم کرے۔ بابر اور رضوان جیسے کھلاڑیوں کی واپسی نہ صرف ٹیم کی کارکردگی بہتر کر سکتی ہے بلکہ شائقین کے اعتماد کو بھی بحال کر سکتی ہے۔ راشد لطیف کا بیان ایک آئینہ ہے جو پی سی بی کو اپنی خامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر پاکستانی کرکٹ کو عالمی سطح پر دوبارہ عزت حاصل کرنی ہے تو اسے اپنے بہترین کھلاڑیوں کی قدر کرنی ہوگی اور اندرونی سیاست کو کھیل سے دور رکھنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین